کچھ حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لیکن بے ضابطگیوں پر قانونی کارروائی آگے کیسے بڑھتی ہے اور کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ وہ بات جو شاید آپ کو یاد نہیں

کچھ حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لیکن بے ضابطگیوں پر قانونی کارروائی آگے ...
کچھ حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لیکن بے ضابطگیوں پر قانونی کارروائی آگے کیسے بڑھتی ہے اور کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ وہ بات جو شاید آپ کو یاد نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں عام انتخابات کے بعد کچھ حلقوں میں دھاندلی کےا لزامات سامنےآئے ہیں، اب تک کی اطلاعات کے مطابق کچھ حلقوں کے نتائج عدالتوں میں چیلنج ہوچکے ہیں تو کہیں دوبارہ گنتی کی درخواست آچکی ہے لیکن   بے ضابطگیوں پر قانونی کارروائی آگے کیسے بڑھتی ہے اور کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو یہ خبرآپ کے لیے ہے ۔

روزنامہ جنگ میں فخر درانی نے لکھا کہ ’ متاثرہ امیدوار الیکشن ٹریبونل میں سیکشن 139 اور 142 کے تحت پٹیشن دائر کر سکتا ہے تاہم یہ درخواست انتخابی نتائج کی اشاعت کے 45؍ روز کے اندر دائر کرنا ہوگی، درخواست دائر کرنے سے قبل امیدوار کو اپنے الزامات ثابت کرنے کیلئے تمام شواہد جمع کرنا ہوتے ہیں، یہ شواہد ویڈیوز، گواہوں کے بیانات یا دستاویزات کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ اگرچہ کچھ پی ٹی آئی امیدواروں نے دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے شواہد ہیں کیونکہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت شواہد کا ہونا درخواست جمع کرانے کیلئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

 الیکشن ایکٹ کے سیکشن 144؍ کے تحت مدعی کو  سٹیٹمنٹ آف فیکٹ (حقائق نامہ) اور شواہد پیش کرنا ہوں گے تاکہ دھاندلی یا بے ضابطگی کے الزامات ثابت کیے جا سکیں۔ سماعت کے بعد الیکشن ٹریبونل متعلقہ الیکشن کالعدم قرار دے سکتا ہے،  پھر دوبارہ الیکشن کا حکم جاری کر سکتا ہے یا پھر درخواست گزار (مدعی) کو سیکشن 154؍ کے تحت کامیاب امیدوار قرار دے سکتا ہے۔

 ماضی قریب میں الیکشن ٹریبونل نے سابق ڈپٹی  سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا اور 27ستمبر 2019ء کو کوئٹہ کی نشست این اے 265 پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا تھا۔ قاسم سوری اپنے حریف نوابزادہ لشکری رئیسانی سے الیکشن جیت گئے تھے۔ رئیسانی نے یہ معاملہ 52  ہزار ووٹوں کو مسترد کرنے کی بنا پر چیلنج کیا۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ قاسم سوری پانچ ہزار ووٹوں سے الیکشن جیتے تھے اور انہوں نے 25 ہزار 973 ووٹ لیے تھے جبکہ لشکری رئیسانی کو 20 ہزار 89 ووٹ ملے تھے۔