معاشی غلامی، بدترین غلامی

معاشی غلامی، بدترین غلامی
معاشی غلامی، بدترین غلامی

  

ہمیں مان لینا چاہئے کہ دُنیا میں سرمایہ دارانہ نظام نے نہ صرف چھوٹے،بلکہ بڑے ممالک کی آزادی کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے، ہماری تو اکہتر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیں ایک دن کے لئے بھی سرمایہ داری کے اس عالمی نظام کی غلامی سے نجات نہیں ملی۔جس طرح بنیا سود پر قرضہ لینے والوں کو تلاش کرتا پھرتا ہے،اُسی طرح یہ عالمی سرمایہ دار بھی کمزور معیشت والے ممالک کی تاک میں رہتے ہیں،پھرانہیں قرضے کے جال میں ایسا پھنساتے ہیں کہ نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑتے،پہلے اُسی ملک کی شرائط پر قرضہ دیتے ہیں، جب وہ پوری طرح جال میں پھنس جاتا ہے اور اس کے پاس قرض لوٹانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تو اپنی شرائط رکھ دیتے ہیں۔آئی ایم ایف اِس سرمایہ دارانہ عالمی نظام کا سب سے بڑا ’’بدمعاش‘‘ ہے۔

یہ یہود و نصاریٰ کے اشارے پر چلتا ہے اور جہاں کہیں امریکی مفادات پر زد پڑتی ہے، اُس ملک کا گلا دبا کر امریکی ڈکٹیشن ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پاکستان اُن بدقسمت ممالک میں سے ایک ہے،جو اس عالمی استعمار کے نمائندہ مالیاتی ادارے کے دروازے پر بار بار قرض کی بھیک مانگنے کے لئے جاتا رہا ہے۔ اب تیرہویں مرتبہ آئی ایم ایف کو نجات دہندہ سمجھ کر موجودہ حکومت بھی بیل آؤٹ پیکیج لینے اُس کے درِ نیاز پر سجدہ ریز ہوئی ہے،اس عالمی مالیاتی مافیا کے سب سے اہم رکن کی شرائط بہت کڑی ہوتی ہیں۔

حالت یہ ہے کہ اب یہ شرح سود بھی اپنی مرضی کی لیتا ہے اور یہ بھی خود بتاتا ہے کہ لئے گئے قرض کو کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ اس کے اشارے پر کسی ملک کو امداد کے باقی سب دروازے بند ہو جاتے ہیں اور صرف اسی کا در کھلا ملتا ہے،جس کی وجہ سے اس کی ہر بات ماننا پڑتی ہے، جیسا کہ اس بار پاکستان کے ساتھ ہوا ہے۔ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات، سب سے رجوع کیا گیا، مگر حیران کن طور پر وعدوں کے باوجود مشکل وقت میں پاکستان کی امداد نہیں کی گئی، جس کے بعد سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہ رہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جایا جائے۔یہ ایسا ظالم سود خور ہے کہ پہلے اپنی شرائط منواتا ہے، جس دن وزیر خزانہ اسد عمر ملائیشیا آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے گئے اُسی دن ڈالر تاریخی طور پراوپر چلا گیا۔یہ اتفاقاً نہیں ہوا،اسٹیٹ بینک نے باقاعدہ اس کی منظوری دی، تب انٹر بینک ریٹ میں تقریباً دس روپے بڑھ گئے۔

پاکستان نے جتنا قرضہ لے رکھا ہے اور اس پر جتنا بھاری سود وہ ادا کر رہا ہے،اُس سے تو نہیں لگتا کہ وہ قرضوں کی اس دلدل سے کبھی نکل سکے گا۔ جس ملک نے ہر سال آٹھ ارب ڈالر صرف قرضوں کی مد میں واپس کرنے ہوں، وہ ملک کیسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔اُسے تو قرضے واپس کرنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔یوں یہ شیطانی چکر مزید بڑھ جاتا ہے۔شاباش ہے ہماری حکومتوں اور گزرے ہوئے حکمرانوں پر کہ قرضے لیتے رہے،عیاشی کرتے رہے۔ یہ نہ سوچا کہ یہ جنجال پورہ ختم کیسے ہو گا؟ جس طرح نواز شریف حکومت بھاری قرضوں کا بوجھ چھوڑ گئی ہے،اُسی طرح باقی حکومتیں بھی اگلی حکومتوں کے لئے بوجھ چھوڑ کر جاتی رہی ہیں، قرضے لے کر ایسے اڑائے گئے جیسے مال غنیمت اُڑایا جاتا ہے، 30ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر گیا کہاں، ملک میں کہاں لگا اور اُس سے تبدیلی کیا آئی، کوئی کچھ نہیں بتا سکتا۔ ہاں غریبوں کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے ضرور نکل رہے ہیں،جن کی وجہ سے ہر شخص حیران ہے کہ ایسا حاتم طائی کون ہے، جو اس طرح اربوں روپے تقسیم کر رہا ہے؟

ہمیں کون عقلمند کہے گا کہ ہم قرضے لے کر جو منصوبے بناتے ہیں،اُن پر ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی بھی دیتے ہیں،یعنی ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ والی بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان قرضوں سے ایسے منصوبے بنائے جاتے، جن سے نہ صرف قرضوں کی واپسی ممکن ہوتی،بلکہ خود کفالت کی طرف قدم بھی بڑھتے،مگر یہاں تو ترقیئ معکوس نے ہمیں ایسے جکڑا کہ پاؤں اُٹھنے کا نام نہیں لے رہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہنے کو تو بہت کہہ دیا تھا،لیکن عملاً انہیں اپنے مجبور ہونے کا احساس ہو چکا ہو گا۔وہ کسی کے آگے دستِ طلب دراز نہ کرنے کی باتیں کرتے رہے،قرض لینے کو ایک ذلت قرار دیتے اور اس کی وجہ سے اپنی آزادی گروی رکھنے کے عذاب سے نکلنے کی نوید سناتے رہے،تاہم جب کشتی میں بیٹھ کر دریا میں اُترے تو حساس ہوا کہ چپو ہے نہ ملاح۔

یہ تو سب کچھ عالمی استعمار کے پاس ہے،جس کی مدد کے بغیر یہ کشتی کنارے لگ ہی نہیں سکتی۔اب وہ کیا کریں، کشتی سے چھلانگ لگائیں یا اُسے خدا کے سہارے چھوڑ دیں؟قوم نے اُنہیں اپنی ملاحی سونپی ہے تو انہیں سفینے کو کنارے بھی لگانا ہے، سب تنقید کر رہے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئی ہے، بجلی، گیس کیوں مہنگی کر رہی ہے، عوام پر ٹیکس کیوں لگا رہی ہے، کاش قوم نے اُس وقت بھی آنکھیں کھلی ر کھی ہوتیں،جب اربوں ڈالر کے قرض لے کر انہیں خوردبرد کیا جا رہا تھا، جب قرض پر قرض چڑھ رہا تھا اور مانگے ہوئے پیسوں سے جعلی ریلیف دے کر ایسا گڑھا کھودا جا رہا تھا،جس سے نکلنے کی تدبیر کسی کے پاس نہیں تھی۔

ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو، عالمی سطح پر عزت بھی ہو،ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے اور ہم امریکہ کے ’’ڈو مور‘‘ کو بھی جھٹک دیں تو یہ دیوانے کے خواب کہلائیں گے۔موجودہ گلوبل ویلیج میں ہر ملک دوسرے کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ یہ امپورٹ اور ایکسپورٹ کا جال بھی کچھ کم سخت نہیں ہے،اس کے لئے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے، تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک ڈالر کا کوئی توڑ نہیں نکالا جا سکا۔یورپ نے اپنی یورو کرنسی بھی متعارف کرائی، مگر وہ ڈالر کی گرفت کو کمزور نہ کر سکی۔ آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بینک سبھی امریکی ڈالر کو عالمی نظام قرار دیتے ہیں۔ ڈالر کی برتری کا مطلب ہے امریکی تسلط۔۔۔ جس طرح امریکہ صنعت کے حوالے سے دُنیا میں ایک سپر پارو کی حیثیت رکھتا ہے، اُسی طرح ڈالر کی وجہ سے اُس نے عالمی معیشت پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

کتنے ہی ممالک نے کوشش کی کہ ڈالر سے ہٹ کر عالمی کاروبار کو فروغ دیں، تھوڑی بہت کامیابی بھی حاصل کرتے رہے،مگر ڈالر کے جال سے نہ نکل سکے۔ آج بھی امریکہ جب چاہتا ہے کسی ملک کی معیشت کو ڈالر کے اُتار چڑھاؤ سے جھٹکا دے دیتا ہے، اب ذرا ایک لمحے کے لئے غور کیجئے کہ تحریک انصاف نے جتنے بلند بانگ دعوے کئے تھے، وہ ایک ایک کر کے حرفِ غلط کیوں ثابت ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اِس کے اور کوئی نظر نہیں آئے گی کہ خزانے میں ڈالر نہیں ہیں،جبکہ سارا نظام ڈالر پر چل رہا ہے، غیر ملکی ادائیگیاں، درآمدات، قرض کی واپسی،تیل، بجلی غرض کوئی بھی چیز اِس عفریت سے محفوظ نہیں، حتیٰ کہ اسلحہ خریدنے کے لئے بھی ڈالر ہی درکار ہیں،سو ایک مجبوری تو لاحق ہے اور مجبور لوگوں کے کتنے حقوق ہوتے ہیں،کتنی آزادی ہوتی ہے،اس بارے میں کون نہیں جانتا۔ جو حقیقت ہے اُسے مان لینا چاہئے اور پھر اسے مدِ نظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ یہ وہ موقع ہے،جس سے اپوزیشن کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔

ملک کو خدا نخواستہ معاشی دیوالیہ پن کی طرف جانا پڑا تو یہ کسی ایک کا نہیں،سب کا نقصان ہو گا۔صرف حکومت پر چڑھائی کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ یہ کہنا کہ ہم نے گیس اور بجلی کے نرخ نہیں بڑھائے،اِسِ لئے موجودہ حکومت کو بھی نہیں بڑھانے دیں گے، ایک خود غرضانہ فعل ہے، کیونکہ نرخ نہ بڑھانے ، مصنوعی طور پر ریلیف دیئے رکھنے کی وجہ سے ہی تو حالات اِس نہج تک پہنچے ہیں، ہر چیز میں خسارہ بڑھتا رہا اور اس کے لئے قرض لیا جاتا رہا۔یہ معیشت اتنے خسارے کب تک اور کیسے برداشت کر سکتی ہے؟وزیراعظم عمران خان کے حوصلے کی داد دینی چاہئے کہ انہوں نے اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے زعم میں معیشت کی مصنوعی مضبوطی کا فارمولا استعمال نہیں کیا۔انہوں نے سخت فیصلے کئے اور قوم کو اعتماد میں لیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہم قرضوں کی دلدل سے کسی صورت میں نہیں نکل سکتے۔حکومت کو باامر مجبوری بیل آؤٹ پیکیج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔فوری زرمبادلہ خزانے میں نہ آیا تو بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے،ملک اِس بار قرضوں کی دلدل سے نہ نکلا تو پھر شاید کبھی نہ نکل سکے اور عالمی سرمایہ دارانہ استعمار کی غلامی ہمیشہ کے لئے ہمارا مقدر بن جائے۔

مزید : رائے /کالم