آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ، سستی بجلی سے فائدہ ہو گا ، عمران خان کا یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب 

آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ، سستی بجلی سے فائدہ ہو گا ، عمران خان کا یوم ...
آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ، سستی بجلی سے فائدہ ہو گا ، عمران خان کا یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں ہمیں خوف تھا کہ کورونا سے لوگ مریں گے اور دوسری طرف خوف تھا کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے بھوک سے لوگ مریں گے ، جو ہم نے فیصلے کیے ، اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کے کیسز نیچے آ گئے ہیں اور معیشت بھی اوپر جانا شروع ہو گئی ہے ، ہم ابھی جنگ نہیں جیتے ، احتیاط کرنی ہے ، عوامی مقامات پر جائیں تو فیس ماسک لگائیں اس سے وبا کے پھیلنے کے خدشات کم ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دو سال بڑے مشکل گزرے ہیں ، جب حکومت ملی تو بڑے مشکل حالات تھے ،ہم قرضوں کی قسطیں نہیں دے سکتے تھے ، ہمارے پاس فارن ایکسینج نہیں تھا ،شروع میں ہم ڈیفالٹ بھی کر رہے تھے ، ملک ڈیفالٹ کر جائے تو اس کے بڑے برے اثرات آتے ہیں ، ملک میں ڈالر آنا اور بھی کم ہو جاتے ہیں جبکہ ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے اور روپے کی قدر گر جاتی ہے ، ملک میں مہنگائی آ جاتی ہے ، ہم بہت بری مہنگائی سے بچ گئے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ لوگوں کے حالات ابھی بھی مشکل ہیں ، خوشخبری یہ ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں ، ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر گئی ہے ، اس لیے گئی ہے کہ لوگوں کا اعتماد بڑھنا شروع ہو گیاہے ، اس کی بڑی وجہ ہمارا تعمیراتی شعبہ ہے ، جب کنسٹریکشن انڈسٹری اٹھنی شروع ہو تی ہے تواس کے ساتھ چالیس اور بھی انڈسٹریاں چلنا شروع ہو جاتی ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ہمیں اقتدار ملاتو ہماری حکومت پر دو بڑے بوجھ تھے ، پچھلی حکومتوں نے جو قرضے لیے تھے ، جتنا ٹیکس اکھٹا کیااس میں سے آدھا دو ہزار ارب کی قرض کی قسطیں واپس کرنی تھی ، ملک چلانے کیلئے پیسہ آدھا رہ گیا اور ملک چلانے کیلئے مزید قرضے لینے پڑے ۔ 

عمران خان نے کہا کہ دوسرا بوجھ مہنگی بجلی ہے ، ہماری انڈسٹری بھارت اور بنگلہ دیش کی انڈسٹری سے مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ وہاں بجلی سستی تھی ۔ ماضی کی حکومت نے بجلی کنٹریکٹ سائن کیے تھے ، جس کی وجہ سے ہمارے گردشی قرضے بڑھ رہے تھے ، کوئی دکان نہیں چل سکتی اگر دکاندار دس روپے میں مال خریدے اور پانچ روپے میں بیچے ۔ہم بجلی مہنگی خرید رہے ہیں اور سستی بیچ رہے ہیں لہذحکومت اور آئی پی پیز کے درمیان ا مذاکرات چل رہے تھے،میں مبارک باد دینا چاہتاہوں کہ کل یہ معاہدہ ہو گیا ہے ،اس سے بجلی کی پیداواری لاگت کم ہو گی ،اس سے فائدہ ہماری انڈسٹری کو ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری آج آمدنی بڑھنی شروع ہو گئی ہے ، کورونا کے باوجود ہماری ٹیکس کولیکشن ٹارگٹ سے زیادہ ہوئی ہے ، ہماری درآمدات بڑھنا شرو ع ہو گئیں جو کہ خوش آئند چیز ہے ، ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر چلی گئی ہے ، سیمنٹ کی فروخت بھی اوپر گئی ہے ، آگے حالات مزید بہتر ہوتے جائیں گے ۔

عمران خان نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہم بجلی کی ڈسٹریبوشن نیٹ ورک کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، چوری اور لائن لاسز کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، آخر میں میں پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بھائی اور بہنوں کو پیغام دینا چاہتاہوں کہ سارا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے ، سارے ملک کو احساس ہے کہ کس قسم کے ظلم اور مشکلات کا آپ سامنا کر رہے ہیں ، ہماری جدوجہد آپ کیلئے جاری رہے گی ، اللہ سے دعا کریں گے کہ اللہ آپ کو آزاد کرے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -