اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 77

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 77
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 77

  

حضرت ابو سعید خراز فرماتے ہیں’’ایک مرتبہ دریا پر ایک نوجوان گدڑی اوڑھے ہوئے ملا۔ اس کے پاس ہی سیاہی کی دوات بھی رکھی تھی۔ مَیں نے اس کی گدڑی سے اندازہ کیا کہ یہ کوئی اللہ والوں میں سے ہے لیکن دوات سے یہ خیال پیدا ہو اکہ شاید کوئی طالبعلم ہے اور جب مَیں نے اس سے سوال کیا کہ خدا سے ملنے کے لئے کون سا راستہ چاہیے۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 76 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس نے جواب میں بتایا ’’ایک راستہ عام کے لیے ہے اور دوسرا خاص کے لیے ہے لیکن تم جس راہ پر گامزن ہو، وہ عام لوگوں کا راستہ ہے۔ کیونکہ تم عبادت کے ذریعہ وصال اور دولت کو حجاب تصور کرتے ہو‘‘

جنگل میں ایک مرتبہ دس شکاری کتوں نے مجھے گھیر لیا تو مَیں اسی جگہ مراقبہ میں مشغول ہوگیا پھر انہی میں سے ایک سفید رنگ کے کتے نے تمام کتوں پر حملہ کرکے انہیں بھگادیا اور خود میرے پاس آبیٹھا لیکن جب مَیں وہاں سے روانہ ہوا تو وہ بھی کچھ دور میرے ساتھ چلنے کے بعد غائب ہوگیا۔‘‘

***

حضرت ابراہیم بن مہلبؒ سائح فرماتے ہیں کہ مَیں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کررہا تھا کہ ایک لونڈی جو خانہ کعبہ کا پردہ پکڑے ہوئے تھی، دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی۔

’’اے میرے سردار! تجھے میرے چاہنے کی قسم میرا دل مجھے پھیر دے۔‘‘

مَیں نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’تجھے کیوں کر معلوم ہوا کہ خدا تجھے چاہتا ہے۔‘‘

وہ بولی ’’ اس کی قدیم عنایت و مہربانی سے جانتی ہوں۔ میری طلب کے لشکر بھیجے اور مال خرچ کیے اور یہاں تک کہ مجھے مشرکوں کے شر سے نکال کر توحید میں داخل کیا اور اپنی ذات کی مجھے شناخت کروادی۔ اے ابراہیم! کیا یہ عنایت اور محبت نہیں۔‘‘

میں نے اس سے کہا ’’تیری محبت اُس سے کیسی ہے۔ْ‘‘

وہ بولی ’’سب چیزوں سے بڑی اور بزرگ ہے۔‘‘

میں نے پوچھا ’’کیسے؟‘‘

جواب دیا ’’شراب سے زیادہ رقیق اور گلقند سے زیادہ شیریں۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد وہ لونڈی چلی گئی۔

***

حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ فرماتے ہیں ’’نجات خاموشی، تنہائی اور کم کھانے میں ہے۔‘‘ کسی شخص نے آپ سے عرض کیا ’’مَیں آپ کی صحبت میں رہنا چاہتا ہوں۔‘‘

آپ نے پوچھا ’’میرے بعد کس کی صحبت اختیار کرو گے۔‘‘

اس نے جواب دیا ’’خدا کی صحبت میں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’ابھی سے اس کی صحبت اختیا رکرلو۔‘‘

پھر اس نے پوچھا ’’کیا شیر آپ کے نزدیک آجاتا ہے؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’جب مَیں اس کو کتا کہہ کر پکارتا ہوں تو آجاتا ہے۔ یاد رکھو عارفین کی صحت تمام امور سے افضل ہے۔‘‘

***

حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ ہر رات تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھ کر سوتے تھے۔ انہی دنوں میں آپ نے ایک عورت سے نکاح کیا تو تین رات درود شریف پڑھنے میں فردگزاشت ہوگئی۔ رئیس نامی ایک شخص نے پیغمبر خدا ﷺ کو خواب میں دیکھا اور حضورؐ لنے اس سے فرمایا کہ بختیار کاکیؒ کو ہمارا سلام دو اور اس سے کہو کہ وہ تحفہ جو تم مجھے ہر رات بھیجا کرتے تھے، تین رات سے نہیں پہنچا۔‘‘

***

حضرت شاہ عبدالرحمن پاکؒ بھڑی والے نے کبھی نفس کی غلامی نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنے نفس پر حاوی رہے۔ایک دن آپؒ نے شدید گرمیوں کے زمانہ میں اپنے پورے جسم کو کمبل میں لپیٹ رکھا تھا لوگوں کو اس پر سخت حیرت ہوئی۔ وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا

’’میرا نفس خواہشات کا غلام بننا چاہتا تھا۔ اس نے شدید گرمی میں ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کا مطالبہ کیا تھا۔ چنانچہ مَیں نے ان دونوں کی جگہ اس گرم کمبل میں دے دیا۔ اب وہ اتنا ڈرگیا ہے کہ کبھی ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 78 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے