وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔۔۔آخری قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔۔۔آخری قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔۔۔آخری قسط

  

اسامہ اور عمارہ ، ساحل اور عارفین کوڈھونڈتے ڈھونڈتے ان تک آپہنچے۔

’’اوہ میرے خدیا۔۔۔ان کی تو حالت تو بہت خراب ہے۔‘‘ عمارہ نے ساحل اور عارفین کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جن کے جسموں پر کپکپی طاری تھی۔ گیلے کپڑوں کے باعث ان کا جسم مزید ٹھنڈا پڑرہا تھا۔ ہونٹ نیلے ہوگئے تھے۔

’’انہیں کسی طرح ریسٹ ہاؤس تک لے جانا ہوگا ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتاہے۔‘‘

عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جو خود بمشکل چل کر یہاں تک آیا تھا۔ اس کی کمر اور ٹانگ میں تکلیف تھی۔

’’تم اکیلی انہیں کس طرح لے جاؤ گی۔۔۔میں ادھر ہی آگ جلا دیتا ہوں۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’ع۔۔۔ع۔۔۔عمارہ بس تھوڑا سا سہارا دے دے ہم خود چل کر جا سکتے ہیں۔‘‘ اس نے سہارا دے کر ساحل کو کھڑا کیا اور پھر ساحل عمارہ کا سہارا لیتے ہوئے آہستہ آہستہ چل کر ریسٹ ہاؤس تک چلا گیا۔ اسے ریسٹ ہاؤس کے کمرے میں بٹھا کے عمارہ نے ایک گرم کمبل اسے اوڑھا دیا اور پھر عارفین کو لانے کے لیے دوبارہ دوڑتی ہوئی ریسٹ ہاؤس سے باہر بھاگی۔

اسامہ عارفین کے پاس بیٹھا اس کے ہاتھ مل رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمارہ وہاں تک پہنچ گئی۔۔۔وہ بہت تیز بھاگ کر آئی تھی۔۔۔اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ اس نے عارفین کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور پھر عارفین بھی ساحل کی طرح عمارہ کا سہارا لے کرآہستہ آہستہ ریسٹ ہاؤس تک پہنچ گیا۔ اسامہ بھی لنگڑا کر چلتا ہوا ان کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس تک آگیا۔

عمارہ نے ان دونوں کو ہال نما بڑے کمرے میں آتش دان کے قریب بٹھایا۔

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔۔۔قسط نمبر 69پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسامہ نے جلدی سے آتش دان میں آگ لگا دی۔ ریسٹ ہاؤس اب اپنی پرانی حالت میں تھا۔۔۔کھنڈر نما۔۔۔دھول و مٹی سے اٹکا ہوا۔

آگ ٹھیک طرح سے لگ گئی تو اسامہ نے عمارہ سے کہا’’جلدی سے ان کے گرم کپڑے نکالو۔‘‘

عمارہ نے بیگ سے ان دونوں کے گرم کپڑے اور جرسیاں نکالیں۔ اس نے دو پینٹ شرٹس اور دو جرسیاں اسامہ کو دیں اور خود کمرے سے باہر صحن میں چلی گئی۔اسامہ نے ساحل اور عارفین کو کپڑے دیئے’’ادھر آگ کے قریب اپنے کپڑے بدل لو۔‘‘

ان دنوں نے اپنے کپڑے بدل لیے اسامہ نے ان کے گیلے کپڑے کرسیوں پر پھیلا دیئے۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ان دونوں کو کافی سکون ملا تھا۔ وہ ٹھٹھرتے ہوئے آگے کے قریب بیٹھ گئے۔

’’عمارہ۔۔۔‘‘ اسامہ نے عمارہ کو آواز دی۔ عمارہ اندر آئی تو اسامہ نے اس سے تولیہ مانگا۔

عمارہ نے اسامہ کو تولیہ پکڑایا۔ اسامہ نے تولیہ لیا اور ساحل اور عارفین کے بال خشک کرنے لگا۔ عمارہ بھی ان دونوں کے قریب بیٹھ گئی’’اب کچھ بہتر محسوس کر رہے ہو۔۔۔‘‘

عمارہ نے ساحل اور عارفین سے پوچھا۔۔۔دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’حیرت کی بات ہے تم دونوں جھیل سے باہر نکلے کیسے۔ تمہیں تو تیراکی نہیں آتی۔‘‘

عمارہ نے ساحل سے پوچھا تو ساحل کی جگہ اسامہ بولا’’یہ سوال جواب کا وقت نہیں ہے۔ اس وقت ان سے کچھ مت پوچھا۔ کسی طرح سے ان دونوں کے لیے چائے بن جائے تو ان دونوں کو کافی سکون ملے گا۔‘‘

’’میرے پاس چائے کا سارا سامان ہے مگر پکاؤں گی کیسے؟‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’ساس پین تو ہے نا؟‘‘ اسامہ نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘ عمارہ نے جواب دیا۔

’’تم ایسا کرو کہ صحن میں کچھ اینٹیں رکھو۔ میں یہاں سے لکڑیاں لے آتا ہوں۔‘‘ اسامہ کی بات سنتے ہی عمارہ صحن میں چلی گئی اس نے اینٹوں کا چولہا بنایا اور ساس پین میں دودھ اور پانی ملا کر ایک طرف کھ دیا۔

اتنی دیرمیں اسامہ لکڑیاں لے آیا اور لکڑیوں میں آگ بھڑکا دی۔

عمارہ نے چائے بنائی اورٹرے میں کپ رکھ کے ساحل اور عافین کے پاس چلی گئی۔ اسامہ بھی اس کے پیچھے پیچھے ساحل اور عارفین کے پاس آگیا۔

اسامہ نے ان دونوں کو چائے دی اور خود بھی ان کے قریب بیٹھ گیا۔ عمارہ بھی اپنا کپ لے کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔

’’ساحل! تم اور عارفین بہت بہادر ہو ۔تمہاری ہمت کی وجہ سے ہم اپنا عمل مکمل کر پائے۔ ہم نے ان شیطان ہمزاد کا خاتمہ کر دیا ہے اب ہم اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سنائیں گے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

مگر ساحل کی آنکھیں آنسوؤں سے جھلملا رہی تھیں۔ ’’ان لوگوں کو یہ بھی بتا دینا کہ ہم خیام، فواد۔۔۔وشاء اور حوریہ کی قبریں بھی دیکھ کر آئے ہیں۔‘‘

اسامہ نے ساحل کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ ساحل اس کے کندھے سے سر لگاکے رونے لگا۔ ساحل کو اس طرح دیکھ کر سب اداس ہو گئے۔

ؔ ’’اگر ان دونوں کی حالت ٹھیک ہوتی تو ہم ابھی سفر پرروانہ ہو جاتے مگر ان دونوں کی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’یہ دونوں پہلے سے بہتر ہیں اور ویسے بھی گاڑی میں سردی نہیں لگتی۔ ایک دو گھنٹہ پہلے آرام کرتے ہیں پھر گھر کے لیے روانہ ہوں گے۔ تم تیاری مکمل کر لو۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’تھوڑی بہت چیزیں پیک کرنی ہیں اس میں اتنا وقت نہیں لگے گا مجھے تو تم تینوں کی فکر ہے۔۔۔تم تینوں فٹ نہیں ہو۔‘‘ عمارہ نے بڑی سی شال اوڑھتے ہوئے کہا۔

’’ہم ٹھیک ہیں۔۔۔تم ہماری فکر نہ کرو۔‘‘ اسامہ نے عمارہ کو ایک بار پھر تسلی دی۔

اسامہ نے آتش دان کے سامنے ایک گدا بچھا دیا اور ایک کمبل کو موڑ کر اس کا تکیہ سا بنا دیا اور پھر ساحل سے کہا’’تم اور عارفین لیٹ جاؤ۔‘‘

’’ہم ٹھیک بیٹھے ہیں۔‘‘ ساحل نے جواب دیا۔

’’ہم نے سفر کرنا ہے ، تم دونوں آرام کر لو۔‘‘ اسامہ نے پھر زور دیا۔

ساحل اور عارفین گدے پر لیٹ گئے۔ اسامہ نے ان پر کمبل ڈال دیا اور پھر وہ عمارہ کے قریب آیا’’تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔ایک ضروری کام کرنا ہے۔‘‘

’’اب ایسا کون سا کام ہے۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے حیرت سے پوچھا۔

’’باہر صحن میں آؤ۔۔۔میں سمجھاتا ہوں۔ ‘‘ اسامہ نے کہا۔

عمارہ اس کے ساتھ باہر صحن میں چلی گئی۔

’’اب بتاؤ۔۔۔ کون سا کام ہے۔۔۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’ہم نے شیطانوں کو تو ختم کردیا ہے۔ ۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ اس غلاظت کو بھی جلا ڈالیں جنہیں زرغام کالے جادو میں استعمال کرتا تھا۔‘‘

اسامہ نے تہہ خانے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں۔۔۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ہمیں وہ سب ناپاک چیزیں جلادینی چاہئیں تاکہ کوئی اور اس شیطانی علم کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ تہہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھی جو ٹوٹ کر ایک طرف گرا ہوا تھا۔ وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گئی۔

اسامہ بھی آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔اس نے اور عمارہ نے ساری غلاظت اکٹھی کرکے ایک بوری میں ڈالی۔ عمارہ نے کالے جادو کی کتابیں بھی اس بوری میں ڈال دیں۔ اسامہ خود مشکل سے چل رہا تھا اس لیے عمارہ اس بوری کو اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔اسامہ ابھی تہہ خانے میں ہی تھا تو عمارہ صحن میں بوری رکھ کے واپس بھی آگئی۔اسامہ اور عمارہ نے وشاء ، حوریہ ، فواد اور خیام کی قبروں کے قریب کھڑے ہو کر سورۃ فاتحہ پڑھی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور پھر واپس اوپر صحن میں آگئے۔

اسامہ نے غلاظت سے بھری اس بوری کو آگ لگا دی۔عمارہ پیکنگ کرنے لگی۔ جب روانگی کی ساری تیاری مکمل ہوگئی تو اسامہ نے ساحل اور عارفین کو جگایا۔وہ دونوں بھی تیار ہوگئے۔ جب سامان اٹھا کر سب ریسٹ ہاؤ س سے باہر جانے لگے تو ساحل نے عمارہ سے کہا’’ایک بار وشاء کی قبر دیکھ لوں۔‘‘

عمارہ نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر اسامہ سے کہا’’تم دونوں ادھر ہی ٹھہرو۔۔۔ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘

ساحل اور عافین اب خود سے چل سکتے تھے۔ اب انہیں سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔ساحل اور عمارہ تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر کر اس چھوٹے سے قبرستان میں گئے۔

ساحل وشاء کی قبر کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔وہ ایک بار پھر جذبات کی رو میں بہنے لگا۔۔۔اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ گلوگیر آواز میں بولا’’مجھے معاف کر دو وشاء۔‘‘

عمارہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ ’’وشاء کے لیے سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کی مغفرت کی دعا مانگو۔۔۔اس طرح آنسو بہانے سے روحوں کو اذیت ہوتی ہے۔‘‘

ساحل نے سورہ فاتحہ پڑھی اور وشاء کے ساتھ ساتھ حوریہ ، فواد اور خیام کے لیے بھی دعا مانگی۔ وہ دونوں اوپر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں آئے اور پھر سارے اس ریسٹ ہاؤس سے باہر نکل گئے۔

گاڑی تک پہنچنے کا مسئلہ بھی ان کے لیے کافی کٹھن تھا۔ انہیں پہاڑوں کے دشوار گزار غاروں سے گزر کر گاڑی تک پہنچنا تھا۔انہوں نے ہمت کی اور اس دشوار گزار راستے سے گزر کر گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسامہ تو وہیں زمین پر سر بسجود ہوگیا اور اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور اب صحیح سلامت گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔ساحل ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور عمارہ اس کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئی اسامہ اور عارفین پیچھے بیٹھ گئے۔

وہ شام کے پانچ بجے وہاں سے روانہ ہوئے۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہی ان کے موبائلز کی سروس بحال ہوگئی۔اسامہ ساحل اورعارفین نے اپنے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور انہیں اپنی کامیابی اور خیریت کی اطلاع دی۔گھر والوں سے بات کرکے انہیں ایک عجیب سا سکون ملا۔ انہیں محسوس ہوا کہ جذبات سے بھرپور زندگی ہاتھوں میں خوشیوں کے گلاب اٹھائے ان کی منتظر ہے۔

ان کی گاڑی پہاڑوں پر بل کھاتے سانپ جیسی سڑک پر لہائی کی طرف دوڑ رہی تھی۔ بادل جیسے بار بار گاری کے آگے آکر چھیڑ خانی کر جاتے تھے۔

عمارہ نے اپنی والدہ رابعہ کا نمبر ملایا تو بیل جانے لگی۔ عمارہ کے دل کی دھرکن تیز ہو رہی تھی کہ وہ کب اپنی ماں کی آواز سنتی ہے۔ رابعہ واش روم میں تھی اس لیے اس نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔

عمارہ نے دوبارہ کوشش کی مگرماں سے بات نہ ہو سکی پھر اس نے ظفر کا نمبر ملایا۔

’’ہیلو عمارہ۔۔۔کہاں ہو تم لوگ۔۔۔خیریت سے تو ہو۔ ہم تو تم سب سے موبائلز پر فون کرتے رہے مگر رابطہ ہی نہیں ہوااور نہ تم میں سے کسی نے فون کیا۔‘‘

’’انکل ہم سب خیریت سے ہیں۔ ہمارے موبائلز پر سگنل ہی نہیں تھے۔ ہم تو ایک دوسرے سے بھی رابطہ نہیں کرسکتے تھے۔ امی تو ٹھیک ہیں نا۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ٹھیک ہیں۔ مگر تمہاری سے وجہ سے بہت پریشان ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا۔

’’میں جو خوشی کی خبر سنانے والی ہوں۔ اس سے آپ سب کی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔‘‘عمارہ نے خوشی بھرے لہجے میں کیا۔

’’تو پھر سناؤ عمارہ۔۔۔‘‘ ظفر نے بے چینی سے کہا۔

’’ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہیں اب صحیح سلامت گھر لوٹ رہے ہیں۔‘‘ عمارہ اتنی خوش تھی کہ اس کی آواز فون سے باہر آرہی تھی۔

تھوڑی دیر کے لیے ظفر کی طرف خاموشی چھا گئی۔خوشی کے احساس سے اس کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ وہ گلوگیر لہجے میں بولا’’اپنوں کی جدائی کے غم نے تو مجھے مار ہی ڈالا تھا۔۔۔یہ خبر سن کر میں پھر سے جی اٹھا ہوں۔‘‘

’’انکل آپ خیا م، فواد اور حوریہ کے گھر والوں کو بھی بتا دیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’عمارہ میں سب کو بتا دوں گا۔ تم سب نے میرے گھر آنا ہے۔ میں، خیام، فواد اور حوریہ کے گھر والوں کو ساحل اور عارفین کے گھر والوں کو اپنے گھر ہی بلا لوں گا۔ اسامہ کی والدہ تو اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ گجرات رہتی ہیں۔۔۔ان کے لیے آنا مشکل ہوگا اس لیے انہیں نہیں کہوں گا۔ تم لوگ آجاؤ تو ہم خود کسی دن شکریہ ادا کرنے ان کے گھر جائیں گے۔۔۔ہماری اس کامیابی کا کریڈٹ تو اسامہ کو ہی جاتا ہے۔ تم سب خیریت سے پہنچ جاؤ ہم سب کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ ہمارا ہیرو ہے لیکن مزے کی بات بتاؤں کہ یہ دو اناڑی فوجی ساحل اور عارفین بھی اس جنگ میں بہت بہادری سے لڑے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ ہنسنے لگی۔

’’اللہ تم لوگوں کو اپنے امان میں رکھے۔۔۔‘‘ میں پہلے رابعہ کو یہ خبر سناتاہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر نے فون بند کردیا۔

عمارہ،ا سامہ اور عارفین ظفر کے گھر پہنچے تو سب نے مل کر ان کا استقبال کیا۔

اسی مہینے کی چوبیس تاریخ کو عارفین اور وینا کی شادی طے کر دی گئی۔

عارفین اور وینا کی شادی کی تقریب میں اسامہ اور عمارہ بھی ایک دوسرے کو منگنی کی انگوٹھی پہنچا کر ایک نئے رشتے میں بندھ گئے۔

ختم شد

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟