جاہلوں کو سلام

جاہلوں کو سلام

  

میں بہت عرصہ تک اس خیال کا اسیر رہا کہ سوشل میڈیا علم، سچ ، جرأت اور نت نئے تصورات کی ترویج کر رہا ہے اور اب مجھے یوں لگتا ہے کہ وہاں جہالت ، جھوٹ، منافقت اور تعصب کے سوا کچھ بھی نہیں ، سب لکیر کے فقیر ہیں اور لکیریں بھی ایسی جیسے دماغوں کے پختہ پتھروں پر کُھدی ہوں۔کبھی تصویر کو ہزار لفظوں سے بڑا سچ مانا جاتا تھا ، فوٹو شاپ تو پرانی ، مشکل اورپروفیشنل سافٹ وئیر ہوئی، اب ایسے ایسے ایپس آ گئے ہیں کہ تصویر بھی سچ نہیں رہی۔ مجھے تازہ ترین اور حقیقی افسوس اس وقت ہوا جب ایک شخص نے ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم ’اخوت ‘کے زیر اہتمام بادشاہی مسجد میں دس ہزار غریب پاکستانیوں کو بلا سود قرض فراہم کرنے کی تصویر شئیر کی اور اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے نکتہ آرائی کی، قرض دئیے جا رہے ہیں مگر بے روزگاری اور مہنگائی ختم کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے،اس پوسٹ کے نیچے اندھوں اور جاہلوں کی ایک قطار تھی جوپوسٹ کی حمایت برائے حمایت اور تقریب کی مخالفت برائے مخالفت کئے جا رہی تھی حالانکہ سب سے پہلا سوال تو یہی کیاجانا چاہئے تھا کہ اے عقل اور منطق کے پیچھے لاٹھی لے کر پھرنے والے، یہ تو بتا کہ لوگوں کو اپنا روزگار فراہم کرنے سے بڑا بے روزگاری ختم کرنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے اور اسی طرح مہنگائی ایک اضافی اصطلاح ہے۔ کسی کے لئے شدید سردی میں لنڈے بازار سے ملنے والا سو روپے کاپرانا سویٹر بھی مہنگا ہے تو کسی دوسرے کے لئے دس ہزار روپوں میں ایک اعلیٰ برانڈ کاسو گنا مہنگا اور نیا سویٹر بھی سستا ہے۔

یہ کئی برس پہلے کی بات ہے جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جلاوطنی کے بعد ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد بجٹ پیش کیا اوراس پر بات چیت کے لئے صحافیوں، مدیروں، کالم نگاروں اور اینکر پرسنز کو سیون کلب روڈ پر مدعو کرلیا۔ وہاں انہوں نے اپنے بجٹ کی بہت تعریفیں کیں جس میں سب سے زیادہ دو روپے کی سستی روٹی کے منصوبے کی تعریفیں تھیں۔ میری گزارش تھی کہ لوگوں کو دو روپے کی روٹی دینے کی بجائے اس قابل بنا دیں کہ وہ بازار سے ملنے والی پانچ ،سات روپے کی عام روٹی بھی خریدیں چینی کہاوت بھی بیان کی کہ لوگوں کو مچھلی کھلانے کی بجائے مچھلی پکڑنی سکھادیں تاکہ وہ خود بھی کھائیں اور پکڑ کر دوسروں کو بھی بیچ سکیں۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ وزیراعلیٰ کو میری بات ناگوار گزری ہے۔ انہوں نے میری بات کے جواب میں ’ٹیوٹا‘ کے ادارے کی لمبی چوڑی خدمات گنوائیں جو میرے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی اس فعال اتھارٹی بارے میری رائے سے اختلاف ہو مگر میرے خیال میں اسے لاہور چیمبر کے سابق صدر عرفان قیصر شیخ نے آکر زیادہ فعال اور کارآمدبنایا ہے۔ حکومت، ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں اوربڑے بڑے صنعتکاروں کے باہمی اشتراک عمل کویقینی بناتے ہوئے یہاں سے چھوٹے چھوٹے ماہرین بڑی تعداد میں پیدا کئے جا رہے ہیں۔ بات سوشل میڈیا سے شروع ہوئی، اخوت سے ہوتی ہوئی ٹیوٹا تک پہنچ گئی ، واپس اسی ملاقات کی طرف چلتے ہیں،میں نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی ، آپ درست کہہ رہے ہوں گے مگر آپ سے کہیں بہتر ماڈل اخوت کا ہے۔ حکومتوں کے پاس ان پُٹ لینے کے لئے بہت سارے ذرائع ہوتے ہیں مگر اس کے بعد آہستہ آہستہ اخوت اور پنجاب حکومت کے درمیان ورکنگ کوارڈی نیشن میں اضافہ ہونے لگا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب اخوت تو چلا ہی رہے تھے،وہ پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے پلیٹ فارم سے پاکستان بھر کے ذہین بچوں، فاونٹین ہاوس جیسے فلاحی ادارے سے ذہنی اور نفسیاتی معذوروں ہی نہیں بلکہ خواجہ سراوں اور مختلف النوع خود روز گار سکیموں کے ذریعے مستحقین کی بھرپور خدمت کرنے لگے۔ میں پھر واپس سوشل میڈیا پر جاوں گا جہاں اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے کسی شخص نے ، جسے صرف وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی صورت اور سیاست پسند نہیں تھی،اس پورے عمل کو بے معنی کرنے کی کوشش کی۔میں پہلے ہی سوشل میڈیا کے علم، سچ، جرات اور نت نئے تصورات کی ترویج کرنے کے عمل سے شاکی ہو رہا تھا، مجھے یوں لگا کہ سوشل میڈیا پر جہالت، جھوٹ، منافقت اور تعصب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات پہلے مذاق میں ہوتی تھی کہ جس کو گھر والے سبزی لینے بھی نہیں بھیجتے کہ اس میں اچھی اور تازہ سبزی لانے کی بھی اہلیت نہیں، وہ فیس بک اور ٹوئیٹر کو اپنے موبائل پر استعمال کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرے کرتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک دکاندار فیس بک پر ہمارے سینئر صحافی ، کالم نگاراور براڈ کاسٹر کو صحافت سکھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں سوشل میڈیا پر بعض اوقات دوستوں کے اعتراضات کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں مگر پھر احساس ہوتا ہے کہ اس سے بڑا وقت کا ضیاع کوئی نہیں۔میں نے دیکھا کہ جو لوگ کسی بھی محفل میں آپ سے ملتے ہوئے ، آپ کے ساتھ سیلفی بنانے کے لئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، وہی سوشل میڈیا پر آپ کو ایک کرپٹ صحافی کہنے میں ایک لمحہ نہیں لگا رہے ہوتے۔میں ایک عام انسان اور کارکن صحافی کے طور پرلوگوں کو عزت دینے کا قائل ہوں مگر اپنے ذاتی تجربے سے جانا ہے کہ ملنے والی عزت کو ہضم کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ جہاں تک سوشل میڈیا پر نت نئے تصورات اور نکتہ ہائے نظر سے آگاہی کی دلیل ہے، یہ بھی بے معنی ہوتی چلی جا رہی ہے۔لوگ عمومی طور پر لکیر کے فقیر ہوتے ہیں۔ اب میں روایتی تبصرہ بازوں کی تصویر دیکھ کربتا سکتا ہوں کہ کس نے کس پوسٹ کی حمایت کی ہو گی اور کس نے مخالفت کی ہو گی۔ میں خود اس امر کا قائل ہوں کہ ہر شخص کوکسی بھی ایشوپربات کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہئے مگر میں اس امر پر بھی پختہ ہوتا چلا جا رہا ہوں کہ یہ مطالعہ سوشل میڈیا کی مدد سے نہیں ہونا چاہئے۔ آپ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جتنا مرضی تنقید کانشانہ بنالیں مگر جتنی ڈس انفارمیشن سوشل میڈیا پر ہوتی ہے، اس کا کہیں بھی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یوں بھی سوشل میڈیا آپ کی رائے بنانے کی بجائے آپ کوکنفیوژ کرتا ہے۔سچ کی تلاش میں نیٹ سرچنگ کرنے والوں کو سوشل میڈیا سچ تک پہنچنا آسان نہیں بلکہ مشکل بناتا ہے۔ وہاں ساکھ رکھنے والی ویب سائیٹوں کے ساتھ ساتھ ایسی ویب سائیٹیں بھی یکساں طور پر اپنا مقام اور اثررکھتی ہیں جوصرف جھوٹ اور پروپیگنڈے کے لئے قائم کی گئی ہوتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سوشل میڈیا کے گذشتہ برس بولے جانے والے بڑے بڑے جھوٹ بے نقاب بھی کئے گئے ہیں مگراس کے باوجود آپ نہ تو کسی کی زبان کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی اس انگلی کو جو کسی بھی سمارٹ فون پر کچھ بھی ٹائپ کر سکتی ہے۔ماجھے گامے ، اہل علم کو ذلیل کرنے کو اپنی عزت اور کامیابی تصور کرتے ہیں۔ انٹرمیں فیل ہوجانے والے پروفیسروں کو مسترد کرتے ہیں۔مخالف نکتہ نظر کوسمجھتا تو بڑی بات ، یہاں تو اسے بیان تک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہمارے ملک میں سیاسی مارشل لاء لگتے ہیں اور سوشل میڈیا پرہر فرد اپنی اپنی دانشورانہ آمریت قائم رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے۔مجھے سوشل میڈیا کے تیزی سے عزت اور ساکھ کھونے پر افسوس ہوا ۔کسی زمانے میں لوگوں سے زیادہ میل جول کو بیماری کہا گیا تھا ۔ یہ بیماری ایک وبا کی طرح ، سمارٹ فونوں کی صورت ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے، بڑھتے ہوئے بحث و مباحثے نے ایک دوسرے کی عزت میں کمی کرنا شروع کر دی ہے مگر اس بحران کا حل تو چودہ ،ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی نازل ہو چکا ہے۔ جب ایسے لوگوں سے ٹاکرا ہوتو انہیں سلام کہتے ہوئے اپنی راہ لی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -