پاراچنار میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع‘ سردی کی شدت میں اضافہ

  پاراچنار میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع‘ سردی کی شدت میں اضافہ

  



پاراچنار(نمائندہ پاکستان)پاراچنار اور ضلع کرم میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا جس کے باعث سردی کی شدت مزید بڑھ گئی ہے شدید سردی کے باعث بچوں کے امراض میں اضافہ ہوگیا ہے، ہسپتال میں سہولیات کی فقدان کی وجہ سے بچوں کے اموات میں اضافہ پاراچنار سمیت ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے روز سے برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے برفباری کے باعث علاقے میں سردی کی شدت بڑھ گئی ہے اور شدید سردی کی وجہ سے علاقے میں بچوں کے امراض میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ہسپتال کی مخصوص ایکسپریس لائن پر بھی بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے باعث ہسپتال کے نرسری آئی سی یو میں انکوبیٹر نہ چلنے کی وجہ سے نومولود بچوں کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہوگیا ہے جس سے آئے روز بچوں کی اموات واقع ہوجاتی ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار کے چلڈرن وارڈ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ علاقے میں سردی کی شدت بڑھنے سے بچوں کی سیزنل امراض میں اضافہ ہوگیا ہے اور بچے سینے، نزلہ زکام، وائرل نمونیا، پیرنٹل ڈائریا، خسرہ خصوصا نومولود بچے ہائپوتھرمیا کا شکار ہو جاتے ہیں انہوں نے بتا یا کہ اس موسم میں بچوں کو گرم کپڑے پہنانا چاہئے اور کمروں کو گرم رکھنا چاہئے بچوں کو نہلانے سے گریز کرنا چاہئے یا مناسب وقت میں گرم کمرے میں بچوں کو نہلانا چاہئے اور بچوں کو غیر صحت بخش غذا سے دور رکھنا چاہئے دوسری جانب ہسپتال میں داخل مولود بچوں کے والدین نے بتا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شدید سردی میں رات اور دن گزار رہے ہیں اور وارڈز کو گرم رکھنے کیلئے بھی کوئی خاص بندوبست نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی زندگی کو خطرہ ہے قبائلء رہنما حاجی جمیل حسین اور سماجی رہنما تنویر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال میں سہولیات اور عملے کی کمی کی وجہ سے ضلع کرم کے عوام شدید مشکلات سے دو چار ہیں اور معمولی بیماریوں کیلئے بھی لوگ پشاور کا رخ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے بار بار حکومتی عہدیدار اعلانات کرتے ہیں مگر بدقسمتی وہ محض اعلانات تک ہی محدود ہیں انہوں نے اعلی حکام سے ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور عملے کی کمی پوری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ مطالبہ کیا تاکہ پسماندہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر ہی صحت کی سہولیات میسر آسکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر