شی جن پنگ چین کے راحیل شریف بن گئے، چینی صدر کیلئے چین میں وہ کام کرنے کا فیصلہ جو گزشتہ 27 برس میں کبھی نہیں کیا گیا

شی جن پنگ چین کے راحیل شریف بن گئے، چینی صدر کیلئے چین میں وہ کام کرنے کا ...
شی جن پنگ چین کے راحیل شریف بن گئے، چینی صدر کیلئے چین میں وہ کام کرنے کا فیصلہ جو گزشتہ 27 برس میں کبھی نہیں کیا گیا

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ ملک میں کرپشن کے خلاف بے رحمانہ کاروائی کی وجہ سے پہلے ہی چین کے طاقتور اور مقبول ترین رہنما کا مقام حاصل کرچکے ہیں، اور اب یہ اطلاعات بھی سامنے آگئی ہیں کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع پر غور ہو رہا ہے جس کے بعد ان کا دور صدارت 10 سال سے تجاوز کر سکتا ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چینی صدر کے عہدے کی مدت 2022ءتک ہے لیکن تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے آثار نظر آرہے ہیں کہ وہ 2022ءکے بعد بھی صدارت کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابقہ تجزیہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 2022ءکے بعد بھی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر تعینات رہیں گے، جو کہ چین میں طاقتور ترین عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے سیاسی ماہر ولی لیم کا کہنا تھا کہ اس بات کے 60 سے 70 فیصد امکانات موجود ہیں کہ صدر شی جن پنگ اپنے اختیارات سے سبکدوش نہیں ہوں گے۔

دہشت گردی کے خاتمے، علاقے کی ترقی کے لئے جنرل راحیل شریف کا کردار قابل تعریف ہے: چینی میڈیا

اس سے پہلے کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ ڈینگ شیاﺅ پنگ 1978ءسے 1989ءتک پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے اہم ترین عہدے پر فائز رہے، لیکن انہوں نے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ آئندہ کوئی سیکرٹری جنرل 10 سال سے زائد اپنے عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔ اس فیصلے کے بعد شی جن پنگ پہلی شخصیت ہیں کہ جنہیں 10 سال کے بعد بھی اس اہم عہدے پر فائز رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی