سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

  

وہاں سے سلطانی شہر متورہ(متھرا) پہنچا یہ متورہ(متھرا)ایک بڑا ہے جس میں بڑے بڑے بت خانے ہیں اور(متھرا)کشن(کرشن)بن باسدیو کی جائے پیدائش ہے۔ ہندو اس کو خدا کا اوتار مانتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جب سلطان اس شہر میں پہنچا تو کوئی شخص جنگ کے لیے نہیں نکلا۔ سلطان کے لشکر نے سارے شہر کو غارت کر دیا‘بت خاتوں کو جلا دیا‘بہت کچھ مال و دولت ہاتھ آیا۔ ایک سونے کے بُت کو سلطان کے حکم سے توڑا گیا‘اس کا وزن اٹھانوے ہزار تین مشقال پکا سونا تھا اور اس میں سے یاقوت کجلی کا ایک ٹکڑا نکلا جس کا وزن چار سو پچاس مشقال تھا۔

کہتے ہیں کہ چندرانے کے پاس(جو ہندوستان کے راجاﺅں میں سے ایک راجا تھا)ایک ہاتھی تھا جو نہایت قوی ہیکل اور مشہور تھا۔سلطان اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت میں خریدنا چاہتا تھا‘مگر حاصل نہ ہوا۔ اتفاق سے قنوج سے واپسی کے وقت وہ ہاتھی فیل بان کے بعیر رات میں ہاتھیوں میں سے بھاگ کر سلطان کے خیمے کے نزدیک آ کھڑا ہوا‘سلطان اس کو پاکر بہت خوش ہوا۔ اس کا نام”خداداد“ رکھ دیا۔ غزنی پہنچ کر قنوج کے مال غنیمت کو شمار کیا گیا‘تو دس لاکھ درہم‘تین ہزار غلام اور تین سو پچاس ہاتھی تھے۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

روایت ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی نے سنا کہ راجا نندا نے قنوج کے راجا کو اس وجہ سے قتل کر دیا کہ اس نے سلطان محمود غزنوی کی اطاعت قبول کر لی تھی‘تو سلطان نے نندا کی بیخ کنی کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اور 410ھ1019-20/ءمیں سلطان پھر ہندوستان کی طرف متوجہ ہوا جب دریائے جون(جمنا)پر پہنچا۔ تو نرو جے پال کو سلطان کی فوج کے سامنے بھاگ چکا تھا‘نندا کی اعانت اور مدد میں پھر سلطان کے مقابلے پر آگیا اور لشکر آراستہ کیا چونکہ بیچ میں گہرا دریا تھا‘لٰہذا سلطان کے حکم کے بغیر کوئی اس دریا کے پار نہ ہوا۔ اتفاقاً سلطان سے خاصہ کے ساٹھ غلام ایک دم دریا کے اس پار پہنچ گئے اور نرو جے پال کے سارے لشکر کو منتشر کرکے شکست دے دی۔ نرو جے پال چند کا فروں کے ہمراہ بھاگ گیا۔ غلام سلطان کے سامنے نہیں آئے۔ بلکہ ا نہوں نے اس شہرکا قصد کیا‘جو اس نواح میں تھا۔ شہر کو خالی پاکر لوٹ مار شروع کر دی اور بت خانوں کو مہندم کر دیا۔

سلطان دوسرے دن یہ خبر پاکر سوار ہوا اور کمین گاہوں کو اچھی طرح دیکھا۔ اس نے لشکر کے انخلاءکو دیکھ لیا اور اس کے مکرو فریب سے اطمینان ہو گیا‘تو تخت و تاراج کا سلسلہ شروع کر دیا۔بے شمار مال و دولت لشکرِ اسلام کے ہاتھ آئی۔ اتفاق سے نندا کے لشکر کے پانچ سو اسی ہاتھی میں ملے۔ بطور مالِ غنیمت ان کو حاصل کیا اور سلطان مظفر و منصور غزنی واپس چلا گیا۔

اس زمانے میں خبر ملی کہ قیرات اور نور دو درے ہیں۔ جہاں کے رہنے والے سب کافر ہیں اور ان کے ٹھکانے مستحکم ہیں۔ سلطان نے فوجوں کو حاضری کا حکم دیا اور لوہار‘بڑھئی اور سنگتراشوں کی ایک بڑی جماعت لے کر اس علاقے کو چل پڑا۔ اس مقام کے نزدیک پہنچا‘تو پہلے قیرات کا ارادہ کیا۔قیرات بہت سرد مقام ہے۔ وہاں میوہ بہت ہوتا ہے۔اس شہر کے لوگ پوجا کیا کرتے تھے۔ اس علاقے کے حاکم نے اطاعت قبول لر لی اور مسلمان ہو گیا۔ اس علاقے کے تمام باشندے بھی مسلمان ہو گئے۔

صاحب علی ابن آلت ارسلان کو نور کی فتح کے لیے مقرر کیا۔ اس نے وہاں جا کر اس علاقے کی فتح کر لیا اور قلعہ بنوایا۔ علی بن قدر جوق کو اس قلعہ کی کوتوالی پر مقر کیا۔ اس علاقے میں اسلام طوعا و کرہاً پھیلا۔

412ھ1021-22/ءمیں سلطان نے کشمیر کا ارادہ کرکے لوہ کوٹ کا محاصرہ کیا۔ تقریباً ایک ماہ تک وہاں قیام کیا۔ اس قلعہ کی بلندی اور استحکام کی وجہ سے اس پر فتح نہ پا سکا۔ وہاں سے نکل کر لاہور و باکرہ روانہ ہوا۔ لشکر ان پہاڑوں کی گھاٹیوں میں تخت و تاراج کی غرض سے منتشر ہو گیا۔ حد سے زیادہ مال غنیمت لشکر اسلام کے ہاتھ لگا۔سلطان موسمِ بہار کے آغاز میں مظفر و منصور غزنی واپس آ گیا۔

413ھ1022-23/ءمیں سلطان نے پھر ولایتِ نندا کا ارادہ کیا۔ گوالیار کے قلعہ پر پہنچا‘تو اس کا محاصرہ کر لیا جب چار دن گزر گئے‘تو اس قلعہ کے حاکم نے ایلچیوں کو بھیجا اور پینتیس ہاتھی پیشکش گزرانے اور امان چاہی۔ سلطان نے اس کی صلح کی درخواست منظور کر لی اور قلعہ کالنجر کی جانب متوجہ ہوا۔ اور اس قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس محاصرے میں ایک مدت گزر گئی‘تو اس قلعہ کے حاکم نندا نے تین ہو ہاتھی پیشکش گزران کر پناہ چاہی۔ چونکہ انہوں نے ان ہاتھیوں کو فیل بانوں کے بغیر قلعہ سے باہر نکال دیا تھا۔ سلطان نے حکم دیا کہ ترک ہاتھیوں کو پکڑ کر ان پر سوار ہو جائیں۔ اہل قلعہ نے یہ مشاہدہ کرکے تعجب کیا اور ترکوں سے عبرت حاصل کی۔

نندا نے ہندی زبان میں سلطان کی مدح میں ایک شعر لکھ کر بھیجا۔سلطان نے اس شعر کو ہندوستان کے فصیحاءاور دوسرے شعراءکو جو اس کی ملازمت میں تھے‘سنایا‘سب نے تعریف کی‘سلطان نے اس پر فخر کیا اور پندرہ قلعوں کی حکومت کا شاہی فرمان دوسرے تحائف کے ہمراہ(بدلے میں)اس کے پاس بھیج دیا۔ نندا نے بھی اس کے عوض بے انتہا مال و جواہر سلطان کی خدمت میں ارسال کیے اور سلطان وہاں سے فتح یاب ہو کر غزنی پہنچا۔

414ھ1023-24/ءمیں سلطان نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا۔ اس لشکر کے علاوہ جو اطراف ولایت میں تھا‘چون ہزار سوار اور ایک ہزار تین سو ہاتھی آئے۔

415ھ1024-25/ءمیں سلطان(محمود غزنوی)بگنج پہنچا۔اس زمانے میں علی تگین ماوراءالنہر کے لوگوں پر ظلم کر رہا تھا۔ سلطان اس کو دفع کرنے کے ارادے سے جیحوں سے گزرا۔ ماوراءالنہر کے سردار استقبال کے لیے آئے۔ حتیٰ کہ یوسف قدر خاں بھی(جو تمام ترکستان کا بادشاہ تھا) استقبال کے لیے آیا۔ محبّت اور دوستی کے طور پر بادشاہ سے ملاقات کی۔ سلطان اس کے آنے سے خوش ہوا۔ جشن منعقد کیے گئے۔ایک نے دوسرے کو ہدیئے اور تحفے پیش کیے۔ سلطان نے ہندوستان کے تحفے قیمتی جواہر‘اور فیلانِ کوہ پیکر دیے۔ صلح اور رضا کے ساتھ ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔ علی تگین فرار ہو گیا۔ سلطان نے لوگوں کو اس کے تعاقب میں مقرر کیا‘یہاں تک کہ اس کو گرفتار کر لیا۔ سلطان نے اس کو قید کرکے ہندوستان کے قلعوں میں سے کسی قلعہ میں بھیج دیا اور (سلطان)وہاں سے غز نی چلا گیا اور اس نے موسم سرما غزنی میں گزارا۔

اس نے اپنی عادت کے مطابق سومنات کو فتح کرنے کے ارادہ سے پھر ہندوستان پر لشکر کشی کر دی۔ سومنات سمندر کے کنارے ایک بڑا شہر ہے اور برہمنوں کی عبادت گاہ ہے اور اس بُت خانے میں بہت سے سونے کے بت تھے۔ سب سے بڑے بت کو منات کہتے تھے۔ کتب تواریخ میں دیکھا گیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاﷺ کے ظہور کے زمانے میں اس بت کو خانہ کعبہ سے نکال کر یہاں لے آئے تھے‘لیکن برہمنوں کی قدیم کتابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ کرشن کے زمانے سے(جس کو چار ہزار سال کا عرصہ ہوا)یہ بت برہمنوں کا معبُود ہے۔

مختصر یہ کہ جب سلطان شہر تہروالہ پتن پہنچا۔ تو اس نے شہر خالی دیکھا۔ حکم دیا کہ غلہ لے لیں اور سومنات کا راستہ اختیار کریں۔ جب سومنات پہنچے تو وہاں کے رہنے والوں نے قلعے کے دروازوں کو سلطان کے کشکریوں پر بند کر دیا۔ لڑائی اور کوشش کے بعد قلعہ فتح ہو گیا۔ غارت گری اور تاراجی عمل میں آئی۔ بہت سی مخلوق قتل اور گرفتار ہوئی۔ بت خانوں کو منہدم کرکے نیست و نابود کر دیا۔

سلطان نے وہاں سے واپسی کا علم اٹھایا چونکہ ہندوستان کے راجاﺅں میں سے ایک بڑا راجا پرم دیو نام راستے میں تھا اور اس وقت کے لحاظ سے اس سے جنگ کرنا مناسب نہ تھی‘اس لیے سندھ کے راستے سے ملتان کا ارادہ کیا۔ اس راستے میں بعض مقامات پر پانی کی کم یابی اور بعض جگہ پر چارے کی نایابی سے لشکریوں کو بہت تکلیف پہنچی اور بڑی مصیبت و پریشانی کے ساتھ وہ 417ھ1026/ءمیں غزنی پہنچا۔

اسی زمانے میں قادر باللہ نے سلطان کو خط لکھا اور خراسان‘ہندوستان‘نیمروز اور خوارزم کے جھنڈے بھیجے۔ سلطان‘اس کے بیٹوں اور بھائیوں کے لیے اس خط میں خطاب لکھے۔سلطان محمود غزنوی کو کہف الدولہ والا سلام‘امیر مسعود کو مشہاب الدولہ و جمال الملت‘امیر محمد کو جلال الدولہ و جمال الملت اور امیر یوسف کو عضدالدولہ و موید الملت خطاب لکھے اور ان میں سے تو جس کو اپنا ولی عہد کرے گا۔ ہم بھی اس کو قبول کریں گے اور یہ خط سلطان کو بلخ میں ملا۔

اس سال سلطان‘جتانی(جاٹوں)کو سزا دینے کے ارادے سے کہ(جنہوں نے سومنات سے واپسی کے وقت سلطانی لشکرکے ساتھ بے ادبی کی تھی اور مختلف قسم کی تکالیف پنہجائی تھیںِ۔)ایک لشکر عظیم کے ساتھ ملتان کی جانب روانہ ہوا اور جب وہ ملتان پہنچا تو حکم دیا کہ ایک ہزار چار سو کشتیاں بنائی جائیں اور ہر کشتی پر لوہے کے تین نہایت قوی اور مضبوط سینگ لگا دیے جائیں۔ایک کشتی کے سامنے کے رخ پر اور بقیہ دونوں پہلوﺅں پر چنانچہ جو کچھ بھی ان سینگوں کے مقابلے پر آتا ٹوٹ پھوٹ جاتا اور ناپید ہو جاتا۔ ان تمام کشتیوں کو دریائے جیحوں (سندھ)میں ڈلوا دیا۔ اور ہر کشتی میں بیس آدمی تیرو کمان اور نفت کی شیشیوں کے ساتھ بٹھا دیے اور جاٹوں کے استحصال کی تیاری کی۔ جاٹ خبر دار ہو گئے اور انہوں نے اپنے اہل و عیال کو سندھ کے جزیروں میں بھیج دیا۔ خود مقابلے کے لیے تنہا بیٹھ گئے اور چار ہزار کشتیاں اور(دوسری روایت کے مطابق آٹھ ہزار کشتیاں) دریا میں ڈالی گئیں۔ ہر کشتی میں ایک مسلح جماعت تھی۔ جب طرفین کا مقابلہ ہوا‘تو سخت جنگ ہوئی۔ جاٹوںکی جو کشتی سلطان کے آدمیوں کی کشتی کے پاس آتی‘کشتی کے سینگ سے لگتی اور ٹوٹ جاتی۔ یہاں تک کہ سارے جاٹ ڈوب گئے اور جو باقی رہ گئے تلواروں سے قتل ہوئے۔سلطان کا لشکر ان کے اہل و عیال کے پاس پہنچا اور سب کو قید کر لیا سلطان کامیاب اور فتح یاب ہوکر غزنی واپس چلا گیا۔

418ھ1027/ءمیں سلطان محمود غزنوی نے امیر طوس ابوالحرب ارسلان کو باوردا میں نامزد کیا۔تاکہ وہ جائے اور ترکمانوں کو ختم کر دے۔ امیر طوس نے زبردست لڑائیوں کے بعد سلطان کو لکھا کہ ان کے فساد کا تدارک نہیں ہو سکتا‘ تاوقتیکہ سلطان بذات خود یہاں آکر جنگ نہ کرے۔ سلطان خود وہاں پہنچا اور ترکمانوں کو ختم کر دیا اور پھر وہاں سے رے گیا اور رے کے خزانے دفینے‘(جو وہاں کے حکام نے برسوں سے جمع کر رکھے تھے‘)بغیر کسی وقت کے سلطان کے ہاتھ آئے۔ وہاں باطل مذہب اور قرامطہ بہت تھے(جن پر یہ الزام)ثابت ہو گیا وہ قتل کرا دیے۔ رے کی ولایت کو اصفہان مسعود کے سپرد کیا اور خود غزنی واپس چلا گیا۔

کچھ عرصے کے بعد سلطان دق کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ روزانہ یہ مرض بڑھتا گیا۔ لیکن سلطان بظاہر اپنے آپ دوسروں کی نظروں میں صحت مند ظاہر کرتا تھا۔ اسی حالت میں وہ بلخ پہنچا۔ جب موسم بہار آیا تو غزنی چلا آیا مرض زیادہ بڑھ گیا اور غزنی میں جمعرات کے روز 23ربیع الاوّل421ھ کو اسی مرض میں سلطان محمود غزنوی کا انتقال ہو گیا۔اس کی مدتِ سلطنت پینتیس سال ہوئی۔

کہتے ہیں کہ سکراتِ موت کے وقت سلطان نے حکم دیا کہ اس کے خزانے اور قیمتی مال اس کو دکھائے جائیں۔ اسے ان خزانوں کے چھوڑنے کا بہت صدمہ تھا۔ آہیں بھرتا تھا۔ اس نے ان میں سے ایک کوڑی بھی کسی کو نہیں دی۔ بارہ مرتبہ اس نے ہندوستان جا کر جہاد کیا۔(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -سلطان محمود غزنوی -