’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 11

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 11
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 11

  

عنصر کے پپوٹوں کو جنبش ہوئی اور اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں۔ بستر کے اردگرد اماں اور ابا کھڑے تھے۔ اس نے اُٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اسے تیز بخار چڑھا تھا۔ اگرچہ اس کی شدت کم ہو چکی تھی مگر جسم سے جان ندارد تھی۔ ماسٹر حمید نے اسے لیٹے رہنے کا اشارہ کیا۔ اماں اس کی حالت دیکھ کر مسلسل روئے جا رہی تھیں۔ سر میں درد کا احساس ہونے پر اس نے اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی پھیلا کر اپنی پیشانی کے دونوں سروں پر رکھی اور انہیں قدرے مضبوطی سے پھیرتا ہوا ملا دیا۔ اس نے اپنے آنکھیں بھینچ رکھی تھیں۔ چند بار یہ عمل دہرانے سے اسے کچھ سکون محسوس ہوا۔

”اب کیسے ہو بیٹے؟“ ماسٹر حمید نے شفقت سے پوچھا۔

عنصر کو اپنے دماغ پر بہت بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی بند آنکھوں کے سامنے ابھی تک وہی ڈراﺅنا واقعہ گھوم رہا تھا۔ ماسٹرحمید کی آواز سن کر وہ خیالات کی دنیا سے باہر نکل آیا۔

”میں ٹھیک ہوں ابا جان۔“

اس نے آہستگی سے کہا۔

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 10 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اسے بے حد شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ اماں کے منع کرنے کے باوجود نیلی حویلی کی طرف کیوں گیا۔ اس لیے اب وہ ان سے مسلسل نظریں چرا رہا تھا۔

اچانک عنصر کو ریاست کا خیال آیا تو ابا سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی ٹھیک ہے۔ اسے بھی آج ہی ہوش آیا ہے۔ تم دونوں پورے دو دن بیہوش رہے۔ ماسٹر حمید نے عنصر کو بتایا کہ جب وہ کھیتوں میں بیہوش ہوئے تو خوش قسمتی سے اُدھر سے کچھ کسان گزر رہے تھے۔ نیلی حویلی کے خوف کی وجہ سے اگر کسی کو نکلنا بھی پڑتا ہے تو وہ گروہ بنا کر نکلتے ہیں۔ اس رات بھی کچھ کسانوں کو کھیتوں سے لوٹنے میں دیر ہوئی تو سب ایک ساتھ نکلے۔ وہاں سے گزرتے ہوئے انہوں نے تم دونوں کی چیخوں کی آواز سنی تو دوڑے چلے آئے اور تمہیں پہچان کر گھر منتقل کیا۔

”ویسے تمہارے ساتھ وہاں کیا واقعہ پیش آیا؟“

ماسٹرحمید نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔

عنصر نے انہیں حرف بحرف تمام آپ بیتی سنا ڈالی۔ ماسٹر حمید حیرانی و پریشانی کے ملے جلے تاثرات لیے اس کی باتیں سنتے رہے۔

ریاست اور عنصر کے بیہوش ہونے کی خبر گاﺅں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تھی۔ اس لیے عنصر کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے سارا دِن لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ شاید اِس کی وجہ حال ہی میں وارث اور اکرم کی موت کا واقعہ تھا۔ لوگ عنصر کو دیکھتے‘ چہ مگوئیاں کرتے اور واپس چلے جاتے۔ شام تک یہی سلسلہ جاری رہا۔

رات تک عنصر کو بخار میں افاقہ ہو گیا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے اماں کو بتایا کہ وہ چہل قدمی کرنا چاہتا ہے تاکہ طبیعت بہل جائے۔ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا لیکن پھر اس شرط پر اجازت دے دی کے وہ گھر کے آس پاس ہی رہے گا۔ اماں سے اجازت لے کر عنصر باہر نکلا اور ریاست کی طرف چل پڑا۔ اسے اس کی بے حد فکر ہو رہی تھی۔ وہ گاﺅں میں اس کا اکلوتا بے لوث جگری یار تھا۔

عنصر کو اب افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے ساتھ ریاست کی زندگی خوامخواہ خطرے میں ڈالی۔ وہ جانتا تھا کہ ریاست کچھ ڈرپوک ہے مگر پھر بھی وہ اسے ضد کر کے ساتھ لے گیا تھا۔ اس لیے اب اس کو اپنے اس طرزعمل پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔

تھوڑی ہی دیر میں عنصر ریاست کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو بھابی نے دروازہ کھولا۔ سلام دعا کے بعد وہ اسے ریاست کے کمرے میں لے گئیں۔

”عنصر بھائی آپ ناراض تو نہیں ناں۔“

”ناراض....؟ کس بات پر بھابی؟“

عنصر نے حیرت سے پوچھا۔

”یہ آپ کو ضد کر کے نیلی حویلی کی طرف لے گئے تھے۔ انہوں نے مجھے سب بتا دیا ہے۔“ بھابی کے لہجے میں شرمندگی نمایاں تھی۔

عنصر نے بھابی کی بات سن کر چونک کر ریاست کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھ مار دی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ چپ رہے۔ ریاست نے عنصر کو شرمندگی سے بچانے کے لیے ساری بات اپنے سر لے لی تھی۔

”مگر....“

عنصر نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ریاست نے مداخلت کر دی۔

”کیا ہی اچھا ہو اس موقع پر اگر تم ہم دونوں کو چائے پلا دو۔“

اس کی بات سن کی بھابی نے اثبات میں سر ہلایا اور چائے بنانے چلی گئیں۔

بھابی کے جانے کے بعد عنصر نے ریاست کا بازو پکڑا تو وہ تیز بخار میں بھن رہا تھا۔

”ٹھیک ہوں یار۔ طبیعت اب بہت بہتر ہے۔ شکر ہے جان بچ گئی۔“

ریاست نحیف آواز میں بولا۔

”ہاں اللہ کا شکر ہے۔ اس نے ہمیں دوبارہ زندگی بخشی۔“

عنصر نے گہرا سانس لیا۔

”مگر ایک بات میرے دماغ میں اٹکی ہوئی ہے۔“

”کک .... کون سی بات؟“ ریاست ہکلایا۔

”تم نے کہا تھا اس طرف جو بھی جاتا ہے۔ زندہ واپس نہیں آتا تو پھر ہم....؟“

عنصر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

”اچھا اب تمہیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ اتنے خطرناک ایڈونچر کے بعد ہم دوبارہ سانس کیوں لے رہے ہیں؟ شکر کرو ادھر سے کچھ کسان گزر رہے تھے ورنہ....“

ریاست نے بات بات کرتے ہلکی سی جھرجھری لی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وارث اور اکرم کی سرکٹی لاشیں آ گئیں۔

”نہیں.... میری بات کا یہ مطلب نہیں۔“

عنصر کو اس موقع پر اپنی بات غیرمناسب معلوم ہوئی۔ چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دونوں سوچ رہے تھے کہ جس طرح کے حالات کا انہوں نے سامنا کیا ہے ایسے میں ان کا زندہ بچ جانا واقعی کسی معجزے سے کم نہیں۔

”ایک بات پوچھوں؟“

عنصر نے اجازت طلب کی تو ریاست اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

”میں نے سنا ہے چڑیلیں کبھی کبھی عاشق بھی ہو جاتی ہیں۔ اگر وہ چڑیل تم پر عاشق ہو جاتی تو پھر تمہارا کیا بنتا؟“

عنصر کی حس ظرافت جاگ اٹھی۔

”مجھ پر اب کس نے عاشق ہونا ہے۔ میری تو شادی ہو چکی ہے۔“

ریاست نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔

”یعنی تمہارے دل میں ابھی بھی خواہش ہے کہ تم پر کوئی عاشق ہو۔“

عنصر نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔

”یہ بات تم نے اپنی بھابی کے سامنے کہہ دی تو وہ میرا خون پی جائیگی۔“

ریاست نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

”تمہارا کہنے کا مطلب ہے بھابی ڈریکولا ہے۔“

عنصر نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا۔

”بھابی ڈریکولا۔ یہ کس بلا کا نام ہے؟“

ریاست نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں کہا۔

”تم نے ابھی تو کہا وہ تمہارا خون پی جائیں گی۔ اوپر سے تم نے انہیں بلا کا اضافی لقب بھی دے ڈالا ہے۔ تم بھابی کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتے ہو؟“

عنصر نے مصنوعی غصے سے کہا۔ وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں نظر آ رہا تھا۔

”پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔ نہ میں کسی چڑیل کو جانتا ہوں نہ بلا کو اور نہ ہی میرا کوئی ڈریکولا جاننے والا ہے ہاں البتہ....“

ریاست نے سر کھجاتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔

”ہاں ہاں ۔ بولو بولو۔ اب رک کیوں گئے؟“

عنصر نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔

”ہاں البتہ عاشق حسین کو جانتا ہوں جو بازار میں گنڈیریاں بیچتا ہے۔“

ریاست نے بھولپن سے کہا تو عنصر نے بہ مشکل اپنی ہنسی ضبط کی۔

”اب اتنے معصوم مت بنو۔ میں بھابی کو بتاتا ہوں کہ تم نے انہیں کیا کیا لقب دے ڈالے ہیں۔“

عنصر نے چڑھائی کر دی۔

”کیا لقب دیے ہیں؟“

ریاست نے پھر سر کھجاتے ہوئے کہا۔

”کیا تم نے نہیں کہا کہ وہ تمہارا خون پی جائیں گی۔“

عنصر نے اسے یاد دلایا۔

”ہاں یہ بات تو میں نے کہی تھی۔“

ریاست سوچ میں پڑ گیا۔

”اب یہ بتائو خون کون پیتا ہے؟ بتائو بتائو۔“

عنصر اس کے منہ سے اپنی مرضی کے الفاظ نکلوانا چاہتا تھا۔

”ڈریکولا .... اوہ میرے خدایا.... یہ میں نے کیا کہہ دیا۔“

ریاست نے گھبرا کر کہا۔

”شکر ہے تمہیں یاد آ گیا۔ اب میں بھابی کو بتاتا ہوں کہ تم نے انہیں ڈریکولا کہا ہے۔ پھر وہ تمہاری اچھی خاطر مدارت کریں گی۔“

عنصر نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”عنصر بھائی کس ڈریکولا کی بات کر رہے ہیں۔“

بھابی نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا تو ریاست گھبرا گیا۔ بھابی ریاست کیلئے گرم دودھ اور اس کے لیے چائے لے کر آئی تھیں۔

”کچھ نہیں بھابی۔ وہ میں کہہ رہا تھا انسان کا رنگ ڈر میں کوئلے کی طرح ہو جاتا ہے۔ آپ کو لگا میں نے ڈریکولا کہا ہے۔“

عنصر نے بات بدل دی۔

بھابی نے کچھ سمجھ نہ آنے والے انداز میں سر ہلایا اور دوبارہ کچن میں چلی گئیں۔

”تم سچ مچ شیطان کی پڑیا ہو۔“

ریاست نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی دوا منہ میں رکھی اور نیم گرم دودھ کے ساتھ گھونٹ بھر کر نگل گیا۔ عنصر چائے پیتا رہا۔ اس دوران ہلکی پھلکی باتیں بھی ہوتی رہیں۔ کچھ ہی دیر میں ریاست پر دوا کے اثرات ظاہر ہونے لگے اور اس پر غنودگی طاری ہو گئی۔ عنصر کی چائے بھی ختم ہونے کو تھی۔ اس نے آخری گھونٹ گلے میں انڈیلا اور اس سے الوداعی سلام کر کے گھر کی راہ لی۔ اس نے سوچا ریاست جتنا آرام کر لے اتنا ہی اس کیلئے بہتر ہے۔ گھر واپس جاتے ہوئے اس کے دماغ میں پھر وہی منظر آ گیا جو اس نے اور ریاست نے کھیتوں میں دیکھا تھا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ گاﺅں میں مشہور پراسرار کہانیاں واقعی سچ ہیں لیکن اس کی جھلک وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔

عنصر گھر لوٹا تو اماں اور ابا خلاف معمول جاگ رہے تھے۔ وہ اس کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ عنصر ان کے پاس بیٹھا تو اماں نے اسے گلے سے لگا لیا۔

”میرا لعل پتر۔ تجھے کچھ ہو جاتا تو پھر ہمارا کیا ہوتا۔ ہم تو جیتے جی مر جاتے۔“

اماں نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

”مجھے کچھ نہیں ہوا اماں۔ میں ٹھیک ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔“

عنصر نے اماں کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ اس نے اماں کو دبانا شروع کر دیا تاکہ وہ سو جائیں لیکن آج نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

”پتا ہے پتر۔ میں تمہیں کیوں نیلی حویلی کی طرف جانے سے منع کر رہی تھی؟“

اماں کے سوال پر عنصر چونک اٹھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔

”جس بھوت کو تُو نے وہاں دیکھا تھا پتر، تجھے پتا ہے وہ کس کا تھا؟“

اماں کے دوسرے سوال پر بھی عنصر نے نفی میں سر ہلا دیا۔

”وہ چوہدرانی نیک بخت تھی۔“

”چوہدرانی عمردراز کی بیوی۔“

اماں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”کیا ....؟ چھوٹی چوہدرانی۔“

عنصر کو ایسے لگا جیسے کسی نے اس پر ہزار واٹ کا کرنٹ چھوڑ دیا ہو۔

”جی پتر ! چھوٹی چوہدرانی۔ چوہدری عمردراز کی بیوی نیک بخت۔ تُو جانتا ہے ناں وہ میری بچپن کی سہیلی تھی۔ وہ تم سے بہت پیار کیا کرتی تھی۔ اس کے بھوت نے شاید اسی لیے تمہیں زندہ چھوڑ دیا۔ “

عنصر کو یہ انکشاف سن کر زور کا جھٹکا لگا۔

”چوہدری عمردراز نیک بخت پر بہت ظلم ڈھایا کرتا تھا ۔ وہ اسے بالکل پسند نہیں کرتا تھا حالانکہ وہ بے حد صابرشاکر اور نیک سیرت عورت تھی لیکن چوہدری عمردراز کو اس کی بالکل پروا نہیں تھی۔ وہ نیک بخت کو پاﺅں کی جوتی کے برابر سمجھتا تھا۔ چوہدری عمر دراز کی ماں اپنے بیٹے کو روکا کرتی کہ وہ اس پر اتنے ظلم نہ کیا کرے۔ اور پھر ایک دن گاﺅں میں خبر پھیل گئی کہ عمردراز کی ماں اچانک آگ لگنے سے جل مری ہے۔“

اتنا کہہ کر اماں خاموش ہو گئیں۔

”پھر کیا ہوا اماں ؟“

عنصر نے بیتابی سے پوچھا۔

”اس کی موت کے کچھ عرصے بعد چوہدرانی نیک بخت کو چوہدری عمردراز کے کسی ایسے راز کا پتا چل گیا تھا جس کی وہ چشم دید گواہ تھی۔ عمردراز کو خطرہ تھا کہ وہ یہ بات کہیں گاﺅں والوں کو نہ بتا دے۔ بس یہی سوچ کر عمردراز ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گیا۔ وہ بیچاری کسی طرح جان بچا کر حویلی سے بھاگ نکلی اور ہمارے گھر آ گئی۔“

اماں نے گہرا سانس لے کر توقف کیا۔

”کیا ہمارے گھر؟“

عنصر حیرت زدہ نظروں سے اماں کو دیکھ رہا تھا۔

”ہاں پتر! نیک بخت ہمارے گھر آ گئی۔ عمردراز بھی اس کے پیچھے پیچھے اپنے بندوں کو لے کر ہمارے گھر آ گیا۔ نیک بخت کو اپنی موت نظر آ رہی تھی اس لیے اس نے عمردراز کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ عمردراز نے زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو تیرے ابا اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے اور صاف صاف بتا دیا کہ وہ اس طرح نیک بخت بہن کو یہاں سے لے کر نہیں جا سکتا۔“

عنصر نے ماسٹر حمید کی طرف دیکھا جو خاموشی سے دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔

”پھر کیا ہوا اماں؟“

عنصر نے بے چینی سے پوچھا۔

”کیا بتاﺅں بیٹا۔ گاﺅں کے بڑے بوڑھوں نے تیرے ابا کو سمجھایا بجھایا تو وہ اس شرط پر بھیجنے پر راضی ہو گئے کہ نیک بخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ گاﺅں کے معزز لوگوں نے اپنی ضمانت پر تیرے ابا کو راضی کیا کہ وہ اسے چوہدری عمردراز کے ساتھ جانے دے۔ اس طرح نیک بخت چوہدری عمردراز کے ساتھ چلی گئی مگر اگلے روز خبر آئی کہ نیک بخت بھی پراسرار آگ لگنے سے زندہ جل کر مر گئی ہے۔“

سہیلی کو یاد کر اماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔

”پورے گاﺅں میں مشہور ہو گیا کہ چھوٹی اور بڑی چوہدرانی کو بدروحوں نے آگ لگائی ہے۔ پھر نیلی حویلی کے بارے میں عجیب و غریب خبریں پھیلنے لگیں کہ وہاں بدروحیں پھرتی ہیں۔ نیلی حویلی کی رونقیں ختم ہو گئیں کیونکہ نیک بخت اور بڑی چوہدرانی کی وجہ سے لوگ وہاں جاتے تھے مگر ان دونوں کے بعد یہ کہانی ختم ہو گئی اور دوسری کہانی شروع ہو گئی۔ نیلی حویلی میں روز عجیب عجیب واقعات ہونے لگے۔ ایک دن تو خبر آئی کہ چوہدری عمردراز کے ایک ملازم کا بدروح نے کان بھی چبا ڈالا ہے۔“

اماں دم لینے کیلئے رکیں۔

”اوہ میرے خدایا!“

عنصر کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ اُسے یاد آیا کہ ریاست اور اسے چوہدری عمردراز کی حویلی کے گیٹ پر جو ملازم ملا تھا اس کا کان بالکل ایسے ہی تھا جیسے کسی نے اسے چبایا ہو۔

”چوہدری عمردراز نے اِن واقعات کے بعد نیلی حویلی چھوڑ دی اور نئی حویلی میں چلا آیا۔ اس کے بعد سے نیلی حویلی کی طرف کوئی نہیں جاتا۔ لوگوں نے کئی بار اُن بدروحوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اکثر وہ رات کو حویلی کے اردگرد پھرتی نظر آتی ہیں۔ سب ڈر گئے ہیں اس لیے کوئی بھی اُدھر نہیں جاتا۔ میں بھی تجھے اسی لیے کہتی تھی اُدھر نہ جانا۔ نیلی حویلی کے صحن میں عمردراز کی ماں اور نیک بخت کی قبر بھی ہے۔ خیر مجھے لگتاہے نیک بخت نے شاید تجھے پہچان لیا تھا کہ تو میرا بیٹا ہے اور اس نے تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“

اماں اتنی بات کر کے خاموش ہو گئیں۔

عنصر ان کے پاﺅں دباتا رہا حتیٰ کہ وہ سو گئیں۔

عنصر نے ریاست کی زبانی نیلی حویلی کے جو پُراسرار واقعات سنے تھے اماں کی باتیں ان کی تصدیق کر رہی تھیں۔ سب واقعات میں ایک بات مشترک تھی کہ نیلی حویلی بہت سارے مظالم کی اکلوتی چشم دید گواہ تھی۔ اس ویران جگہ کی پراسراریت نے گاﺅں کے باسیوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ عنصر کے سامنے بہت ساری باتیں آشکار ہو گئی تھیں۔

اسے بالکل امید نہیں تھی کہ یونان سے واپسی پر اسے ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ تو سکون کی خاطر اپنوں سے ملنے کیلئے گاﺅں واپس لوٹا تھا مگر حالات کروٹ لے چکے تھے۔ اب یہ وہ گاﺅں نہیں رہا تھا جہاں وہ آزادی سے گھومتاپھرتا تھا۔ ریاست کی زبانی نیلی حویلی کے واقعات سن کر اسے یقین نہیں آیا تھا مگر خود اس پر بیتنے والے واقعے اور پھر اماں کی باتیں اس کے ذہن میں تیزی سے گردش کر رہی تھیں۔

اماں سو چکی تھیں۔ ابا بھی اپنی چارپائی پر لیٹے خراٹے لے رہے تھے۔ عنصر نے تمام باتوں کو ذہن سے جھٹک کر دوا کی آخری خوراک لی اور سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے آئندہ نیلی حویلی کی طرف جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس پر نیند نے غلبہ پا لیا اور اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ اُس رات خوب بارش ہوئی۔ آنے والے دن کس قدر ہنگامہ خیز ہوں گے اس بات سے بے خبر عنصر گہری نیند سویا رہا۔(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 12 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -نیلی حویلی -