حج کر لیں،پچھلے معاف……آئندہ والا کھاتہ پھر کھول لیں!

حج کر لیں،پچھلے معاف……آئندہ والا کھاتہ پھر کھول لیں!
حج کر لیں،پچھلے معاف……آئندہ والا کھاتہ پھر کھول لیں!

  



پیارے سے بھائی آفاقی ہمیشہ دور کی کوڑی لاتے ہیں وہ اکثر فیس بُک پر اچھی اچھی پوسٹ کرتے ہیں،ابھی گذشتہ روز انہوں نے ایک پوسٹ پھر سے لگائی اور یقینا یہ یاد دہانی والی ہے۔ اس کے مطابق ہمارے ملک بھر کے معزز تاجر حضرات کی بھاری اکثریت حاجی اور الحاج کی ہے۔وہ اپنے نام کے ساتھ یہ صفت لگاتے بھی ہیں۔ان سب حضرات کی دوکانوں اور کاروبار کے نام مدنی سٹور،مکہ ٹاور، مدینہ شاپ اور یا پھر ولی اللہ حضرات سے موسوم ہیں،ہر ایک صاف ستھری، خالص اور بازار سے بارعائت اشیاء فروخت کرنے کا دعویدار ہے،اس کے باوجود لوگوں کو کوئی بھی شے خالص نہیں ملتی اور مہنگائی بڑھتی جاتی ہے، اس میں سرکاری اقدامات تو وجہ ہوتے ہیں،لیکن ذخیرہ اندوزی اور قلت پیدا کر کے منافع زیادہ سے زیادہ یہی الحاج حضرات کماتے ہیں،آج کل ہم جیسے نچلے متوسط طبقے والے اور غریب لوگ (مزدور+ ہیلپر+لگی بندھی آمدنی والے) تو پریشان ہیں اور زیادہ تر اس میں حکومتی سکیموں، ٹیکسوں اور مختلف شرائط کا دخل بھی ہے،لیکن اسی سے یہ حضرات خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر یہ اتنے طاقتور لوگ ہیں کہ ان سے انکم ٹیکس کی وصولی بھی دُنیا کا مشکل ترین کام ہے۔کپتان کی حکومت جو عوام کو گھبرانا نہیں، کا کہہ کر سخت فیصلے کرنے میں مہارت رکھتی ہے وہ بھی ان تاجر حضرات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی۔

جہاں تک شعبہ یا پیشہ تجارت کا تعلق ہے، تو یہ نبیوں اور ولیوں سے موسوم ہے، ہمارے پیارے رسولؐ نے بھی تجارت کی اور اس میں بھی دیانت کی مثال قائم کر دی، کہ اگر کسی مال تجارت میں نقص ہوا تو گاہک کو وہ بتا کر سودا فروخت کیا گیا۔محترم اور متبرک صحابہ کبارؓ نے بھی پیروی میں مثالیں قائم کیں، حتیٰ کہ اگر کسی شے میں کوئی نقص تھا وہ ملازم نے بتائے بغیر فروخت کر دی تو پورے مال تجارت کی رقم ہی خیرات کر دی گی کہ اس مال میں مال حرام شامل ہو گیا ہے،لیکن یہاں تو مردہ مرغیاں بیچی جاتیں،گندے انڈے سپلائی کئے جاتے،ہلدی، مرچوں اور مصالحہ جات میں ملاوت کی جاتی ہے اور دودھ کی تو ایسی ایسی اقسام ایجاد کر لی گئی ہیں کہ ان حضرات کو سائنس اور نئی ایجادات میں نوبل انعام مل جانا چاہئے، اور تو اور یہاں ادویات بھی دو نمبر بنائی جاتی ہیں۔ مشروبات اور منرل واٹر بے اعتبار ہیں، جبکہ کاسمیٹکس میں دو نمبری مشہور ہے، کہا جاتا ہے کہ ان حضرات سے کہا جائے تو یہ دو نمبر آدمی بھی بنا سکتے ہیں،آپ بازار سے ”ڈاکٹری نسخہ کے مطابق“ دیسی انڈے خریدتے ہیں تو آپ کو یہ ایسی مرغی کے ملیں گے،جو مصری کہلاتی ہیں اور درحقیقت اصل برائلر یہی ہیں۔

یہ سب اِس لئے یاد آیا کہ شہری آج کل اشیاء خوردنی اور ضرورت کی گرائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ان کو بجلی، گیس اور پانی کے بل ہی دم نہیں لینے دیتے کہ نام نہاد سبزی منڈی میں بھی ان دِنوں مٹر140 روپے فی کلو ملتے ہیں اور ٹماٹر بھی140 روپے فی کلو ہیں۔ لہسن(چائنہ) منڈی میں 280 روپے فی کلو ہے۔یہی سب آپ اگر علاقائی پرچون فروش سے لیں تو ٹماٹر 200روپے فی کلو، لہسن320 روپے فی کلو اور مٹر180سے200 روپے فی کلو ملیں گے، ایسا ہی حساب دوسری سبزیوں کا بھی اور یہ سب حکومتی ٹیکسوں کے بعد سرمایہ دار تاجر حضرات کے سرمائے اور کولڈ سٹوریج کا کمال ہے،ہمارے حکمرانوں کو جب فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی بھی منت سماجت کر لی اور تینوں بل منظور کرا لئے، اب ایسی اطلاعات ہیں کہ نیب آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی نامزدگی پر ڈیڈ لاک بھی ختم ہونے والا ہے۔ حکومت مان گئی کہ نیب آرڈیننس واپس لے کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ماضی میں پیش کئے جانے والے مسوداتِ قانون کا بھی جائزہ حکومتی آرڈیننس کے ساتھ لیا جائے گا،اور ایک ایسا مسودہِ قانون پیش ہو،جو اتفاق رائے سے منظور ہو سکے۔یہ خبر بھی موجود ہے کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کے پیش کئے گئے ناموں پر اتفاق نہیں ہوا تو اب پارلیمانی پارٹیوں سے کہا گیا ہے کہ پہلے نام واپس لے لئے جاتے ہیں، وہ نئے نام تجویز کریں، کہا جا رہا ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف اب نئے نام تجویز کریں گی، ان میں سے نامزدگی پر اتفاق ہو ہی جائے گا۔ یہ ایک مثال دی ہے ورنہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اب جو اتفاق رائے تینوں ایک نوعیت کے بلوں پر ہوا اُسے بڑھا کر تمام امور تک لے جایا جائے اور پارلیمانی کی بالادستی کے نام پر اوپر کی سطح پر ”تعلقات کار“ قائم ہو جائیں اور قانون سازی میں رکاوٹ نہ آئے اور نظر بھی یہ آ رہا ہے۔

ہم نے جو پہلے ذکر کیا اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ یہ حکومت اگر اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے سرمایہ دار استحصالی طبقے سے مصالحت کی بجائے ان کے ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہو گا۔یہ جو حضرات ہیں اب ”چمڑی جائے دمڑی نہ جائے“ والے مقولے پر عمل کر رہے ہیں، اور ان سب نے بھی لوٹ مچا رکھی ہے،کپتان صاحب سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ریاست ِ مدینہ میں بھی یہی کچھ ہوتا تھا؟ نہیں قطعاً نہیں۔ریاستِ مدینہ والے میرے نبی پاکؐ نے تو راستی کی درخشاں مثالیں قائم کیں، جھوٹ کی جڑیں کاٹیں اور قوم کو سچ پر آمادہ کیا کہ سچ ہی بڑی قوت ہے اور یہی ایمان کا اول درجہ یا حصہ ہے۔

ہماری گذارش یہ ہے کہ بے شک اور ضرور آپ سب اتفاق رائے سے قانون سازی اور حکمرانی والی رکاوٹیں دور کر لیں،لیکن خدارا عوام کی بہبود کے لئے تو سوچیں، پہلے آپ سب محاذ آرائی کے سبب کچھ نہیں کرتے تھے، کیا آپ اب ”تعلقات کار“ کے حوالے سے بھی کچھ نہیں کریں گے؟ ذرا سوچئے، دوسرے ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھی عرض کرنا ہے کہ کیا ان کا مقصد صرف اور صرف اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے اراکین اسمبلی کے ناز اٹھانا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر مارکیٹ پر بھی توجہ دیں۔ آٹا، گھی، چاول اور دالیں بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ سبزیوں کے نرخ کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے ہیں۔ شہروں میں صفائی کی حالت ابتر ہے، فضا میں سموگ کی کیفیت ختم نہیں ہوئی، یہاں بھی ہمارے صنعت کار بھائی کام دکھا رہے ہیں وہ اپنے صنعتی امور کے لئے آلودگی پھیلانے سے باز ہی نہیں آتے اور سرکار ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہم نے جو کہنا تھا عرض کر دیا، آخری سطور میں یہ بتا دیں کہ حضور! اب لکھاری بھی زچ ہو گئے اور وہ روزمرہ کے عمل کی بات کریں گے۔ عوامی مسائل کو اُجاگر کریں گے۔ اگر نہیں کرتے تو پھر بھی اس استحصالی طبقے ہی کے ساتھ ہوں گے،اِس لئے بہتر ہے کہ ابھی اقدامات کر لئے جائیں اور لوگوں کو موقع نہ دیا جائے کہ وہ سڑکوں پر آئیں۔

مزید : رائے /کالم