وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے معاملے پر یوٹرن لیا، فرخ سیر 

  وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے معاملے پر یوٹرن لیا، فرخ سیر 

  

ہنگو(بیورورپورٹ) وزیر اعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پر بھی یو ٹرن  لیا،عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے بارہا مزدور کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ کے برابر کرنے کا بھاشن دیا،بجٹ میں سرکاری ملازمین کے حق پر نہ صرف ڈاکہ ڈالا گیا بلکہ ملازم کش پالیسیاں بھی بنائیں گئیں،سرکاری ملازمین کے لیے پچپن سال مدت مقرر کرنے والے خود اسی سال کی عمر میں ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں،پنشن،سالانہ انکریمنٹ اور تنخواہوں کے جائز مطالبات پر کھبی خاموش نہیں بیٹھیں گئے ان خیالات کا اظہار آل ایمپلائیز لوارڈینیشن کونسل کے ضلعی صدر فرخ سیر،جنرل سیکریٹری  فہیم خان اور دیگر نے ضلع بھر کے سرکاری ملازمین کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا،آل ایمپلائیز کونسل کے زیر اہتمام مین چوک سے پریس کلب تک سرکاری ملازمین نے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر ریلی نکالی۔ریلی کی قیادت فرخ سیر،فہیم خان،حاجی عبدالرحمان،عصام الدین،جمیل خان،جہانزیب خان،احمد اقبال،محمد شاعر،رحمت خان اور ہمت اللہ بنگش نے کی،ریلی کے شرکا نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آل ایمپلائیز کو ارڈینیشن کونسل ضلع ہنگو کے صدر فرخ سیر اور جنرل سیکریٹری فہیم خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سرکاری ملازمین کے جائز حق اور تنخواہوں کے معاملات پر بھی یو ٹرن لیکر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور واضح ہو گیا ہے کہ تبدیلی سرکار کہتی کچھ اور کرتی کچھ ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکومت میں انے سے پہلے سینکڑوں بار سرکاری ملازمین اور مزدور کی تنخواہیں کم از کم ایک تولہ سونے کی مالیت کے برابر کرنے کی بات کی مگر  بجٹ میں نہ صرف تنخواہیں بڑھائی گئی بلکہ انکریمنٹ پر بھی کٹ لگایا گیا اور پنشن اور ریٹائرمنٹ کے معاملات پر بھی ملازم کش اقدامات اٹھائے گئے۔رہنماوں نے واضح کیا کہ اب پانی سر سے اوپر ہو گیا اب موجودہ حکومت کے ظالمانہ،سفاکانہ اور مزدور کش اقدامات کے خلاف ملک بھر میں ملازمین سراپا احتجاج ہیں اور مطالبات کے لیے اخری حد تک جائیں گئے۔مقررین نے کہا کہ وزراء اور ممبران اسمبلی نے ملازمین کی تنضواہوں میں اضافہ کرنے کی بجائے اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کر کے بے شرمی کا عملی مظاہرہ کیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -