عالمی معاشی نظام:جس میں ہم رہتے ہیں

عالمی معاشی نظام:جس میں ہم رہتے ہیں
عالمی معاشی نظام:جس میں ہم رہتے ہیں

  


پاکستان تیزی سے علمی ترقی پانے والے عالمی سماج کا حصہ ہے۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے بہت سے ممالک اس ترقی کے ساتھ چلنے سے قاصر ہیں، بلکہ پاکستان کئی اعتبار سے پستی کی طرف رواں ہے۔گزشتہ تین دہائیوں میں سرمایہ دارانہ نظام میں اہم تبدیلی آئی ہے۔ اب مالیاتی سرمائے کو مجموعی (سرمایہ دارانہ) معیشت پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے اور یہ صنعتی شعبے سے زیادہ منافع پیدا کرتا ہے۔عالمی معاشی نظام نالج (سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید سوشل سائنسز) پر انحصار کرتا ہے۔ اس نظام کا دوسرا فیچر یہ ہے کہ عالمی قوتوں نے Neoliberal پالیسی اختیار کی۔ نالج اکانومی نے دولت میں جو اضافہ کیا، وہ نیولبرل پالیسی کے تحت طبقاتی طور پر اورعلاقائی طور پر غیرمساوی خطوط پر تقسیم ہوا۔ مثلاً 1977ء کے بعد 30 سال میں امریکی دولت میں جو اضافہ ہوا، اس اضافے کا 60 فیصد حصہ آبادی کے صرف ایک فیصد حصے کو ملا۔ یوں تو سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی تقسیم غیرمساوی ہوتی ہی ہے، مگر یہ بہت بڑھ گئی۔ بڑھنے میں ڈائریکٹ ٹیکسوں کے نظام کا بڑا کردار ہے۔ دولت مند افراد کو ٹیکسوں کی مراعات دی گئیں۔ یوں نجی ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز بڑھا اور ریاست کی مالی طاقت کمزور ہو گئی۔ دولت کی تقسیم کا بڑھتا فرق عالمی مالی بحران کا سبب بنا۔

مروجہ معیشت کی عالمگیریت میں زبردست تیزی آئی ہے۔ اس پر ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کا تسلط قائم ہے۔ ان کارپوریشنوں کے انتظام و انصرام میں کوئی بھی حکومتی ادارہ شامل نہیں۔ اس کرۂ ارض کے مالیاتی نظام کے انصرام میں بھی حکومتی اداروں کا کوئی حصہ نہیں۔ چند ممالک ،جن کی قومی پیداوار بہت بڑی ہے، وہ عالمی معیشت کے معاملات طے کرتے ہیں۔ ان ممالک کی سیاسی قوتیں انتہائی قوم پرست ہیں ،وہ امیر طبقے کے مفاد کا خیال رکھتی ہیں اور وہ بحران کو حل کرنے کے قابل نہیں۔پاکستان کو ایسی نامساعد عالمی صورتِ حال میں آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اس معاملے پر بحث آئندہ کی جائے گی۔

عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ لوٹ کھسوٹ، غبن اور ٹیکس چوری کی دولت پر مشتمل ہے۔ سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 32 کھرب ڈالر دُنیا کے مختلف بینکوں میں غیرقانونی طور پر موجود ہیں، جو ٹیکس چھپانے والوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے جمع کئے ہیں، جس میں صرف سوئس بینکوں میں 7 کھرب ڈالر رکھے گئے ہیں۔۔۔ (حوالہ مرزا اختیار بیگ، روزنامہ جنگ، مورخہ 24 نومبر 2014ء)۔۔۔ بقایا تقریباً 25 کھرب ڈالر بڑے ترقی یافتہ ملکوں اور سمندر میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیروں میں چھپائے گئے ہیں۔ یہ جزیرے ٹیکس چوروں کی جنت قرار دیئے جاتے ہیں۔ ان جزیروں میں چھپائی گئی دولت کے مالکوں اور کوائف کو خفیہ رکھنے کے لئے ایک نظام وجود میں آ چکا ہے، جو دولت کے اصل مالکوں کی پہچان چھپاتا ہے۔ سوئس بینکوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے 200 ارب ڈالر موجود ہیں، دوسرے ملکوں اور ٹیکس چوروں کی جنت میں کتنی رقم پاکستانیوں کی ملکیت ہے، اس کے اعداد و شمار معلوم نہیں۔ بہت سے سیاسی رہنما یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سوئس بینکوں سے 200 ارب ڈالر پاکستان میں واپس لائیں گے۔ یہ خوش فہمی ہے۔ اگر وہ 20 ارب ڈالر بھی واپس حاصل کر لیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ جن ملکوں میں چوری کی دولت چھپتی ہے، وہ اسے اپنی معیشت میں استعمال کرتے ہیں۔

ایک معتبر ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کے ایک بااثر خاندان نے بینک میں لاکھوں پاؤنڈ کرنسی نوٹوں کی صورت میں ڈھیر لگا دیئے۔ بینک نے خفیہ اداروں کو اطلاع دی۔ خفیہ اداروں نے اس تصدیق کے بعد کہ یہ دولت تخریب کاری کے لئے نہیں اور نہ ہی یہ برطانیہ میں کمائی گئی ہے، اس کے ڈیپوزٹ پر اعتراض نہ کیا۔ 32 کھرب کا کالا دھن کل عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ بنتا ہے۔ خیال رہے کہ عالمی پیداوار 71 کھرب ڈالر ہے۔ یہ ناجائز اور پوشیدہ دولت طبقاتی طور پر دولت کی ناہموار تقسیم کا ذریعہ بنتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ بیشتر سرمایہ دار ملک بیرونِ ملک سے ایسی دولت کی وصولی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔۔۔ (البتہ اُن رقوم کو چیک کرتے ہیں ،جن کے بارے میں احتمال ہو کہ وہ تخریب کاری کے لئے استعمال ہوں گی) ۔۔۔چوری کی دولت کا خیرمقدم مروجہ سرمایہ داری نظام کا بڑا جرم ہے، جس سے چوری کرنے والے طبقے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی ملکوں میں ان رقوم کے ایک حصے کے ذریعے سول اور سرکاری اداروں کو غیرموثر بنانے کے لئے ان میں کرپشن کو رواج دیں۔ ناجائز دولت کے مالک سیاستدان اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے سیاسی اور سماجی نظام کو بھی کرپٹ کرتے ہیں۔ یوں ناجائز دولت کو تحفظ دینے والا نظام بہت سے ترقی پذیر ملکوں کے سماجی ارتقاء میں رکاوٹ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم 200 ارب ڈالر کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ملک میں پیداوار بڑھا کر قومی دولت میں اضافہ کریں، جس کے بے حساب روشن امکانات ہیں۔ گویا ضرورت اندرونِ ملک دولت پیدا کرنے کی ہے۔ اس بارے میں سیاسی اور معاشی نظاموں میں تبدیلی کرنا ہوگی، جس پر بحث آئندہ ہوگی۔

مروجہ معاشی نظام کا ایک نمایاں فیچر یہ ہے کہ اس پر قرضوں کا بڑا بوجھ ہے۔ جو ملک بیرونی تجارت میں خسارا اُٹھاتے ہیں یا جن کا بجٹ خسارا زیادہ ہے ،وہ قرضوں کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ عوام کی بڑی اکثریت بھی قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی ہے ،جنہوں نے بینکوں سے قرضے لے کر مکانات خریدے، جن کی قیمتیں سٹہ بازوں نے غیرمعمولی طور پر اونچی کر دی تھیں۔ جب مکانوں کی جعلی قیمتیں نیچے گریں تو وہ قرضے اُتارنے کے قابل نہ رہے۔ قرضے دینے والے بینک بھی نقصان میں چلے گئے۔ بینک اور دوسرے اداروں، جنہوں نے مالی بانڈ جاری کئے تھے یا خریدے تھے، ان کی قیمتیں بھی گریں۔ اس طرح بینک اور مالی ادارے دیوالیہ ہونے لگے۔ اس صورت حال کو ہم 2007-08 کا مالی بحران کہتے ہیں۔ اس کا اثر معیشت کے تمام شعبوں میں پھیل گیا اور اس نے سماجی و سیاسی افراتفری پیدا کی، چنانچہ نئے سرمایہ دارانہ نظام اور رائج جمہوری نظام کے مابین تصادم پیدا ہوا۔ مغرب کی فلاحی ریاستوں کے معاشی منتظمین نے مالیاتی بگاڑ کو درست کرنے کے لئے اخراجات میں کمی کی جو فلاحی فوائد میں تخفیف کا سبب بنی جس کے خلاف عام شہریوں نے شدید ردِّعمل کا اظہار کیا۔

مالی بحران کا حل یہ نہیں کہ حکومت نوٹ چھاپ کر اس کی مالی مدد کرے۔ ایک آسٹریلوی یونیورسٹی کے فنانس اور اکنامکس کے پروفیسر سٹِیو کین (Steve Keen) نے مشورہ دیا ہے کہ ڈوبتے بینکوں کو ڈوب جانے دیں۔ مستقبل کے بارے میں اس نے یہ مشورہ دیا کہ حکومت بینکوں اور مالی اداروں کو قومیا لے۔ زیادہ تر ممالک پروفیسر کین کی تجویز کو قبول نہیں کریں گے، لیکن ایسا ملک جو فنانس کیپٹل کی بالادستی چیک کرنے، سٹہ بازی روکنے اور اشیا اور خدمات کے شعبوں کو فروغ دینے کا خواہاں ہو، اس کے لئے مالیاتی نظام کو قومی تحویل میں لینا بہتر ہے۔ البتہ ایسا نظام اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک وہ ملک نیا سیاسی نظام نہ اپنائے ،جسے مصنف سماجی سیاست کا نام دیتا ہے۔ مصنف نے اس معاملے پر اپنی کتاب ’’Social Change‘‘ کے باب نمبر چھ اور سات میں بحث کی ہے۔ (دیکھئے ویب سائٹ: www.mahmoodmirza.pk)

پاکستان میں قومی سیاست پر امیر ترین افراد (اشرافیہ) کا تسلط قائم ہے ،جنہوں نے کسی نہ کسی طرح سے بے انتہا دولت اکٹھی کر رکھی ہے۔ ان کے ساتھ بڑے زمیندار اور قبائلی سردار بھی سیاست میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ریاست کا نظام چلانے والے امراء اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد پہلے سے موجود معاشی نظام کو ان خطوط پر استوار کر رہے ہیں جو براہِ راست عوام کو اوپر اُٹھانے کی بجائے حکمرانوں کے عالمی مفادات کو فروغ دے۔ مثلاً وہ انفراسٹرکچر کا بہت سا حصہ ایسا تعمیر کر رہے ہیں جو رائج عالمی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔ ہمیں اس مایوس کن صورت حال کا خاتمے کرنے کے لئے ایسی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس سے غریب اور لاکھوں بے روزگار مستفید ہوں۔ عالمی معیار کے موٹر ویز کی اہمیت اپنی جگہ، اصل سوال ترجیحات کا ہے۔ کیا پاکستان کو ان منصوبوں کو ترجیح دینی چاہئے جو غیر مساوی ترقی کو فروغ دیتے ہیں یا ان منصوبوں کو ترجیح دینی چاہئے جو غربت، غذائیت کی کمی کا قلع قمع اور دولت کی تقسیم میں ناہمواری کو کم سے کم کرتے ہیں۔۔۔(ملاحظہ ہو سیاسی معیشت دان پروفیسر نیاز مرتضیٰ کا مضمون جو 16 ستمبر، 2013ء کے روزنامہ ڈان میں شائع ہوا)۔ *

مزید : کالم


loading...