ماسٹر مائنڈ

ماسٹر مائنڈ
ماسٹر مائنڈ

  

”استاد کا احترام اورریاست کے فرائض “ کے موضوع پر میں نے سیمنیارمیں تقریر کے بعد گاڑی نکالی تو یاردیرینہ پروفیسر ڈاکٹر وقار ملک کا فون آگیا ”یار بتانا تھا کہ آج کا ڈنرتو کینسل ہوگیا ہے،لیکن تم ابھی میرے پاس پہنچو “

” ناں ملک صاحب ابھی میں نہیں آسکتا۔ذرا جلدی تھانے پہنچنا ہے “

”ٹھہر کے چلے جانا ،کچھ دوست تم سے ملنا چاہتے ہیں اور....“ میں نے ان کی بات کاٹی اور کہا” بڑی بم خبر ملی ہے یار۔ان سے معذرت کرلیں ،مدتوں بعد مجھے ایسا موقع مل رہا ہے کہ میں مجرموں کے ایسے گروہ سے ملنے جارہا ہوں جس نے پورے ملک کی بنیادوں کو ہلا کرر کھا تھا “

”کیا مطلب ،منشا بم پکڑا گیا ہے ؟“ وقار ملک صاحب کی ظریفانہ   رگ پھڑکتے ہی میں نے جان لیا کہ اب انکے مزید سوالوں کا جواب دینے سے بہتر ہے کہ سگنلز کی خرابی کا بہانہ کرکے کال کاٹ دی جائے ،پس یہی فارمولا ہمیشہ کی طرح میرا قیمتی وقت بچانے کے کام آگیا اور میں نے تیزی سے کار نکالی اور تھانے جاپہنچا ۔

میرے تھانیدار یا رملک کافورنے بہت بڑا گینگ پکڑ اتھا۔وہ بہت خوش تھا کہ اس نے پہلی بار ایسا معرکہ مارا تھا کہ پورے ملک کی پولیس اور ایجنسیاں جنہیں جھک جھک کر سلام کرتیں اورپکڑنے میں ناکام رہتی تھیں،انہیں وہ گردنوں سے پکڑ کر تھانے لے آیا تھا اور چاہتا تھا کہ جب وہ انہیں ہتھ کڑیاں لگا کر کورٹ لے جائے تومیں اسکی معرکہ آرائی پورے ملک میں پھیلانے کے لئے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی مدد سے سہولت کار بن جاوں ۔مجھے اس میں کیا اعتراض تھا ۔اب ہر افسر ہیرو بننے کے لئے سوشل میڈیا کو ابا جی مانتا ہے ، اگر اسکے لئے یہ سب سے بڑاتاریخ ساز کارنامہ تھا تو میرے لئے اس سے بھی بڑی کریڈیبلٹی تھی کہ ان کریمنلز کی سب سے پہلی کوریج کرنے والا یہ خاکسارہوتا ۔

اس نے چائے منگوائی اور جھٹ سے اپنا مدعا بیان کیا تومیں نے پوچھا ” اگر آپ یہ بتادیں کہ ان مجرموں کا جرم کیا ہے تو میں اسکو زیادہ بریفلی ڈویلپ کرلوں گا ،کیونکہ نیوز کو وائرل کرنے کے لئے لوگوں کو فوری متوجہ کرنا ہوتا ہے جس کے لئے عوام کی سوچ اور جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے “

” یار یہ بڑے سفاک مجرم ہیں ،انہوں نے تعلیمی  اداروں میں دہشت گردی پھیلا کر ایسی تباہی پھیلائی کہ پورے ملک کی جڑیں ہل کر رہ گئی ہیں ۔یہ بڑے استاد لوگ ہیں ،ان سے بڑا ماسٹر مائینڈ میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔دیکھنے میں بڑے معصوم نظر آتے ہیں  “ ملک کافور نے میرا تجسس مزید بڑھایا اورپھرکہا ” جرم کرکے کے کوئی مانتا تھوڑی ہے ،ابھی میں انہیں کورٹ میں پیش کروں گا تو ان کی وڈیوز بنالیں اور وائرل کردیں تاکہ ساری دنیا انہیں دیکھے اور عبرت پکڑ لے ۔“

” ابھی میں ان سے مل سکتا ہوں “ میں نے پہلو بدل کر سوال کیا

” ناں ناں انکی بہت زیادہ حفاظت کی جارہی ہے ،اوپر سے سخت آرڈر ہیں کہ یہ بھاگ نہ جائیں اور کہیں انکے کارندے آکر انہیں چھڑوا نہ لیں ،ہر شہر کیا پورے ملک میں اوربیرون ملک بھی ان کے لوگ موجود ہیں ،بڑی سخت نگرانی کی جارہی ہے “

” اچھا اچھا ،داعش کے لوگ ہیں“ میں نے حیرت سے پوچھا۔ 

جواب ملا ”وہ کیا چیز ہیں انکے سامنے “ ملک کافور نے سگریٹ سلگا کر مٹھی میں دبا کر کش لگایا اور ابرو تان کر میری جانب گہری نظروں سے دیکھا۔ ” پانچ منٹ کی بات ہے ،ایک بار عدالت سے ان کا ریمانڈ مل جائے پھر دیکھنا ملک کافور ان سے کس کس جرم کا حساب لیتا ہے ۔ بڑے صاحب نے بتایا ہے کہ بڑی لوٹ مار کی ہے انہوں نے ۔چار چھتر مارکر ان کے پیٹوں سے سارا مال نہ نکلوایا تو کہنا “

” کیوں نہیں ملک صاحب ،اللہ کرے آپ کامیاب ہوں ۔اس ملک کو مامے کا مال سمجھ کر لوٹا جارہا ہے ،کوئی پانامہ میں سارا پیسہ لے گیا کسی نے دوبئی میں شاپنگ مال بنا لئے ہیں،کوئی غریبوں کے نام پر گھر اور سڑکیں ہسپتال بنانے کے نام پر مال ڈکار گیا ہے ،کسی نے ہاوسنگ کالونیاں بنانے کے نام پر خالی پلاٹ بھی غائب کردئے ہیں،سرکاری منصوبوں میں دلال گھسے بیٹھے ہیں،ملک کیسے ترقی کرے گا  “

” اب تو مُلک بدل کر رہے گا ۔نیا پاکستان بنانا ہے ،پلس آزاد ہے الحمد للہ،بڑے صاحب نے آرڈر کردیا ہے کہ اب سفید پوش ملزموں کو بھی مجرم بنا کر کورٹ میں پیش کیا کرواور قانون پر”حق “کے ساتھ عمل کرو ،کوئی دید لحاظ نہیں کرنی ،قانون سب کے لئے ایک ہوگا “ ملک کافور نے گھڑی دیکھی اور اہلکار کو اشارہ کیا ” چلو بھی کورٹ کا ٹائم ہورہا ہے ،لے چلو سب کو “

میں نے جھٹ سے موبائل کیمرہ الرٹ کیااور باہر نکل کر ایسی پوزیشن بنا لی کہ جیسے ہی ملزمان کو پولیس وین میں بیٹھایا جائے گا انکی فوٹیج بنانے میں انکی موومنٹ سے کلائمیکس ریکارڈ ہوجائے گا ۔اس دوران مسلح پولیس نے پورے تھانے کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تھانیدار ملک کافور   راہداری سے باہر آیا ،اسکے پیچھے ہتھکڑیوں اور بیریوں کے جنھجنانے کی آوازیں آرہی تھی۔ چند ثانئے بعد مجہولانہ انداز میں تین چارباریش بوڑھے ملزمان ہتھ کڑیاں پہنے نمودار ہوئے ۔ایک سفید سوٹ کالی واسکٹ میں،ایک نے پینٹ کوٹ پہنا تھا۔اجلے چہروں والے،جن کی کشادہ پیشانیوں میں روشنیاں تھیں،چہروں پر آسودہ نرمی شفقت لئے ہوئے تھی۔مگرانکی بے چین ،افسردہ اورملال میں ڈوبی نظریں اپنے اپنے پیروں سے اڑتی خاک میں کچھ تلاش کررہی تھیں،میرے ہاتھ میں موبائل تھرتھرانے لگا،جیسے میری نبض سے بندھی بیٹری یکایک بیٹھنے لگی تھی۔ ان چہروں میں کئی چہرے شناسادکھائی دینے لگے تھے ۔یہ سب میرے باپ تھے ۔اس قوم کے باپ تھے ۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آنے لگا تھا ۔

”بن گئی،گڈ“ملک کافور نے میرے کاندھے کو تھپتپھایا” لائیو ہے ناں صاحب خوش ہوں گے ۔ان لوگوں کو ذلیل و رسوا کریں گے تو غیرت سے خود ہی اپنے گناہ بولنا شروع کردیں گے “

میں نے سر ہلاکر پوچھا ”یہ تو بڑے نامور استاد ہیں،ان کو ہتھ کڑیا ں کیوں لگائی ہیں؟“

” ٹھیک کہا،واقعی یہ بڑے استاد ہیں ۔  ہتھ کڑیاں نہ پہناوں تو کیا پھولوں کے ہارپہنا کر لے جاوں “ اس نے کہاتو میری ٹانگوں نے جیسا میرے تن کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا ۔میرے سامنے وہ "ماسٹر ز " لڑکھڑاتی ٹانگوں سے اپنے زندہ جنازوں کا بوجھ خود اپنی ہتھ کڑیوں میں سمیٹ کر وین میں بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے،جنہیں ایک خاص مائینڈ سیٹ    رسوائی کے ساتھ زندہ درگور کررہا تھا۔  پولیس نے انکی مدد کی اور اٹھا کر پولیس وین میں پٹخ دیا،انکی ہڈیوں کی چیخیں وین کے انجن میں دب کر رہ گئیں ، اچھا ہی ہوا ،ان کا شور اور آہیں سن کرسوئے ہوئے بے ضمیرافسروں کی نیندیں تو خراب نہیں کی جاسکتی تھیں۔پروٹوکول زدہ  معاشرے میں نئے پاکستان کی تعمیرکرنی ہے تو   استاد کے عزت واحترام  کو دفن کرکے ہی نئے سماج کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے ناں۔    

۔۔۔

یہ بلاگرز کی زاتی رائے ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید : بلاگ