اقبال ؒ اور ارتقا پذیر کائنات

اقبال ؒ اور ارتقا پذیر کائنات
 اقبال ؒ اور ارتقا پذیر کائنات

  



علامہ اقبالؒ کے فلسفیانہ نظام کے تین اہم ستون ہیں ۔۔۔ خدا، کائنات اور انسان۔ان تین اہم موضوعات سے متعلق لاتعداد امور اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔عام مفکرین اور فلاسفہ نے بھی ان تینوں کے بارے میں اپنے اپنے مخصوص نظریات کا اظہار کیا ہے۔

ملت اسلامیہ کے اس عظیم نامور مفکر اور شاعر علامہ اقبالؒ کے افکار و جذبات کا محور و مرکز اسلامی نظریات حیات و کائنات ہیں اِس لئے انہوں نے کائنات جیسے ضروری موضوع پر بھی اسلامی فکر ہی کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے کائنات کے مختلف گوشوں کو اپنی نظم و نثر میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے، مگر یہاں کائنات کی ارتقا پذیری کے بارے میں ہی ان کے افکار کا خلاصہ زیر مطالعہ ہو گا۔ مضمون کے لئے جگہ کی کمی اس بات کی متقاضی ہے کہ اس اہم موضوع کے چند پہلوؤں کا ہی تذکرہ کیا جائے۔

سفینہ چاہئے اس بحر بے کراں کے لئے

دنیا کے عظیم فلسفیوں نے اس وسیع و عریض کائنات اور جلوہ گہ شہود کے بارے میں اپنے اپنے نظریہ حیات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی غرض و غایت اور نوعیت کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔

ایک گروہ کی رائے میں یہ کائنات حقیقی نہیں، بلکہ واہمہ، فریب اور مایا ہے۔ افلاطون نے اپنے مکالمات میں اسے ضلّ اور سایہ قرار دیا ہے۔ گویا وہ اسے نمود بے وجود سمجھتا تھا۔ وہ محسوسات کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو ناقابلِ اعتماد اور فریب نظر تصور کرتے ہوئے کائنات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ علامہ اقبالؒ نے اس کے اس نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:۔

فکرِ افلاطوں زیاں را سود گفت

حکمت او بود را نابود گفت

(افلاطون کی فکر نے نقصان کو نفع قرار دیا۔ اس کے فلسفہ نے ہستی کو نیستی کہا)۔

افلاطون کے اس تصور نے ہمارے بعض صوفیاء اور شعراء کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا، چنانچہ وہ بھی اس کے ہمنوا بن کر کائنات کی اہمیت و افادیت کے منکر ہو گئے۔ غالبؔ نے اس فکر کے زیر اثر کہا تھا:۔

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ !

عالم تمام حلقہء دامِ خیال ہے

قرآن حکیم نے کائنات کو حقیقی تسلیم کیا ہے اور بندۂ مومن یہ کہنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔۔ ترجمہ:۔(اے ہمارے رب! تو نے اسے باطل پیدا نہیں کیا۔)

فلسفے کا دوسرا مکتب فکر کائنات کی حقیقت کا تو قائل ہے، لیکن وہ اسے ایک حادثہ سمجھتا ہے اور یوں وہ خالق کائنات کی ہستی کا منکر ہے۔ علامہ اقبالؒ اس رائے کی تردید کرتے ہیں اور اسے خدا کی کرشمہ سازی اور اس کی صفات حسنہ کی جلوہ گری اور حیرت انگیز صفت تصور کرتے ہیں۔ انہیں محفل قدرت میں ہر جگہ حسن ازلی کی نمود کے حسین جلوے دکھائی دیتے ہیں تو وہ بے اختیار ہو کر یوں نغمہ سرا ہوتے ہیں۔

محفل قدرت ہے اک دریائے بے پایان حسن

آنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفان حسن

حسن، کوہستاں کی ہیبت ناک خاموشی میں ہے

مہر کی ضوگستری، شب کی سیہ پوشی میں ہے

چشمہۂ کہسار میں، دریا کی آزادی میں حسن

شہر میں، صحرا میں، ویرانے میں، آبادی میں حسن

انہیں افسوس ہے کہ بعض سائنس دان تعصب، جہالت اور دل کی اندھی آنکھ کی وجہ سے کائنات میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے حسن خداوندی کو دیکھنے سے محروم ہیں وہ کہتے ہیں۔

محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے

بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

ذہن نشین رہے کہ اس کائنات کی ساخت اور اس کے قوانین کسی عظیم صانع، خالق اور ناظم کے وجود کے شاہد ہیں۔ علامہ اقبالؒ اس نظریہ کائنات کے قائل ہیں جس کی اساس قرآنی تصور کائنات پر استوار کی گئی ہے۔ ان کی رائے میں خدا تعالیٰ کی خلاتی صفت آج بھی نئی تخلیقات کا منبع ہے۔

خدا پہلے بھی خالق تھا، وہ آج بھی خالق ہے اور آئندہ بھی تخلیقی عمل میں مصروف رہے گا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نئی نئی چیزیں اور حالات تخلیق کرتا ہے کیونکہ ایک ہی چیز کو بار بار کرنے کی بجائے وہ مختلف النوع مخلوقات کی پیدائش کرتا ہے ۔

انہو ں نے اس ضمن میں ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے، جس میں خدا تعالیٰ کی مسلسل تخلیقی سرگرمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: (الرحمٰن، آیت 29) (وہ (اللہ) ہر روز نئی شان (جلوہ گری) میں ظاہر ہوتا ہے۔) چونکہ خدا تعالیٰ مسلسل نئے نئے حالات اور نئی اشیاء خلق کرتا ہے، اِس لئے کائنات میں ’’کن فیکون‘‘ کا عمل ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔

اس عمل سے کائنات کی رونق اور زینت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے :’’یزید فی الخلق مایشآء ‘‘(سورہ فاطر، آیت 1)، (وہ (اللہ) جس طرح چاہتا ہے تخلیق میں اضافے کرتا رہتا ہے۔) علامہ اقبالؒ اس قرآنی فکر کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

اس عقیدے کی رو سے وہ کائنات کو تغیر پذیر، حرکی، ارتقا پذیر خیال کرتے ہوئے اپنے خطبات

(The reconstruction of religious thought in islam)

میں رقم طراز ہیں:۔

"........The Universe, acording to the Quran is liable to increase. It is a growing universe and not an already completed product which left the hand of its Maker ages ago.""

حرکت مسلسل اور عمل پیہم علامہ کے فکری نظام کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ وہ کائنات کو بھی حرکت دوام اور مسلسل تغیر کی آئینہ دار سمجھتے ہیں کائنات میں ہر لمحہ تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اس لئے کائنات اور تبدیلی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے بقول اقبالؒ :۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

یہاں کی ہر چیز ہر وقت محو حرکت اور محتاج تبدیلی ہے اِس لئے قدرت کے قائم کردہ قانونِ تبدیلی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ خدا اس کائنات کو وسیع تر کرتا چلا آ رہا ہے جیسا کہ قرآن نے کہا۔ (الذاریات، آیت 47) (اور آسمان کو ہم نے ہی بنایا ہے اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں۔)

موجودہ دور میں سائنس نے مختلف میدانوں میں حیرت انگیز ترقیاں کی ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بہت سے نئے ستاروں اور نئے نظام ہائے افلاکی کا پتہ چلا ہے اللہ تعالیٰ صرف ایک ہی نظام کائنات کا رب نہیں،بلکہ وہ بہت سے دیدنی اور نادیدنی جہانوں کا پروردگار ہے۔ خارجی عالم اور باطنی عالم دونوں کا خدائے واحد ہی خالق اور مالک ہے۔

اِس لئے اس کے آفاقی اور ابدی قوانین میں کیسے کوئی تصادم ہو سکتا ہے؟ جوں جوں انسانی علم بڑھتا چلا جائے گا توں توں سائنس قرآنی حقائق کی تصدیق کرتی چلی جائے گی۔ وحی خداوندی نے جن حقائق کی صدیوں پہلے خبر دی تھی، آج سائنس انہیں دریافت کرتی جا رہی ہے۔

قرآنی حقائق سائنس کے محتاج نہیں کیونکہ سائنس تو اس کا جزوی مطالعہ ہے۔ علاوہ ازیں آئندہ ادوار میں مزید قرآنی حقائق منکشف ہوتے جائیں گے۔ اس ابدی کتاب ہدایت میں بے شمار جہان اور زمانے ہیں۔ بقول اقبالؒ

صد جہاں پوشیدہ در آیات او

عصر ہا پیچیدہ درآناحت او

اس(قرآن) کی آیات میں سینکڑوں جہان پوشیدہ ہیں۔ اس کے لمحات میں کئی زمانے لپٹے ہوئے ہیں۔

مزید : کالم


loading...