اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 148

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 148
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 148

  

حضرت ابو علی رباطیؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جنگل میں عبداللہ رازیؒ میرے ہم سفر تھے۔ آغاز سفر سے قبل انہوں نے فرمایا کہ دوران سفر ہم میں سے ایک کو امیر اور دوسرے کو اس کا تابع رہنا چاہیے۔ اب بتاﺅ کہ تم میرے امیر ہو یا میں تمہارا امیر ہوں؟“

میں نے کہا کہ آپ ہیں۔

فرمایا ”تو سنو! جو کچھ میں کہوں تمہیں ویسا ہی کرنا ہوگا۔“

میں نے کہا ”جو حکم سنوں گا بجا لاﺅں گا۔“

پھر فرمایا ”جاﺅ، ایک تو برہ لے آﺅ۔“

میں نے اسی وقت ایک توبرہ حاضر کردیا۔ انہوں نے میرے تمام کپڑے لتے اور جو بھی سامان تھا سب کچھ اس توبرے میں ڈال دیا اور پھر اسے اپنی پشت پر رکھ کر چل کھڑے ہوئے۔ میں نے بہتیرا کہا کہ بوجھ زیادہ ہے۔ کم سے کم میرا سامان تو مجھے اٹھانے دیجئے، کیونکہ اس طرح آپ بہت تھک جائیں گے۔ لیکن آپ یہی جوبا دیتے رہے کہ دیکھو کہ میں امیر ہوں اور تمہیں امیر پر حکم چلانے کا کوئی اختیار نہیں۔ تمہاراکام یہ ہے کہ حکم کی تعمیل کرتے رہو۔

ایک رات دوران سفر بارش نے آگھیرا۔ ساری رات ایک کمبل میرے اوپر تان کر کھڑے رہے اور بارش کا ایک قطرہ تک مجھ پر نہ گرنے دیتے تھے۔ حالانکہ خود شرابور ہو رہے تھے اور میں کچھ کہنے کی کوشش کرتا تو وہی بات دہرادیتے کہ میں امیر ہوں۔ تم فرمانبردار ہو۔

میں رہ رہ کر دل ہی دل میں کہتا تھا کہ اے کاش! میں نے ان سے ا میر بننے کے لیے نہ کہا ہوتا۔

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 147 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

داراشکوہ کے دل میں حضرت ملا شاہؒ کا مرید ہونے سے قبل یہ خیال آیا کہ جب آپ کی خدمت میں جائیں گے تو آپ سے عرض کریں گے کہ چونکہ دنیا میں آپ کے ہمسایہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس لیے یہ امید کرنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ مہربانی فرماکر اور توجہ کر کے آخرت میں بھی اپنا ہمسایہ بنائیں گے۔“

اس کے بعد شہزادہ داراشکوہ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے بغیر ان کے کچھ کہے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ

”اے عزیز! میں نے اپنے کسی مرید اور دوست سے اس قسم کا مصافحہ نہیں کیا اور میں کہتا ہوں کہ انشاءاللہ آخرت میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔“

٭٭٭

حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑگیا۔ کئی مرتبہ دعائے باراں کی گئی لیکن قبولیت حاصل نہ ہوسکی آخر ان کے پیغمبر زمانہ پر وحی نازل ہوئی کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ شرم تو نہیں آتی۔ دعا کے لیے باہر نکلے ہو۔ تمہارے دل پلید اور پیٹ حرام مال سے بھرے ہوئے ہیں، ہاتھ مظلوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں تمہارااس طرح باہر آنا میرے رحم کو نہیں بلکہ قہر و غضب کو زیادہ کرتا ہے۔ جاﺅ، مجھ سے دفع دور ہوجاﺅ۔“

٭٭٭

ملا نعمت اللہؒ کو ایک دن خیال آیا کہ حضرت شاہ ابو المعالیؒ کو جو اعتقاد اور محبت حضرت غوث الاعظمؒ سے ہے اس کی خبر غوث الاعظمؒ کو بھی ہوگی یا نہیں۔

اسی رات کو ملا نعمت اللہؒ نے خواب میں دکھا کہ وہ کسی کام میں درماندہ ہیں اور ننگے سر ہیں۔ حضرت غوث الاعظمؒ وہاں تشریف لائے اور سفید دستار ان کو مرحمت فرمائی اور ان سے فرمایا ”ملا نعمتؒ! ہم تمہارے حال سے خبردار ہیں۔“

دوسرے دن شاہ ابوالمعالیؒ نے ان کو بلایا۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کو سفید دستار عطا کی اور فرمایا کہ یہ وہی دستار ہے۔

٭٭٭

کسی عورت نے ایک روٹی سائل کو خیرات دی۔ پھر اپنے خاوند کی روٹی لے کر کھیت کی جانب چل پڑی۔ اس کا خاوند کھیت میں کٹائی کررہا تھا۔ اس عورت کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ جب وہ ایک باغ پر سے گزررہی تھی تو ایک درندہ نے اس کے بچے کو پکڑلیا۔ ناگاہ ایک ہاتھ نکلا اور بھیڑیے کو ایک طمانچہ مار کر بچہ اس سے چھین لیا پھر اس نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ۔ اپنا بچہ لے جا۔ ہم نے روٹی کے ایک لقمہ کے عوض بچہ کا لقمہ چھین کر تیرے حوالے کردیا ہے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 149 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے