جھیل کنارے،جاپان بدل گیا

جھیل کنارے،جاپان بدل گیا
جھیل کنارے،جاپان بدل گیا

  


جاپان میں جھیلیں کمال قدرت کا نظارہ کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کے کئی فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ پانی کا محفوظ ہونا ،اس کے علاوہ مچھلیوں کی افزائش ۔ انسانوں کے لیے یہ فائدہ ہے کہ وہ اپنے دکھ اور پریشانیاں دورکرنے کے لیے پانی اور سبزے کا سہارا لے سکتا ہے۔ ایک تو کمال قدرت کا حسین منظر اور دوسر ا طبعیت بھی ہشاش۔

جاپان میں ہر سال 107 ملین لوگ ان جھیلو ں کو دیکھنے آتے ہیں۔ سب سے زیادہ لوگ 37 ملین BIWA لیک پر جاتے اور کمال قدرت کے نظاروں سے اپنے ذہن کو کشادگی بخشتے ہیں۔ جاپان کے ان حسین نظاروں میں ایک TAKAMATSHU جھیل بھی ہے۔ایک روزہم بھی اس کا نظارہ کرنے نکلے۔ چلیے آپ کو بھی ساتھ لیے چلتے ہیں۔

ساتھی۔۔۔ تو وہی موج کر رہا تھا۔۔۔ ہم بھی اس کے ساتھ ہو نے کو نکلے۔۔۔۔ آج کچھ پلان تھا۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے جب چیز پلان اور ارادے سے ہو وہ مزا نہیں رہتا۔۔۔اگر اچانک سرزد ہو تو وہ یادگار بنتا ہے لیکن قدرت کے کمال ہر حال میں ہی یادگار ہوتے ہیں۔۔۔۔راستے میں Iwate زرعی یونیورسٹی ہے ۔ یہ علاقہ زرعی ہے اس لیے یہاں یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔۔۔۔ ایک دوست جو بنگال سے سکالرشپ پر آئے تھے ان کو بھی ساتھ لیا۔۔۔کیونکہ ایک اورایک گیارہ ہوجاتے ہیں۔۔۔وہ بھی نئے نئے وارد ہوئے تھے اس لیے دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔اس لیے ہم ان کے لیے نعمت سے کم نہ تھے ۔کوئی تو اپنوں جیسا ملا۔دوستو پردیس میں آپ کو کوئی اپنے جیسا مل جائے تو کمال ہوتا ہے۔

یونورسٹی کے گیٹ پر پہنچا۔۔۔دیکھ کر حیران۔ نہ اونچی دیواریں۔۔۔ نہ خاردار تاریں۔۔۔ نہ بڑے گیٹ۔۔۔۔ نہ سکینر۔۔اور. ہی شناخت پریڈ۔۔۔جس کے ہم پاکستان میں عادی ہوچکے تھے۔۔۔دوست کو فون کیا۔۔۔۔ اس نے کہاکہ اندر آ جاؤ۔۔۔ عرض کیا کہ میرے پاس کارڈ نہیں۔۔۔ ہنسا۔۔۔ سب شانتی ہے۔۔۔ بھول جاو۔۔۔ اپنے وطن۔۔۔ کو۔۔۔ پھر عرض کیا کہ کیسے بھول جاؤں۔۔۔ جسم یہاں۔۔۔ روح وہاں۔۔۔جیسا ہے۔۔۔ اپنا ہے۔۔۔

آج گاڑیوں میں پہلے سے زیادہ۔۔۔ لوگ سلام۔۔ کر رہے تھے۔ پتانہیں کیا راز تھا۔۔۔۔جھیل کنارے پہنچے۔۔۔ دوست تو ساکت ہو گیا۔۔۔ کہا کہ آگے چل۔۔۔ ابھی تو ابتدا ہے۔۔۔جہاں ساتھی کو چھوڑ آیا تھا۔۔۔ وہی سے شروع۔۔۔ یہ جھیل چھوڑیے۔۔۔ نئی منزل کو چلیں۔۔۔ ساتھی نے سر گوشی کی۔۔۔۔کمال قدرت۔۔۔آنکھوں کا نور۔۔۔ دل کا سرور۔۔۔سب کچھ تھا۔۔۔ لیکن روح بے تاب تھی۔۔۔ کچھ آگے بڑھے۔۔۔دوست تو جواب دے گیا۔۔۔۔ ساتھی آگے جانے کو بے چین۔۔۔ایک جگہ دیکھی۔۔۔۔ سوچا کہ اقبال اگر قرطبہ میں۔۔۔۔صدائے اللہ اکبر گونجا سکتا ہے۔۔۔۔ ہم یہاں کیوں نہیں۔۔۔۔ لی جئیے۔۔۔ کمال قدرت میں۔۔۔۔اس قادر مطلق کے نام کوبلند کیا۔۔۔ جو سرور آیا۔۔۔۔ اللہ جانے یا میں۔۔۔ دل میں یہی بات۔۔۔ کوئی نہیں تو یہ درخت تو اس کا نام سن کرسجدہ کریں گے۔۔۔۔یہ فضا تو گواہی دے گی۔۔۔

جھیل کیا تھی،سبحان اللہ ۔۔۔جیسے تمام رنگ یہاں بکھیر دیے۔۔۔۔پہلی جھیل تو بھول گئی۔۔۔۔ ساتھی تو لوٹ پوٹ۔۔۔۔ آنکھیں کہ۔۔۔۔ یقین نہ آئے۔۔۔۔ حقیقی ہے یا جاپانی پینٹنگ۔۔۔اور ساتھ دوسا کما یا۔ باقاعدہ مچھلیوں کا شکار کرنے والوں کے لیے سامان موجود۔۔۔سبحان اللہ قدرت کی ترانے۔۔۔ایک مومن کے لیے سیر کرنا بھی عبادت بن جاتی ہے ۔جب وہ نظرسے قدرت کو دیکھتا ہے، اس کی نظریں اس کے مالک کی طرف اُٹھ جاتی ہیں۔۔۔مالک کا اقرار کرنا ہی عبادت ہے. ۔۔۔آج ہم نے جھیل کے پانی کا منبع بھی تلاش کر لیا۔۔۔۔شفاف پانی۔۔۔۔برف پوش پہاڑوں سے چھن چھن کر۔۔۔ جھیل کا حصہ بن رہا تھا۔۔۔۔ مچھلیاں۔۔۔۔ اتنی نڈر۔۔۔ کہ ہاتھوں سے چھننے کو آئیں۔۔۔ایک کشتی بھی تھی۔۔۔۔ مختلف ممالک کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔پاکستان کا نہیں تھا۔۔۔۔پاکسانیت۔۔۔۔ جاگی۔۔۔۔ گوگل چاچو کا سہارالیا۔۔۔۔ ذمہ دار کو بتایا۔۔زور سے ہنسا۔۔۔۔ اور لگانے کا وعدہ کیا۔۔۔۔

سن لیجئے ۔اب جاپانی بھی منصوبہ بندی کو نہیں مانتے۔۔۔۔ یا شاید۔۔۔۔دو بچے جلد پیدا۔۔۔ کر کے۔۔۔ آزاد ہونا چاہتے ہیں ۔ ایک بچہ گود میں۔۔۔ دوسرا بھی گود میں اٹھائے چل رہے ہوتے ہیں۔لگتا نہیں مگر حقیقت ہے ،جاپان بدل چکا ہے۔جو بدلنا چاہیں قدرت ان کی رہ نمائی کرتی ہے۔پاکستان نہ جانے کب بدلے گا،جاپان تو بدل گیا ہے۔ایٹم کی آگ سے اس نے اپنی دھرتی کی راکھ وک پھر سے سبزہ زار بنالیا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ