بارشوں سے ہونے والا جانی و مالی نقصان!

بارشوں سے ہونے والا جانی و مالی نقصان!

  

مون سون کی حالیہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب، مکانات گرنے، لینڈ سلائیڈنگ  اور دیگر حادثات میں اب تک 233افراد جاں بحق ہوئے، ان میں 89کم عمر بچے  اور 39خواتین شامل ہیں۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 185، سندھ میں  84، پنجاب میں 16، بلوچستان میں 19، کشمیر میں 10 اور گلگت بلتستان میں  11افراد اللہ کو پیارے ہوئے۔ رپورٹ میں مکانات گرنے، سڑکوں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں کراچی کا الگ سے ذکر نہیں، کراچی میں ہونے والا نقصان الگ ہے۔ مون سون کا یہ دوسرا مرحلہ اگرچہ ہلکا ہو چکا اور اس کے مزید کم ہونے کے امکانات ہیں، تاہم محکمہ موسمیات، ماحولیات اور این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر میں بھی غیر معمولی بارشیں ہو سکتی ہیں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ سے یہ تاثر مل گیا کہ کوئی محکمہ نقصانات کی تفصیل ساتھ ساتھ جمع کر رہا ہے، جانی نقصان کی تو تلافی ممکن نہیں، تاہم وفاق اور صوبوں کی طرف سے مالی نقصان کے عوض امداد کے اعلان کئے گئے ہیں، تاکہ متاثرہ فریق اپنے گھروں کی تعمیر و مرمت کرا سکیں اور جو لوگ روزگار سے محروم ہوئے ہیں، وہ پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوسکیں۔ اس امرکی تعریف ہی کی جا سکتی ہے کہ این ڈی ایم اے نے ساتھ ساتھ تفصیلات جمع کی اور جاری بھی کر دی ہیں، یہ کام تو کر دیا گیا، اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ جس تعاون اور امداد کا اعلان کر رہی ہیں، وہ متاثرین تک جلد از جلد پہنچے، تاکہ وہ پھر سے معمولات زندگی شروع کر سکیں۔ دوسرے یہ بھی ضروری ہے کہ متعلقہ محکموں اور شعبوں کی پیشگی اطلاع کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ ستمبر میں مزید بارشوں کا بھی امکان ہے۔ اس لئے اب پہلے ہی سے چاق و چوبند رہنا چاہیے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -