ارفع کریم رندھاوا

ارفع کریم رندھاوا
ارفع کریم رندھاوا

  

کسے معلوم تھا کہ فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولنے والی بچی ایک دن کمپیوٹر کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے گی اور اس کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوگا۔دنیا کی بے شمار عظیم شخصیات بچپن ہی سے اپنے عز م کی تکمیل کے لئے سخت جدوجہد اور محنت کرتی ہیں کہ وہ دنیا میں ایسا کام کر جائیں کہ آنے والے لوگ اس مقصد پر چل کر کامیابی حاصل کر سکیں۔ارفع نے یہ بات سچ کر دکھائی۔ ارفع کریم رندھاوا پاکستان کی  وہ بیٹی  ہے،جس نے اپنی مختصر زندگی میں کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی  کی دنیا میں وہ    کام کر دکھایا جس کی مثال مشکل ہے۔اس نے کم عمری میں  انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا لوہا منوایا اور چند ماہ کی تیاری سے کمپیوٹر پروگرامنگ میں مہارت حاصل کر لی،ا س کے علاوہ روحانیت، شاعری، موسیقی، علم فلکیات،معاشرت،احساس امروزو فکر فردا،وطن کی محبت،اشتیاق فن و ادب اور کثیر الزبان  قابلیت کے حسین امتزاج نے  اس کی شخصیت کو اوج کمال پر پہنچا دیا۔ارفع کریم رندھاوا کی زندگی میں بے شمار مشکلات بھی آئیں، جن کا اس نے حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا۔مجھے بہاولپور تعیناتی کے دوران دربار محل  میں  2016ء میں ارفع کریم  رندھاوا کے والدین سے ملاقات کا موقع ملا۔اور  پاکستان کی اس ذہین بیٹی کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا۔

ارفع کریم ایک پاکستانی طالبہ اور غیر معمولی ذہین بچی تھی، جو 2004ء میں محض نو سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (ایم سی پی) بن گئی۔ اس بنا پر ارفع کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈزمیں درج کیا گیا۔]یہ اعزاز 2008ء تک ارفع کے پاس رہا۔ نو برس کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک تہلکہ مچا دیا۔  اس سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا۔مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے ارفع کو صدر دفتر امریکا میں مدعو کیا اور خود ملاقات کی۔ارفع کریم رندھاوا مائیکروسافٹ کارپوریشن کی دعوت پر جولائی 2005ء میں اپنے والد کے ہمراہ امریکا گئیں۔ جہاں اسے دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند دی گئی۔ارفع کریم جب بل گیٹس سے ملی تو اسے  پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیاگیا۔ ایک روشن چہرے کا نام۔ بل گیٹس نے ارفع کریم سے دس منٹ ملاقات کی۔اس کے علاوہ دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے انہیں مد عو کیا گیا،جہاں انہیں مختلف تمغہ جات اور اعزازات د ئیے گئے۔

ارفع کریم نے دبئی کے فلائنگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔ارفع کریم رندھاوا کے انعامات کی فہرست بہت طویل ہے۔ارفع کریم کو 2005ء  میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ِ ”صدارتی ایوارڈ“ اور ”پرائڈ آف پرفارمنس”دیا گیا۔ ”مادرملت جناح طلائی تمغہ ”بھی عطا کیا گیا۔”سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ”سے بھی نوازا گیا۔مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ سن 2006ء کی تکنیکی ڈیولپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو مد عو کیا گیا تھا۔جنوری، 2012ء میں پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ارفع کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔حکومت   پاکستان نے بعد از وفات لاہور کا ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم نام سے منسوب کر دیا،علاوہ ازیں ان کے گاؤ ں کو بھی ارفع کریم کا نام دے دیا گیا۔ مجھے 2018 میں لاہور میں فیروز پور روڈ پر واقع خوبصورت ارفع کریم ٹاور میں مصنوعی ذہانت کے بارے ایک لیکچر سننے کا موقع بھی ملا۔کہا جاتا ہے ارفع کریم اپنی بیماری سے پہلے ناسا کے کسی پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔

دسمبر 2011 میں ارفع اچانک بیمار ہو گئی،2جنوری  2012کوبل گیٹس نے ارفع کریم کے والدین سے رابطہ کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ارفع کا علاج اپنی زیر نگرانی امریکہ میں کروانا چاہتے ہیں،بل گیٹس کے ہی کہنے پر امریکی ڈاکٹرکا پینل بنا،جو وڈیو کانفرنسزکے ذریعے پاکستانی ڈاکٹر کی رہنمائی اور معاونت کرتے رہے۔ارفع 14 جنوری 2012ء کو صرف 16  سال کی عمر میں عارضہ قلب کی وجہ سے لاہور میں  وفات پا گئی۔لیکن وہ پاکستان کے مستقبل  یعنی بچوں کے لئے یہ پیغا م چھوڑ گئی کہ محنت کے بل بوتے پر کوئی بھی انسان دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اور اپنے بلند خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔وہ تعلیم کے میدان میں سر سید احمد خان کی خدمات کی معترف تھی۔وہ پاکستان میں سلیکان ویلی کی طرز پر ڈیجیکان ویلی بنانا چاہتی تھی۔۔جہاں دنیا بھر سے طالب علموں کے مفت قیام اور تعلیم کا اعلی انتظام ہوتا۔اس کا وژن انٹرنیشنل لیول کا تھا اور اس کا مشن تھا کہ پاکستان بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے فیلڈ میں دوسری اقوام کے شانہ بشانہ کام کر سکے۔

وہ پر اعتماد شخصیت کی مالک تھی۔اسے کتابوں سے بہت محبت تھی۔وہ خود ہارورڈ یونیورسٹی اور دنیا کے نامور اداروں  میں پڑھنا چاہتی تھی۔وہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتی تھی۔اس نے  اپنے علاقے کے ایک گرلز ہائی سکول میں  کریم کمپیوٹر لرننگ سنٹر کا افتتاح کیا تھا۔جہاں طالب علم کمپیوٹر اور سائنس  کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں گفتگوپبلیکیشنز اسلام آباد کے زیر اہتمام پہلی بارارفع کریم رندھاوا کی زندگی پرمستند ترین کتاب ان کے والدین نے لکھی ہے۔ ارفع کریم رندھاوا کے والدین نے اس عظیم بیٹی کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی اور اور ارفع کے جدائی کے غم کو  اپنی کمزوری نہیں بننے دیا  بلکہ مشیت  ایزدی کے سامنے اپنا سر جھکا کر اسے  اپنی قوت بنا لیا  اور  ارفع کے تعلیم کے خواب   کو عام کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -