فلپ مورس نے ختم ہونے والے سال کے نتائج کا اعلان کردیا

  فلپ مورس نے ختم ہونے والے سال کے نتائج کا اعلان کردیا

  

کراچی (پ ر) فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ نے 31سمبر 2021کو ختم ہونیوالے سال کے لیے مالی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بعد از ٹیکس 2,307ملین روپے منافع کا اعلان کیا ہے،جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران بعد از ٹیکس 1,765ملین روپے تھا۔ رواں سال کی اس مدت کے دوران کمپنی کا خالص منافع 17,459ملین روپے رہا ہے جو کے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.2فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ پی ایم پی کے ایل نے ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات کی شکل میں قومی خزانے کو کمپنی کے تعاون کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے کردار کو بڑھانے کی کوششوں کو جاری رکھا جو کہ پچھلے سال کی اسی مدت تک 14.8% اضافے کے ساتھ26,673 ملین روپے رہاہے،  جو مجموعی طورپر60.5فیصد گروس ٹرن اوور کو ظاہر کرتا ہے۔ گوکہ غیرٹیکس ادا شدہ غیرقانونی سگریٹ کی تجارت قانونی طور پر ٹیکس ادا کرنے والی صنعت کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے تاہم حکومت نے قومی خزانے میں شراکت کو بہتر بنانے کے لیے غیرقانونی طبقے کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران ایکسائز کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کی وجہ سے قانونی سگریٹ برانڈز کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوا ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے برانڈز کے درمیان قیمتوں کا فرق مزید نہ بڑھے (جائز اور غیر ٹیکس شدہ سگریٹ کے درمیان موجودہ قیمت کا فرق ٹیکس ادا کرنے والے برانڈز کے مقابلے میں 200فیصد زیادہ ہے)۔ٹیکس ادا شدہ اور ٹیکس چوری شدہ سگریٹ برانڈز کے درمیان قیمت کا یہ واضح فرق پاکستان میں سگریٹس کی غیر قانونی تجارت کے فروغ کی بنیادی وجہ رہاہے۔  ایکسائز پر مبنی قیمتوں میں اضافے نے غیرقانونی طبقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے ایف بی آر نے وفاقی بجٹ کے دوران سگریٹس پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کرکے حل کیا ہے۔ ایف بی آر کا یہ اقدام ٹیکس اداکرنے والی سگریٹ انڈسٹری اورحکومت کی آمدنی میں اضافے کے مثبت نتائج کی گواہی ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -