کڑیوں سے کڑیاں ملتی ہیں

کڑیوں سے کڑیاں ملتی ہیں

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا پھر سے شورو غوغا،تحریک لبیک کے نام پر رضوی صاحب کی مہم جوئی اورپیر حمیدالدین کی حالیہ ترکتازیوں کی کڑیاںآخر کہاں ملتی ہیں؟پچھلے دنوں مشرف صاحب کا انٹرویوکہ فوج اور عدلیہ مداخلت کریں ورنہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی پھر سے برسراقتدار آ جائیں گی۔

انہوں نے تو اَک اورتھک کر یہاں تک کہہ دیا کہ ملک کے آگے(یعنی اپنی خواہش کے آگے)آئین کی کوئی اہمیت نہیں۔منصفوں کے بدلے بدلے لہجے اوراکھڑے اکھڑے سندیسے ،آئے روز حکومتی ارکان کے استعفوں کے دباؤ کی جنگ یا پھر جنگ کا دباؤ۔۔۔!محتسب ،منصف، مشائخ و مفتی اور ملوکیت کے یہ خاکے،رات کے پچھلے پہرچلتے ہوئے ہیولے سامنے ہوں تو کڑیوں سے کڑیاں ملتی جاتی ہیں۔اشکال و ابہام تمام ہوتا ہے کہ ہنوز سازشوں کے قمار خانے چل رہے ہیں۔ٹکسالوں میں نئے سکے ڈھل رہے ہیں اور کسی زچہ خانے میں بچہ جمورا کاجنم ہوا چاہتا ہے۔

ملکی منظر نامے میں ادلتے بدلتے موسم،اتھل پتھل کی ہلچل اوراضطراب و بغاوت کی کیفیت بے سبب نہیں۔جادوگروں کے جنتر منترداؤ چل رہے اورجنوں کے چلتر پیچ آزما رہے ہیں۔حقیقت وہ نہیں جو سامنے نظر آیا چاہتی ہے۔

پردے کے پیچھے اپنی منصوبہ بندی کا سجا سجایا سٹیج تیار ہے ۔۔۔بس پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔’’ جو حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا‘‘۔ سو سوالوں کا ایک سوال اور مضطرب نفوس کا ملال کہ یہ منظر ملکی صورتحال کے لئے موزوں ہے؟ سیاسی صورتحال کو الگ رکھئے،یہ جو صاحبانِ طریقت مذہب کی اوٹ میں سیاست کرنے نکلے ہیں،اس کے اسرار و عواقب اور نتائج آخر کیا نکلیں گے؟ نورانی صورتیں اور لب و لہجہ دیکھ کر بے ساختہ حسن بصری یاد آیا کئے۔انہوں نے تو بہت پہلے ہمیں موالی محدثوں اور پیروں فقیروں کے بارے میں متنبہ کر دیا تھا۔یاد کیجئے کہ بصری نے تو کہا تھا۔۔۔ان کی روکھی سوکھی زندگی اور ظاہری سادگی پر مت جایئے،ان کے دل غرور سے بھرے پڑے ہیں۔

ایمان اور کفر دونوں کا معاملہ تو انسان کا خالص اپنے رب کے ساتھ رہا۔دہائی خدادی کہ سجادہ نشینوں نے یہ خدائی اختیاراپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ان کی زبان اور موقف کیا چرچ کے آمرانہ احکام سے کم ہے؟ایمان و کفر کے فیصلے کاحق تو ریاست کے پاس بھی نہیں۔۔۔چہ جائیکہ یہ اختیاریا حق چند انسانوں کے پاس تسلیم کر لیا جائے۔

عباسی بغداد میں کسی سے تعلقات ختم کرنے کے لئے یہ بات کفایت کرتی تھی کہ اس کا تعلق امم سابقہ یا اقوام غیر سے ہو۔پاکستان ایسی نادرۃالارض اور عجائب الدھرمیں بھی بہت سی عادات اورانحرافات ظہور پذیر ہوئے۔

مخالف کی گردن مارنے کے لئے بس ایک بات کافی رہی۔اسے اس الزام سے متہم کیجئے کہ اس کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کے عقائدکے خلاف ہے۔کسے فرصت کہ وہ تصوف کے شیخ الشیوخ علامہ بونی،اہل دل کے صنم محی الدین ابن عربی اوراہل خیر کے پیر جلال الدین رومی کی بابت تحقیق کرے کہ وہ اس ضمن میں کیا کہہ گزرے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے توکبھی اہل کتاب کے دوسرے طائفے کے بارے میں بھی نازیبا کلمات یاخیالات کااظہار نہیں کیا۔

سوچا چاہئے کہ مذہب کا سیاست میں سوئے استعمال ہمیں کہاں لے جائے گا؟مشرف صاحب نے اپنے دور میں حافظ سعید اور ان کی جماعت پر پابندی عائد کی تھی۔آج انہیں یاد آیا کہ نہیں نہیں۔۔۔یہ توبڑے اچھے لوگ ہیں۔یہ مذہب کاسیاست میں سوئے استعمال نہیں تو اور کیا ہے؟سیاست کی بدقسمتی کہئے کہ اسے تیرہ بختی سے تشبیہ دیجئے۔کیا کہئے کہ حب جاہ کے مارے اٹھتے ہیں،پھر چلانے لگتے ہیں کہ ہم سیاست میں اپنی تلوارکی کاٹ دکھانے نکلے ہیں۔

سچ جانئے توسیاست کو بدنام کرنے میں ملوکیت اور مشائخیت نے اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ساتھ اس حقیقت کے اعتراف میں بھی بھلا کیا شرماناکہ سیاست دان خود بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر نہ سکے۔

سیاسی دوشیزہ کارنگ لو ٹنے اور روپ کو کجلانے کے لئے اول روز سے ہی جادوگروں اور جنوں نے گٹھ جو ڑ کئے رکھا۔اس گٹھ جوڑ کے آخری اور انتہائی اقدامات اب زوروں پر ہیں۔دستوری طور پر جب یہ طے ہے کہ ہماری منزل اول وآخر پارلیمانی جمہوری نظام میں ہی مضمر ہے۔دیر سویر ہمیں اس مرکز کی جانب مراجعت کرنا ہے توپھریہ پھڈے با زیاں ،مہم جوئیاں اورترکتازیاں آخر کس کام کی؟

1977ء کے ایام میں پاکستانی ووٹ بھٹو کی مخالفت اور حمایت میں منقسم ہوا تو آج؟آج یہی ووٹ نواز شریف کی حمایت یا مخالفت میں سر بکف ہے۔گماں گزرتا ہے آئندہ عام انتخابات میں ووٹ دو طرفہ ہی ڈالے جائیں گے۔نواز شریف کی مخالفت میں یا پھر ان کی حمایت میں اور بس۔

آنکھیں کھلی ہوں تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ تیر جدھر سے بھی آئے اور نشتر جہاں سے بھی اڑے۔۔۔اس کا براہ راست یا آگے پیچھے ہدف ایک ہی ذات ہے۔

اس سارے کھیل میں ہولناک اور بھیانک بات یہ ہوئی کہ سیاست کا راستہ روکنے کے لئے مذہب کا استعمال جاری ہے۔با اسالیب مختلف یوں کہ قیادت کے حصول و استحقاق کے لئے مذہبی زبان میں جنگ جاری ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کاریاست کے معاملات میں عمل دخل جنرل ضیاء الحق کے دور میں عروج کو پہنچا۔تحریک نظام مصطفی کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے مذاکرات کر کے ،مطالبات مان کر ان کی اہمیت دو چند کی تھی۔

آئی جے آئی کے دور میں کچھ یہی کردار نواز شریف نے بھی ادا کیا۔اب دیکھتے ہیں کہ ہاتھوں سے دی ہوئی گرہیں دانتوں سے کون کھولتا ہے ۔آیا یہ کھل بھی پائیں گی کہ نہیں؟آیئے ا س سوال کا جواب گردش ایام کے سپرد کر کے تھوڑی دیر اور تماشا دیکھتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...