دوا مانگی تھی، درد دے چلے

دوا مانگی تھی، درد دے چلے

  



بلاشبہ پاکستان معاشی ابتری کا شکار ہے ،جس سے وطن عزیز کو نکالنے کے لئے حکمت و دانائی کے ساتھ چلتے ہوئے کئی تلخ فیصلے بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات اور احساسات کے علاوہ غریب کی حالت زار پر اُسے بدترین حالات میں سہولیات فراہم کرنا ان کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی حالت میں بہتری لانا بھی حکومت وقت کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے ۔بالخصوص حکومت کے حامی وہ لوگ جنہوں نے کئی ارمان دل میں رکھ کر بھر پور کوششوں کے بل پر حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہو،اپنی من پسند پارٹی کو ایوان اقتدار یک پہنچانے میں اپنی توانائیاں وقف کیں ہوں،تو ایسی صورت حال میں جب لوگو ں کے ارمان پورے ہونے کی بجائے ان کے لئے عرصہ زندگی مزید تنگ کر دیا جائے مہنگائی کا جن سر چڑھ کر بولے تو ایسے میں لوگوں کی اپنی حکومت کے خلاف شکایات یقینی امر ہے۔پریشان حال عوام جو کہ پہلے ہی مہنگائی سے عاجز آچکے ہیں،ان کے لئے مزید مسائل حکومت کی جانب سے گزشتہ دِنوں مہنگائی بم گرانے سے اور بڑھ گئے ہیں ،

جس میں پٹرول کی قیمتوں میں چھ روپے اضافہ ، مٹی کا تیل تین روپے لیٹر مہنگا،ڈیزل اور ریلوے کے کرایوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے،جن میں سے تو بعض ادویات کی قیمتوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے ،جس پر عوام کا چلانا غیر فطری نہیں ۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے،جس پر شہری سراپا احتجاج ہیں ،ایل پی جی،گھریلو سلنڈر 27روپے مہنگا جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز پر دالوں اور چاولوں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے، قیمتوں کے اس طرح ہوشربا اضافے سے مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح کو چھوتی ہوئی 9.41 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔مندرجہ بالا مہنگائی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے عوام حکومت کی طرف سراپائے احتجاج دیکھ رہے ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ جس تبدیلی کے ہم نے خواب دیکھے تھے اپنی حالت زار بہتر کرنے کے لئے کیا وہ تبدیلی یہ ہے؟جب ہمارے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے،عوام کا احتجاج حق بجانب ہے۔

حکومت کو عوامی فریاد کی طرف ناصرف توجہ دینے، بلکہ ان کے لئے زندگی کو آسان بنانے کی طرف اقدامات کرنا چاہئے۔رمضان المبارک سے قبل باقاعدہ گزشتہ حکومت کی طرح رمضان بازار لگا کر عوام کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں،دُنیا کے دیگر ممالک اور مذاہب کی طرف دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی تہوار کی آمد سے قبل اپنے لوگوں کے لئے ایسی سہولیات فراہم کرتے ہیں،جس سے غریب لوگ بھی خوشی کے اس موقع پر میروں کے ساتھ بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہو سکیں ۔یہاں ہم نام کے مسلمان عام حالات کے بر عکس رمضان المبارک اور عید الاضحی کے موقع پر قیمتوں کو ڈبل نہیں، بلکہ ٹرپل کے دیتے ہیں

جیسے پورے سال کا نفع ہم نے ان مواقعوں سے ہی حاصل کرنا ہے اِس لئے عوامی حالت کے پیش نظر رمضان المبارک سے قبل ایسا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے جس سے جاگیر داروں اور مالداروں کے علاوہ غریب بھی زندگی کی سہولیات سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیں۔جینے کا حق تو ہر کسی کو ہے ،ناکہ ناجائز ذرائع سے مال اکٹھا کر کے زندگی کی سہولیات حاصل کرنے والوں کو ہی یہ حق حاصل ہے ۔وہ لوگ جنہوں نے خواب پورے ہونے کے لئے اپنی پسند کی حکومت کے لئے کوششیں کیں تھیں آج مہنگائی سے بے حال و پشیمان ہیں ساتھ میں پوری قوم بھی۔

مزید : رائے /کالم