ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 64

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 64
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 64

یاجوج ماجوج ، اولاد آدم اور اولاد نوح

جہاز کا یہ سفر بہت طویل تھا اور کٹ نہیں رہا تھا۔ ہمیں کم وبیش آدھے براعظم آسٹریلیا پر سے گزرنا تھا۔میں اس دوران میں اپنی دو یاجوج ماجوج بہنوں کے بیچ میں بیٹھایہ سوچ رہا تھا کہ یاجوج ماجوج کی اصطلاح قرآن مجید نے قدیم صحف سماوی کے پس منظر میں استعمال کی ہے ۔ قدیم صحف سماوی میں یہ اصطلاح حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد کے لیے استعمال ہوئی ہے ۔ اس وقت زمین پر زیادہ تر حضرت نوح کی اولاد ہی موجود ہے ۔

ابتدامیں اولاد آدم نے اپنی زندگی کا آغاز غالباً افریقہ میں کیا ۔ افریقہ سے یہ ایشیا میں پہنچے ۔ ایشیا سے ایک طرف یہ لوگ وسطی ایشیا کے راستے امریکہ جاپہنچے ۔ دوسری طرف جنوبی ہندوستان کے راستے آسٹریلیا تک آ گئے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ آسٹریلیا اور امریکہ خشکی کے جزوی راستوں سے ایشیا سے جڑ ے ہوئے تھے ۔یوں اولاد آدم دنیا پر غالب ہوگئی۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت آدم کی اولاد کا وہ حصہ جو ایشیا کے مرکز میں مشرق وسطیٰ اور اردگرد کے علاقوں میں تھا ان میں حضرت نوح کی بعثت ہوئی اور ان کے کفر کی پاداش میں تباہ ہوگئی۔ پھر طوفان نوح میں بچ جانے والے حضرت نوح کی نسل کے لوگوں نے دوبارہ اسے آباد کیا، (الصافات77:37)۔ ان کے بیٹے سام کی نسل کے لوگ مشرق وسطیٰ میں ، حام کی نسل کے لوگ شمال مشرقی افریقہ میں اوریافث کی نسل کے لوگ یورپ اور ایشیا کی سرحد پر شمال کے پہاڑ ی علاقوں اور میدانوں میں پھیل گئے ۔

اولاد نوح میں حام اور سام کی نسل بہت جلد متمدن ہوگئی اور زیادہ نہیں پھیلی۔ لیکن یافث کی نسل غیر متمدن رہی اور بہت زیادہ بڑ ھی۔ابتدا میں یہ مشرق کی طرف پھیلے اور مشرق بعید تک پہنچ گئے ۔جغرافیائی اثرات سے وہ زرد فام نسلوں میں بدل گئے ۔ اس کے بعد ان کی ایک بڑ ی نسل آریائی لوگوں کی شکل میں پھیلی اور وسط ایشیا سے لے کر جنوبی ایشیا تک پھیل گئی۔ ان کا تیسرا بڑ ا نسلی گروہ کاکیشین کی سفید فام نسل ہے ۔کاکیشین کا مطلب اس خطے کے لوگ ہیں جو بحیرہ اسود اوربحیرہ کیسپین کے درمیان کوہ قفقازکا ایک پہاڑ ی سلسلہ ہے اورایشیا اور یورپ کی سرحد پر واقع ہے ۔یہی وہ نسل ہے جو یورپ کی سمت بڑ ھی اور جدید تاریخ میں امریکہ اور آسٹریلیا تک جاپہنچی۔انھی کو ہماری زبان میں گورے یا مغربی ممالک کے لوگ کہا جاتا ہے ۔

پچھلے کئی ہزار برسوں میں اولاد نوح نے ہر جگہ اولاد آدم کو مغلوب کر لیا تھا۔ اور قیامت سے قبل جس واقعہ کی قرآن نے پیش گوئی کی تھی بظاہر اس کی تعبیر یہی ہے کہ اولاد نوح میں سے اولاد یافث باقی اولاد نوح پر یلغار کر دے گی ، (الانبیا97,96:21)۔ اس وقت عملاً یہی ہورہا ہے ۔

بعض روایات میں روز حشر کاجو ایک واقعہ بیا ن کیا جاتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت نوح کی قوم اس بات کا انکار کر دے گی کہ ان تک حضرت نوح کا دعوت حق کا پیغام پہنچاہے اور پھر مسلمان حضرت نوح کی طرف سے گواہی دیں گے ، میرے نزدیک اس کی حقیقت یہی ہے کہ قوم نوح سے وہاں مراد حضرت نوح کی اولاد کا یہی حصہ جن کے ہاں ہزاروں برس سے کوئی پیغمبر نہیں آیا۔ان تک دعوت حق کا کام مسلمانوں کو ہی کرنا ہے ۔

پرتھ کا شہر

میں اس طویل سفر کے آخری مرحلے میں ساڑ ھے تین چار گھنٹے میں پرتھ پہنچا۔تاہم وقت میرے لیے ٹھہرا ہی رہا۔ اس کی وجہ تھی کہ پرتھ اور ایڈیلیڈ کے وقت میں ڈھائی گھنٹے کا فرق تھا۔ اس لیے گھڑ ی کے حساب سے وقت میں صرف آدھے پونے گھنٹے کا فرق پڑ ا۔یہ بھی خدا کی عجیب قدرت تھی۔ پرتھ سڈنی سے تین گھنٹے آگے تھا۔ ایک ہی ملک تھا اور اس میں دو شہروں کے وقت میں تین گھنٹے کا فرق۔یہ فرق ان ہزاروں میل کے ان طویل فاصلوں کی وجہ سے تھے جو ان شہروں کے بیچ میں تھے ۔بہرحال اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نیا جیٹ لیگ مجھے لاحق ہو گیا۔پرتھ پہنچ کر شام سات بجے ہی مجھے نیند کے جھونکے آنے لگتے ۔

پرتھ ریاست ویسٹرن آسٹریلیا کا صدر مقام تھا۔یہ بیس لاکھ کی آبادی کے ساتھ سڈنی، ملبورن اوربرسبین کے بعد آسٹریلیا کا چوتھا بڑ ا شہر تھا۔ پانچوں ایڈیلیڈ ہی ہے جس سے میں ہوکر آ رہا تھا۔برسبین آسٹریلیا کے مشرقی ساحل پرواقع ہے ۔اس سے نیچے جنوب کی سمت جاتے ہوئے مشرقی ساحل پرسڈنی آتا ہے ۔اس سے ذرا قبل خشکی میں گھرا ہوا کینبرا ہے ۔ جبکہ سڈنی سے آگے مغرب کی سمت بڑ ھتے ہوئے جنوبی ساحل پر پہلے ملبورن اور پھر ایڈیلیڈ آتے ہیں ۔ جبکہ پرتھ بالکل مغرب کے آخری کنارے پر ہے ۔ یہی وہ تمام شہر تھے جن سے میں ہوتا ہوا آ رہا تھا اور آسٹریلیا کی بیشتر آبادی انھیں میں مقیم ہے ۔ ان چند ساحلی شہروں کے سوا پورا آسٹریلیا ڈھنڈار پڑ ا ہوا ہے ۔

پرتھ میں پچھلے دس پندرہ برسوں میں معاشی ترقی کا زبردست دور دورہ رہا تھا۔کان کنی کی صنعت اپنے عروج پر تھی، مگر اب کچھ معاشی زوال آیا ہوا تھا۔تاہم پھر بھی یہ شہر ترقی اور خوشحالی اور خوبصورتی کا بہترین نمونہ تھا۔جس کو اگلے دن میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...