ہماری پہچان۔۔۔ پاکستان

ہماری پہچان۔۔۔ پاکستان
ہماری پہچان۔۔۔ پاکستان

  

انسان اپنے وطن سے جانا پہچانا جاتا ہے ، بے وطن نہ کوئی شناخت رکھتا ہے اور نہ ہی کہیں کوئی اس کا بار ضمانت اٹھاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ہم پر احسان ہے کہ ہمیں اپنا گھر، اپنا آزاد اور خود مختار وطن اسلامی جمہوریہ پاکستاان میسر ہے۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم اس کی عنبر بار فضاؤں میں سانس لیتے ہیں۔ہم اس کے فلک بوس پہاڑوں کی رفعتوں سے حظ اٹھاتے ہیں۔ ہم اس کے گھنے جنگلوں کے نظارے کرتے ہیں۔ ہم اس کے وسیع و عریض صحراؤں کے کھلے بازوؤں میں جھولتے ہیں کہ اگر دن کو اس کے آفتاب درخشاں کی کرنوں سے فکرو نظر کو منور کرتے ہیں، تو شب تاریک کے سناٹوں میں چاند ستاروں کی شیریں ضیاء باریوں سے کیف و حسرت کا سامان کرتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ غلام ہوتے تو کسی کے سامنے آنکھ اٹھانا تو درکنار سانس لینا بھی دشوار ہوتا، جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں ہمیں اچھوت سمجھا جاتا تھا۔

ذرا ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر ہم پاکستان جیسی نعمت عظمیٰ سے فیض یاب نہ ہوتے اور انگریزوں کے کھچاؤ اور ہندوؤں کے دباؤ میں ہوتے تو ہم پر کیا بیت رہی ہوتی؟ یہ اکابرین ملت اور قوم کے عمائدین و زعماء کا احسان عظیم ہے کہ ہمیں اپنی شناخت ملی اور پاکستان ہماری مستقل پہچان بن گیا۔ اگر یہ لوگ ہمیں قومی تشخص نہ دیتے تو شاید ہم آہستہ آہستہ ملیا میٹ ہو جاتے، جیسا کہ حریفان اسلام کے ناپاک عزائم سے ظاہر تھا۔ ہمارا ایک الگ وطن کا مطالبہ مخص اپنی الگ شناخت اور اپنے ثقافتی ورثے،یعنی اپنی روایات کے تحفظ کا ذریعہ تھا ، اگر ایسا نہ ہوتا، تو آج ہمارا ہر باشندہ پاکستانی کہلانے میں فخر و مسرت محسوس نہ کرتا۔خدا کا خاص کرم ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں، نہ کہ سندھی، بلوچی، سرحدی اور پنجابی ہونے پر نازاں ہیں۔ ہماری زبان ایک ہے،ہمارا لباس ایک ہے، ہمارا آئین ایک ہے، حتیٰ کہ قرآن ایک ہے۔ہم متحد ہیں۔ہم سب ایک ہی عمارت کی اینٹیں ہیں۔ ہم ایک ہی سمندر کی لہریں اور ایک ہی گلستان کے پھول ہیں، کیونکہ ہمارا خدا اور رسول ؐ ایک ہیں۔

ہم کسی بیرونی مُلک میں قیام پذیر ہوں، تو ہمیں پاکستانی جانا جاتا ہے۔ سندھی یا بلوچی، سرحدی یا پنجابی نہیں۔ ہمارے کارہائے نمایاں کسی پشتو یا پنجابی بولنے والے کی میراث نہیں ہیں، بلکہ اردو بولنے والے پاکستانیوں کی شناخت ہیں۔ ہماری سرگرمیاں کسی کشمیری اور آرائیں جیسی برادری کے لیبل کی مرہون منت نہیں ، بلکہ ہماری خدمات جلیلہ پاکستان کی وجہ سے نمایاں ہیں۔ ہمارا نام، انعام اور مقام صرف پاکستان ہے۔ ہمیں پاک سرزمین کی محبت میں رقصاں ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے دیس، اپنی ماں کو ادب و پیار دینا چاہئے کہ وطن کے درو دیوار کی چادر عصمت کی طرح مقدس ہیں۔ اس کا نظریہ ماں باپ کے عقیدے اور ایمان کی صورت جگمگاتا ہے۔

ہمیں اپنے والدین کوجھٹلانا نہیں چاہئے کہ ایسی گستاخ اولاد کوکوئی صحیح النسل قرار نہیں دیتا۔ آج ہمیں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آبا کی بجائے نیو یارک،پیرس، ماسکو، مانچسٹر اپنے لگتے ہیں۔ حمدو نعت نہیں، پاپ موسیقی پسندہے۔ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کی بجائے فلسفہ اور نفسیات درکار ہے اور دل میں اردو ادب کی بجائے انگریزی کی پکار ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی بجائے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی مطلوب ہے، بلکہ ہمارا کپڑا ہے،تو جاپان کا، سامان ہے تو چین کا، حتیٰ کہ پان ہے تو ہندوستان کا،کیا کچھ بھی ہمارا اپنا نہیں؟ ہم اپنے دیس کے باسی نہیں؟ یہ ہمارا وطن نہیں ہے؟ ہم پاکستانی نہیں ہیں؟ کوئی ہے جو یہ سوچے کہ ہم کیا کر رہے ہیں! ہم کدھر جا رہے ہیں؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم کیا تھے اور کیا بن گئے ہیں؟یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ہم پاکستان کے باشندے ہیں، ہمیں یہیں سے رزق ملتا ہے اور یہیں ہمارا سائبان ہے ، اس سے محبت کا ثبوت نہیں دیتے اور نہ ہی اس کی خدمت کو شعار بنانا اپنا ایمان سمجھتے ہیں، حالانکہ حب الوطنی کا دعویٰ سبھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہر مُلک کے عوام اپنی اپنی قومیت کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں،ہم خاکم بدہن کرپشن میں بام عروج کو چھو رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زبان، اپنے لباس اور اپنی تہذیب و ثقافت کے دلدادہ ہو جائیں، نہ کہ غیر ملکی اور غیر اسلامی اقدار و روایات کو گلے کا ہار بنا لیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہماری قومی زبان اردو ہے، انگریزی بولنے، سننے اور پڑھانے پر نازاں ہیں۔

دنیا جہاں کی قیادت و سیادت کا فریضہ سنبھالنے والی قوم مسلم، صرف ذہنی طور پر ہی نہیں جسمانی لحاظ سے بھی غلام ہوتی جا رہی ہے، پاکستان جو ہماری پہچان اور عزت کا نشان ہے، نہ اس کی معیشت ہے، نہ معاشرت، نہ کہیں رعب ہے، نہ عزت، بلکہ دہشت گرد مُلک قرار پا رہا ہے۔ 16دسمبر 2014ء کی صبح پشاور میں آرمی کے ایک تعلیمی ادارے پر جو حملہ ہوا، کیا اس میں ایک بھی پاکستانی شامل نہیں تھا،جو اپنے آپ کو طالبان کہتے ہیں ،کیا وہ ہمارے ہی جسم کا ایک حصہ نہیں ہیں، لیکن ان کو کسی ایک بچے کی بھی آہ وپکار سنائی نہ دی اور قوم کے 150معماروں کو موت کی نیند سلا دیا،250 سے زائد لوگ ان بے حس لوگوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

کیا اس طرح ہم انٹرنیشنل لیول پر اپنے مُلک کو بدنام نہیں کر رہے ہیں۔ کیا ایسے لوگوں کا ہم خاتمہ نہیں کر سکتے،جن کی وجہ سے ہمارا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ ہماری بے حمیتی ہے۔ ہم لسانی و صوبائی تعصبات، برادری ازم اور فرقہ ورانہ جذبات میں اندھے ہو گئے ہیں۔ آخر یہ خاک و خون کے سمندر کسے گوارہ۔ 1947ء میں جس خاک و خون کے سمندر کو پار کر کے اپنے وطن پاک میں سر چھپایا تھا،کیا وہ حادثات بھول چکے ہیں؟ ابھی کسی اور خون خرابے کی ضرورت ہے؟نہیں نہیں! ہم اس مُلک کو جلنے نہیں دیں گے، ہم اسے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین بننے نہیں دیں گے، بلکہ پاکستان کو پیارا پاکستان اور دنیائے اسلام کا سہارا بنائیں گے، کیونکہ یہ ہماری شناخت ہے، ہماری پہچان ہے، ہمارا ایمان بلکہ ہماری جان ہے۔

وطن کی آن پہ اپنا لہو بکھیریں گے

ہر ایک ظلم کی آندھی کے رخ کو پھیریں گے

ہر ایک کوچہ و بازار کے مکیں کو سلام

اے میرے پاک وطن! تیری سرزمیں کو سلام

جوہرٹاؤن سیکٹرسی ۔2 میں شاندار یونیورسٹی یو ایم ٹی تو قائم ہے، مگر سڑکوں کا برا حال ہے، آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ پیدل چلنے میں مشکل پیش آتی ہے، ہماری استدعا ہے کہ جوہرٹاؤ ن سیکٹرسی۔ 1 اور 2 یو ایم ٹی روڈ پر خاص توجہ فرمائی جائے تاکہ عوام کو آمدورفت میں آسانی میسر ہو۔(سحرش اقبال ، لاہور)

مزید : کالم