بہاولپور سولر منصوبہ۔۔۔ عارف سعید اور نجم شاہ سے مکالمہ

بہاولپور سولر منصوبہ۔۔۔ عارف سعید اور نجم شاہ سے مکالمہ
بہاولپور سولر منصوبہ۔۔۔ عارف سعید اور نجم شاہ سے مکالمہ

  

روز بروز گرمی کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ سورج اپنے جوبن پر پہنچ رہا ہے۔ اِسی طرح ملک میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ وہی گھنٹہ بعد گھنٹہ کی صورت حال ہوتی جا رہی ہے۔ یہ تو شہری علاقوں کی صورت حال ہے ۔ دیہی علاقوں میں تو بجلی نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ چین کے صدر کے دورہ کے بعد بجلی کے منصوبوں کے حوالہ سے ایک امید بھی پیدا ہو ئی ہے۔ کہ بجلی کے مسئلہ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بہاولپور میں سو میگاواٹ کے سولر منصوبہ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ جہاں پاکستان میں پہلا سولر منصوبہ ہے وہاں حکومت پنجاب کی ملکیت ہے۔ اس لئے اس کو میاں شہباز شریف کی خصوصی کاوش کہا جا رہا ہے، لیکن اس افتتاح کے بعد سولر کے حوالہ سے ملک بھر میں تحفظا ت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سولر کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان سوالات کے جواب جا ننے کے لئے ہم نے عار ف سعید صاحب اور نجم شاہ سے رابطہ کیا جو پنجاب میں اس100 میگاواٹ منصوبہ لگانے والی سولر کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔

ان کے دفتر پہنچا تو لوگ انہیں کو مبارکیں دے رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کے منصوبہ پر بہت سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ کہنے لگے یہ افسوسناک بات ہے کہ ہم قومی منصوبوں کو متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پاکستان میں سولر کا پہلا منصوبہ لگا ہے۔ اس حد تک تو سب متفق ہیں کہ ملک میں انرجی سیکیورٹی حاصل کرنے کے لئے ہمیں تمام ممکنہ وسائل سے بجلی بنانی چاہئے۔ اس ضمن میں مقامی وسائل کو ترجیح دینی چاہئے۔ تمام توانائی ماہرین یہی مشورہ دے رہے ہیں اگر ہمیں توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے تو ہر قسم کی بجلی بنانی ہو گی۔ اِسی کو انرجی مکس کہتے ہیں۔ اس لئے سولر پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ کا واحد حل نہیں ہے، لیکن یہ مسئلہ کے حل کی طرف ایک بڑھتا قدم ہے۔ مَیں نے کہا کہ سب سے بڑی تنقید یہی ہے کہ اس سے رات کو بجلی نہیں بنے گی۔ کیا فائدہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کا ۔ اس کی جگہ ایسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہئے جو دن رات بجلی بنائیں۔ عارف سعید اور نجم شاہ دونوں مسکرائے کہنے لگے ہم کوئی سیاسی لوگ نہیں، لیکن بات سادہ ہے کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ سب سے سستی بجلی پانی یعنی ہاہیڈل بجلی ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ڈیم بنائے جاتے ہیں، لیکن یہ ہائیڈل بجلی بھی تو سارا سال نہیں میسر ہوتی۔ سردیوں میں ایسے ماہ بھی آتے ہیں جب پانی بالکل ختم ہو جا تا ہے۔ ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ جاتے ہیں اور بجلی بننا بند ہو جاتی ہے تو کیا یہ کہا جائے کہ چونکہ ڈیم سے بجلی سارا سال نہیں مل سکتی، لہٰذا ڈیم نہ بنائے جائیں۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس طرح تو ملک میں صرف تیل کے بجلی کے کارخانہ رہ جائیں گے، جو کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔ سولر سارا دن بجلی بنائے گا۔ ہم سولر کو جس قدر بڑھائیں گے اتنا دن میں ہمیں مہنگی بجلی بنانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔مَیں نے کہا کہ اس کے ٹیرف پر بھی بہت اعتراضات ہیں۔ کہنے لگے آپ یہ سمجھیں پاکستان میں ا س سے قبل سولر کا کوئی پلانٹ نہیں تھا۔ ہم سورج سے ایک یونٹ بجلی بھی نہیں بنا رہے تھے۔ اس لئے سولر کا ٹیرف موجود ہی نہیں تھا۔ ٹیرف کے حوالہ سے اندازے ہی تھے۔ اس لئے پہلے 20سینٹ کی بات ہوئی۔ پھر پہلا ٹیرف 17 سینٹ کا آیا، لیکن اب 14سینٹ کا ٹیرف آیا ہے، لیکن ہمیں امید ہے جس جس طرح پلانٹ چلے گا ہم ٹیرف کو مز ید بہتر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ دراصل اس سے ہم کیا نیپرا بھی سیکھ رہا ہے۔ میں نے کہا یہ ٹیرف زیادہ نہیں ۔ سورج مفت ۔ پھر سولر بجلی مہنگی کیوں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے 131ملین ڈالر کا قرضہ بھی تو ہے وہ بھی دس سال میں واپس کرنا ہے۔ اس لئے دس سال کے لئے ٹیرف زیادہ ہے۔اس کے بعد تو یہ بجلی نہائت سستی ہو گی۔ آپ کی بات درست ہے کہ سورج مفت ہے۔ مَیں نے کہا کہ پھر بھی زیادہ لگ رہا ہے وہ کہنے لگے اس وقت تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نہایت کم سطح پر ہیں۔ اس لئے یہ کہا جا رہا، لیکن اگر ایک سال بعد تیل واپس اسی قیمت پر پہنچ گیا تو تیل سے بنائی جانیوالی بجلی کتنی مہنگی ہو جائے گی۔ تنقید کرنے والوں کو اس کا بھی اندازے کرنا چاہئے۔ کم ازکم سولر کا ٹیرف مستحکم تو ہے۔ سورج نے نہ مہنگا ہو نا ہے نہ سستا۔ کم از کم اس میں استحکام تو ہے کہ ہم ایک لمبی پلاننگ بھی کر سکتے ہیں۔ پھر تیل کی درآمد میں زر مبادلہ بھی خرچ ہو تا ہے، جو مسلسل حکومت پر ایک دباؤ ہے، لیکن سولر میں تو ایک دفعہ پلانٹ لگ گیا ۔ اس کے بعد کوئی زرمبادلہ خرچ نہیں ہو نا ۔ سب کچھ اپنا ہی ہے۔ مَیں نے کہا کہ اس کی استطاعت پر بھی سوالات ہیں۔ کہ یہ100 میگاواٹ بجلی نہیں بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک جنریٹر لیں تو وہ بھی پوری قوت پر نہیں چلتا۔ یہ سورج کے حساب سے بجلی بنائے گا۔ جب سورج جوبن پر ہو گا تو زیادہ بجلی بنائے گا۔ جب سورج کم ہو گا کم بجلی بنائے گا سادہ اصول ہے۔ گرمیوں میں جب دوپہر کو بجلی کی ڈیمانڈ زیادہ ہو گی ۔ جسے peak hours بھی کہتے ہیں یہ بجلی زیادہ بنائے گا اور صبح اور شام کو کم بنائے گا۔ لیکن یہ پوری دنیا میں ایسا ہی ہے۔مَیں نے کہا کہ اس طرح تو گرمیوں میں زیادہ بجلی بنائے گا کہنے لگے نہیں،جب موسم نہ گرم ہو اور نہ سرد یعنی درجہ حرات 25ڈگری سنٹی گریڈ پر ہو تو اس کی کارکردگی سب سے بہترین ہوتی ہے یعنی مارچ اور اکتوبر اس کے لئے بہترین ہیں، ویسے سارا سال بجلی بنے گی۔ اور بہترین بنے گی۔ مَیں نے کہا کہ لوگ تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ آپ کہہ رہے ہیں یہ بہت کامیاب ہے۔ کیسے مان لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2013ء میں جب سولر سے بجلی بنانے پر کام شروع ہوا تو آپ مانیں گے کوئی سرمایہ کار 20 سینٹ پر بھی سولر منصوبہ لگانے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بہت آئے اور چلے گئے۔ اب جبکہ یہ100 میگاواٹ کا لگ گیا ہے تو 1450 میگاواٹ کے لئے کمپنیوں نے بنک گارنٹی جمع کروا دی ہے، حالانکہ اب ٹیرف بھی کم ہے اور سب کو معلوم ہے یہ اور کم ہو جا نا ہے جو اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس نے سرمایہ کار کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں سولر لگ سکتا ہے ۔ بس یہی اس کی کامیابی ہے۔

مزید : کالم