عمراکمل سے رابطہ کرنیوالے فکسرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا امکان

عمراکمل سے رابطہ کرنیوالے فکسرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا امکان

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر ) ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل کا حالیہ کیس پاکستان کے ان بہت سارے کرکٹرز کی ا?نکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیجو اکثر اپنی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوش علاقوں کے مہنگے بنگلوں میں ہونیوالی بڑی بڑی پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ایک قومی اخبار کے مطابق عمر اکمل کے بارے میں جاری کئے گئے تفصیلی فیصلے میں لاہور کے ڈیفنس میں ہونیوالی دو پارٹیوں کا تذکرہ ہے۔سٹے بازوں اور فکسرز کے نام فیصلے میں موجود ہیں لیکن اسے تحقیقات پر اثر انداز ہونے کے لئے سٹے بازوں کے ناموں کو میڈیا میں جاری نہیں کیا گیا اور ان ناموں پر سیاہ رنگ مل دیا گیا ہے لیکن کئی بار یہ نام اس فیصلے کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کا کھیل اس قدر سادہ اور ا?سان نہیں ہوتا جس قدر دکھائی دیتا ہے۔یہ کیس ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے یہی وجہ ہے کہ عمر اکمل سے ڈیفنس لاہور میں سٹے بازوں کے جن دو گروپوں نے انکے دوستوں کی مدد سیرابطہ کیا ان کی تفصیلات ملک کی اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسیوں کے پاس ہیں اور ان مشکوک لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا امکان ہے۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ نام کارروائی کیلئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو دیے ہیں۔ انہی ملاقاتوں میں عمر اکمل کو میچ فکسڈ کرنیکی پیشکش کی گئی۔ عمراکمل سے ملنے والی معلومات اور سٹے بازوں کے نام اور دیگر تفصیلات تحقیقاتی اداروں کو دے دی گئی ہے۔

   

رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ عمر اکمل دونوں بار لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں ڈنر پارٹی میں گئے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایک واقعے میں عمر اکمل نے ایک خاندانی مسئلے کو حل کرانے کیلئے مشکوک لوگوں کا سہارا لیا اور ان سے گھریلو مسئلہ شیئر کیا۔جسٹس (ر) فضل میراں چوہان کے سامنے عمر اکمل نے اس واقعے کا تذکرہ بھی کیا۔ انہوں نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ عمراکمل نے اس پورے معاملے میں نہ تو ندامت دکھائی اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار تھے بلکہ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ ماضی میں اس طرح کے رابطوں سے بورڈ کو مطلع کرتے رہے ہیں۔ ڈسپلنری پینل نے کرکٹر عمر اکمل کے بارے 24صفحات میں تفصیلی فیصلہ جمعے کے روز جاری کیا تھا جس کے مطابق تین سالہ پابندی میں معطل سزا کی مدت شامل نہیں اور انھیں اپنی سزا کے تین سال پورے ہی کرنے ہوں گے۔عمر اکمل پر پابندی کا اطلاق 20 فروری 2020ء سے ہو گا اور وہ 19 فروری 2023ء کو کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اہل ہوں گے۔ یاد رہے کہ 20 فروری کو پاکستان سپر لیگ کے ا?غاز کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو عبوری طور پر معطل کردیا تھا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -