سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20

  


محمود غزنوی کے دوسرے حملے

(امیر ناصرالدین) سبکتگین کے مرنے کے بعد امیر اسماعیل(جوکہ اس کا بڑا بیٹا تھا)اس کا جانشین ہوا اور اس نے چاہا کہ امیر محمود غزنوی کو میراث سے محروم کر دے‘لیکن امیر محمود غزنوی اس پر غالب آیا اور باپ کا جانشین ہو گیا۔ اس نے بلخ کی جانب چڑھائی کر دی اور خراسان پر قبضہ کر لیا۔ جب اس نے اس ملک کو دشمنوں کی گندگی سے صاف کر دیا۔ تو اس کی حکومت کی شہرت ہر طرف ہو گئی اور بغداد کے خلیفہ القادر باللہ عباسی نے ایک نہایت فاخرہ خلعت اس کو بھیجا کہ اس سے پہلے کسی خلیفہ نے اس طرح کے کسی بادشاہ کو نہیں بھیجا تھا اور”امین الملت و یمین الدولہ“کا خطاب عنایت کیا۔

سلطان 390ھ/ 1000ءمیں بلخ سے ہرات کو روانہ ہوا وہاں سے سیستان گیا وہاں کے حاکم خلف بن احمد کو مطبع بنا کر غزنی واپس آ گیا اور غزنی سے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوا۔ چند قلعے کر لیے اور پھر واپس آ گیا۔ اس نے ایلک خاں کے ساتھ(رشتہ) دامادی استوار کر لیا اور طے پایا کہ ماورار النہر ایلک خاں کے پاس رہے گا اور سارا ملک سلطان کا ہوگا۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ماہ شوال 391ھ1000/میں اس نے پھر غزنی سے ہندوستان کا ارادہ کیا اور دس ہزار سوار لے کر پشاور آ گیا۔ راجا جے پال‘دس بارہ ہزار سوار بہت سے پیادے اور تین سو ہاتھی لے کر مقابلے پر آ گیا۔ جنگ شروع ہوئی۔ فریقین ایک دوسرے سے ٹکڑا گئے اور دادِ شجاعت دی آخرکار سلطان محمود غزنوی کو فتح و نصرت حاصل ہوئی۔ راجا جے پال پندرہ افراد کے ہمراہ‘(جن میں اس کے بھائی اور لڑکے تھے‘)گرفتار ہوا۔ ان میں پانچ ہزار کفار قتل ہوئے۔ (کہتے ہیں کہ جے پال کے گلے میں ایک مرصع حمائل تھی کہ جن کو ہندوستان کی زبان میں مالا کہتے ہیں۔ مبصروں نے اس کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار دینار تجویز کی تھی اور اس کے دوسرے بھائیوں کے گلوں میں قیمتی مالائیں تھیں۔)یہ فتح ہفتہ کے روز آٹھ محرم الحرام 392ھ28/نومبر1000ءکو ہوئی۔

وہاں سے محمود غزنوی قلعہ یہند(ویہند)کو جہاں جے پال رہتا تھا روانہ ہوا اور اس پر قبضہ کر لیا۔جب موسم بہار آیا تو وہ غزنی واپس چلا گیا محرم 393ھ/ نومبر1002ءمیں وہ پھر سیستان گیا اور خلف(بن احمدج کو مطیع بنا کر غزنی لے آیا پھر ہندوستان کا قصد کیا اور بھاتیہ کو فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ نواح ملتانی سے گزار کر بھاتیہ کی حدود میں قیام کیا۔ وہاں کا راجا بحیرا اپنی سپاہ اور ہاتھیوں کی کثرت اور قلعہ کے استحکام کی بدولت مفرور تھا۔ اس نے اپنے لشکر کو سلطان کے مقابلہ کے لیے چھوڑا اور خود چند آدمیوں کے ہمراہ دریائے سندھ کے کنارے جا پہنچا۔ سلطان نے یہ خبر پا کر اپنا لشکر اس کے تعاقب میں روانہ کر دیا۔ جب سلطان کا لشکر اس کے پاس پہنچ گیا‘تو اس نے خنجر مار کر خود کو ہلاک کر لیا‘لوگ اس کا سر بادشاہ کے پاس لائے۔ سلطان نے اس کے آدمیوں پر تلوار چلائی۔ بہت سے آدمی مارے گئے۔ مالِ غنیمت میں بہت سے غلام‘ہاتھی اور ہندوستان کی نفیس چیزیں ہاتھ آئیں اور وہ غزنی چلا گیا۔ تمام مالِ غنیمت میں دو سو اسی ہاتھی تھے۔

کہا جاتا ہے کہ چونکہ ملتان کا حاکم داﺅد بن نصر ملحد تھا‘لٰہذا سلطان کو دینی غیرت نے ابھارا کہ اس کو بھی تنبیہہ کرے۔ پس وہ ملتان کے ارادے سے روانہ ہوا اور اس کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ وہ خبردار نہ ہو جائے‘مخالف راستے سے روانہ ہوا۔ جے پال کا لڑکا آنند پال جو راستے میں تھا‘مزاحم ہوا۔ سلطان نے لشکر کو لڑائی‘تاراجی اور غارت گری کا حکم دیا۔ آنند پال شکست کھا کر کشمیر کے پہاڑوں میں بھاگ گیا اور سلطان ہند کے راستے سے ملتان پہنچا اور سات روز تک ملتان کا محاصرہ جاری رکھا۔ ملتان کے حاکم نے ہر سال بیس ہزار درہم ادا کرنا قبول کیا اور احکام شرعیہ کے جاری کرنے کا عہد کرکے توبہ و معذرت کی اور سلطان اس قرار پر صلح کرکے غزنی واپس چلا گیا۔ یہ واقعہ 396ھ1005-06/ءمیں ہوا۔

397ھ1006-07/ءمیں سلطان ترکوں سے جنگ میں مشغول ہوا۔ وہ ربیع الآخر 398ھ1007/میں اس کار زار سے فارغ ہوا‘تو اسے یہ خبر ملی کہ راجا ہند کا پوتا سو کپال‘جو ابوعلی سمجوری کے ہاتھوں قید ہو کر اسلام لے آیا تھا‘مرتد ہو کر فرار ہو گیا۔ سلطان محمود غزنوی نے اس کا تعاقب کیا اور گرفتار کرکے قید کر دیا‘بعدازاں اسی قید میں وہ مر گیا۔

سلطان محمود غزنوی399ھ1008-9/ءمیں دوبارہ ہندوستان آیا اور آنند پال سے جنگ کرکے اس کو شکست دی۔ تیس ہاتھی اور بہت سا مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ وہ وہاں کے قلعہ بھیم نگر کو روانہ ہوا اور اس قلعہ کا محاصرہ کیا۔ اہلِ قلعہ نے امان چاہی اور قلعہ کا پھاٹک کھول دیا۔ سلطان اپنے چند آدمیوں کے ہمراہ قلعہ میں داخل ہوا۔ سونا‘ چاندی‘الماس اور جو کچھ بھیم کے زمانے سے جمع ہوا تھا‘لے کر واپس چلا آیا اور حکم دیا کہ اس کی قیام گاہ کے سامنے سونے اور چاندی کے چند تخت رکھ کر وہ سارا مال وسیع میدان میں ڈال دیا جائے۔تاکہ سپاہ اور رعایا اس کو دیکھ کر تعجب کرے۔ یہ واقعہ چوتھی صدی ہجری کے ابتدا میں ہوا۔

سلطان محمود غزنوی نے پھر401ھ(1010-11ئ)میں غزنی سے ملتان کا قصد کیا اور جو کچھ ملتان میں باقی رہ گیا تھا اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ قرامطیوں اور ملحدوں میں سے اکثریت کو قتل کرا دیا۔(کچھ کے)ہاتھ کٹوا دیے اور بعض کو قلعہ میں بند کر دیا جو وہیں مر گئے۔

جب سلطان کو یہ خبرملی کہ ہندوستان میں تھانسیر نام ایک شہر ہے اور وہاں کے بڑے بت خانے میں ایک بت ہے‘جس کا نام جگر سوم ہے۔ اور ہندوستان کے لوگ(ہنود)اس کی پرستش کرتے ہیں‘سلطان نے جہاد کے ارادے سے لشکر جمع کیا اور 402ھ (1011-12ئ)تھانسیر کی طرف متوجہ ہوا۔ نرو جے پال کو جب یہ خبر ملی تو اس نے اپنا ایلچی بھیجا اور پیغام ارسال کیا کہ اگر سلطان اپنے ارادے سے باز آ جائے تو میں پچاس ہاتھی بطور پیشکش بھیجوں گا۔ سلطان نے اس پر توجہ نہ کی۔ جب وہ تھانسیر پہنچا‘تو پورے شہر کو خالی پایا۔ لشکریوں کو جو کچھ ملا وہ انہوں نے لوٹا۔ بتوں کو توڑا اور بت جگر سوم کو غزنی لے گئے۔ سلطان نے حکم دیا کہ اس بت کو شاہی محل کے سامنے ڈال دیا جائے۔ تاکہ مخلوق کے پیروں تلے روندا جائے۔

سلطان نے 403ھ(1012-13ئ)میں غرجستان کو فتح کرکے اس کے حاکم ”شار“کو گرفتار کر لیا اور اس سال کے آخر میں ابوالفوارس بن بہاﺅ الدولہ‘اپنے بھائیوں کے غلبے کی وجہ سے سلطان محمود غزنوی کی پناہ میں آ گیا۔ سلطان نے (ان کو )خطوط لکھے اور ان میں صلح ہو گئی۔ اسی سال عزیز مصر کا ایلچی کہ جس کو ”مہارتی“کہتے تھے‘پہنچا۔ علماءاور فقہا نے سلطان سے کہا کہ یہ ایلچی قرامطہ کا مذہب رکھتا ہے‘سلطان نے اس کی تشہیر کرا کے اسے نکال دیا۔

404ھ(1013-14ئ)میں سلطان نے قلعہ نندنہ پر (جو کوہ بالناتھ میں واقع ہے‘)چڑھائی کر دی۔ نرو جے پال نے تجربہ کار آدمی قلعے کی حفاظت کے لیے چھوڑے اور خود درہ¾ کشمیر میں داخل ہو گیا۔ سلطان نے نندنہ پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ قلعہ گری کا تمام مال و اسباب جمع کرکے نقب شروع کی۔ اہل قلعہ نے امان حاصل کرکے قلعہ سپرد کر دیا‘سلطان اپنے چند خاص آدمیوں کے ہمراہ قلعہ میں داخل ہو گیا اور جو کچھ سامان وہاں تھا‘سب لے لیا اور سارغ کو وہاں کا کوتوال مقرر اور درہ¾ کشمیر کی جانب رخ کیا‘کیونکہ نرو جے پال وہاں تھا۔ نرو جے پال وہاں سے بھی فرار ہو گیا۔ سلطان اس درہ میں داخل ہوا‘تو بہت سے غلام سونا اور مالِ غنیمت ہاتھ لگا۔ بہت سے کافروں کو دینِ اسلام میں داخل کیا۔ ان کو اسلام کے آئین سکھائے اور غزنی چلا گیا۔

407ھ(1016-17ئ)میں اس نے کشمیر کا رخ کیا اور لوہ کوٹ کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا‘آندھی‘برف‘سردی کی شدت ہو گئی اور کشمیریوں کو مدد پہنچ گئی تو سلطان نے (قلعہ کا)محاصرہ چھوڑ دیا اور بہار کے موسم میں غزنی چلا گیا۔

اسی سال ابواالعباس بن مامو وارزم شاہ نے خوارزم سے ایک خط سلطان محمود غزنوی کو لکھ کر اس کی بہن کی خواہش کی‘تو سلطان نے اپنی بہن کو خوارزم بھیج دیا۔ 407ھ (1016-17ئ)میں بدمعاشوں کی ایک جماعت نے ہجوم کرکے خوارزم پر چڑھائی کر دی اور اس کو قتل کر دیا۔ سلطان غزنی سے بلخ آیا اور وہاں سے خوارزم کا ارادہ کیا۔ جب خوارزم کی سرحد پہنچا‘ تو اس نے محمد بن ابراہیم طائی کو لشکر کا مقدمتہ الحبیش بنا کر پہلے روانہ کیا‘جس وقت انہوں نے منزل کی اور صبح کی نماز میں مشغول ہوئے‘تو خمارتاس جو خوار زمیوں کا سپہ سالار تھا‘کمین گاہ سے نکلا اور ان پر حملہ آور ہوا۔ ایک کثیر جماعت کو قتل کرکے اس جمیعت کو منتشر کر دیا۔ سلطان کو یہ خبر ملی تو اس نے اپنے غلاموں کی ایک زبردست فوج ان کے تعاقب پر مقرر کر دی۔ انہوں نے اس کا پیچھا کیا اسے گرفتار کیا اور سلطان کے پاس لے آئے۔ سلطان قلعہ ہزار سپ پر پہنچا تو خوارزم بڑی جمعیت اور تیاری کے ساتھ فوج آراستہ کرکے مقابلے پر آگئے۔ بڑی سخت لڑائی ہوئی۔ آخر خوارزمیوں کو شکست ہوئی اور الپتگین بخاری جو ان کا سپہ سالار تھا‘قید کر لیا گیا۔ سلطان نے اپنے لشکر کے ہمراہ خورزم جانے کا قصد کیا۔ اس نے پہلے ابوالعباس کے قاتلوں کو قصاص میں قتل کرایا اور اپنے امیر حاجب التون تاش کو خوارزم شاہ کا خطاب دے کر خوارزم کی ولایت اس کے سپرد کر دی اور وہاں سے بلخ آ کر ہرات کی ولایت اپنے لڑکے امیر مسعود کو دی اور ابو سہیل محمد بن روزنی کو اس کا وکیل بنا کر اس کے ہمراہ روانہ کر دیا اور گورگان کی ولایت میر محمد کو دے کر ابوبکر قہستانی کو اس کے ہمراہ کر دیا۔

409ھ1018-19/ءمیں سلطان محمود غزنوی نے ولایت قنوج کو فتح کرنے کے ارادے سے فوج کشی کی۔ وہ سات ہولناک دریاﺅں کو عبور کرکے جب قنوج کی سرحد پر پہنچا‘تو وہاں کے حاکم کورہ نای نے اطاعت قبول کرکے امان چاہی اور پیشکش بھیجی۔ سلطان وہاں سے برن کے قلعہ پر پہنچا اور اس قلعہ کا حاکم ہردت‘قلعہج اپنے عزیزوں اور ہم قوم لوگوں کے سپرد کرکے خود کنارہ کش ہو گیا۔ اہلِ قلعہ مقابلے کی تاب نہ لائے۔ دس لاکھ درہم کہ جن کے دو لاکھ پچاس ہزار روپے ہوتے ہیں اور تیس ہاتھی پیش کرکے امان حاصل لرلی۔ پھر سلطان وہاں سے مہاون پر دریائے جمنا کے کنارے پہنچا۔ اس قلعہ کے حاکم کل چندر نے ارادہ کیا کہ ہاتھی پر سوار ہو کر دریا کے پار جائے اور فرار ہو جائے۔ سلطان کے لشکریوں نے حملہ کر دیا۔ جب اس کے نزدیک پہنچے‘تو اس نے اپنے آپ کو خنجر سے ہلاک کر لیا۔

زیستن چوں بکام خصم بود

مردن از زیستن بسنے بہتر

قلعہ ہو گیا۔ پچاسی ہاتھی اور بے مالِ غنیمت لشکرِ اسلام کے ہاتھ آیا۔(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...