شمالی کوریا نے ایٹمی دھماکے کے بعد ایک اور انتہائی خطرناک ہتھیار کا کامیاب تجربہ کرلیا، ایسا ہتھیار کہ امریکہ سب سے زیادہ پریشان ہوگیا

شمالی کوریا نے ایٹمی دھماکے کے بعد ایک اور انتہائی خطرناک ہتھیار کا کامیاب ...
شمالی کوریا نے ایٹمی دھماکے کے بعد ایک اور انتہائی خطرناک ہتھیار کا کامیاب تجربہ کرلیا، ایسا ہتھیار کہ امریکہ سب سے زیادہ پریشان ہوگیا

  

پیانگ ینگ(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ماہ شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا تھا جس پر جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ سمیت اس کے تمام مخالفین پریشان ہو گئے تھے۔ اب شمالی کوریا نے ایک ایسا تجربہ کر لیا ہے جس سے خاص طور پر امریکہ انتہائی خوفزدہ ہو گیاہے۔ اب کی بار شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک راکٹ کو خلاء میں بھیجنے کاکامیاب تجربہ کر ڈالا ہے۔ امریکہ اس خوف میں مبتلا ہو گیا ہے کہ شمالی کوریا اس تجربے کے ذریعے ایسا طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل بنانے جا رہا ہے جس سے امریکی سرزمین پر حملہ کیا جا سکے۔ شمالی کوریا نے اس راکٹ تجربے کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ نے کامیابی سے ایک سیٹلائٹ کو زمین کے مدار تک پہنچایا۔

شمالی کورین حکام کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کے تجربات جاری رکھیں گے۔شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راکٹ خلاء میں بھیجنے کے احکامات کم جون انگ نے دیئے تھے جو شمالی کوریا کے مطلق العنان حکمران ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے حسب معمول شمالی کوریا کے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

امریکہ سکیورٹی ایڈوائزر سوزان رائس نے شمالی کوریا کے لیے ایک سخت وارننگ جاری کی ہے کہ ”اس طرح کے غیرمحتاط اقدامات سنگین نتائج کے متحمل ہوں گے۔“برطانوی اخبار”ڈیلی سٹار“ کے مطابق شمالی کوریا کا یہ راکٹ جاپان کے جزیرے اوکیناوا(Okinawa) کے اوپر سے ہوتا ہوا خلاء میں گیا لیکن ٹریس ہو جانے کے باوجود اسے مارگرانے کے لیے کوئی اینٹی میزائل ہتھیار استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا نے اس راکٹ میں پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں (Patriot missile batteries) استعمال کی تھی جو راکٹ کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں پوری قوت کے ساتھ جاپانی سرزمین پر گرتی اور اس سے تباہی ہو سکتی تھی۔ واضح رہے کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف سے ہنگامی طور پر ایک اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا کو اس طرح کے اقدامات سے باز رکھنے کے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی