پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم ‘ روزمرہ اشیاء کی قیمتیں برقرار

پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم ‘ روزمرہ اشیاء کی قیمتیں برقرار

  

خانیوال ‘ڈاہرانوالہ( نمائندگان )پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی شہری سرآپااحتجاج ،تفصیل کے مطابق پوری دنیا کی طرح پاکستان میں پٹرولم کی مصنوعات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کے اثرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکے پٹرول کی قیمتیں113روپے کم ہوکر(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

62روپے تک آگئی ہیں مگر عام آدمی لوگوں کے استعمال کی روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی واقع نہ ہوسکی شہریوں عبدالہ ،عامر ،اطہر، بلال،بہادر، نعیم ،ضیاء ،نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کو دفاتر سے نکال کر مارکیٹوں میں بھیجے تاکہ اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کو روزانہ کی بنیادپر پابند کیا جائے کہ وہ مارکٹیوں کا دورہ کریں ۔ ڈاہرانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق تیل کے نرخ جو سو ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ تھے مٹھی کی ریت کی طرح گھٹ کر 40 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگئے یوں تیل کے نرخ ماضی کے مقابلے نصف ملک بھر میں ہو گئے ہیں مگر گاڑیوں اور بسوں کے کرایوں میں کمی نہ ہو سکی اور ٹرانسپورٹر اب بھی وہی کرایہ وصول کر رہے ہیں جو مہنگا تیل کے زمانے میں لئے جاتے تھے ۔حال ہی میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے جو کرایہ نامہ کا شیڈول جاری کیا ہے بس مالکان نے ایک دن بھی اس پر عمل نہیں کیا۔جب تیل 100روپے لٹر تھا تب بھی ڈاہرانوالہ تا چشتیاں اور ڈاہرانوالہ تا ہارون آباد کرایہ پچاس روپے تھا آج جب تیل ساٹھ روپے لٹر تک پہنچ گیا لیکن اب بھی ٹرانسپورٹر حضرات وہی کرایہ وصول کرتے ہیں۔حکومت نے دس فیصد ریلیف کی بات کی تھی مگر حکومت کی سنتا اور مانتا کون ہے۔حکومت دہشت گردی کے سامنے تو سینہ تان کے کھڑی ہو جاتی ہے مگراس اہم عوامی مسئلے پر ایکشن کیوں نہیں لے رہی باوثوق ذرائع یہ کہتے ہیں کہ ٹرانسپورٹر مافیا حکومت کی ذیلی تنظیموں میں سے ایک ہے اور کسی نہ کسی حوالے سے حکومت کا حصہ ہیں۔شوگر مافیا کی طرح ٹرانسپورٹ مافیا کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔حکمرانوں سے آج تک یہ نہیں ہو سکا کی وہ بسوں میں کرایہ نامہ آویزاں کروا سکے۔مسافروں کو بھیٹر بکریوں کی طرح لاد کر لیجانا معمول ہے۔ ڈاہرانوالہ میں پٹرول پمپس اور تیل ایجنسیوں کی ملی بھگت سے پٹرول اصل ریٹ سے دو روپے زیادہ فروخت ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اس مسئلے کا بھی حکومت کو نوٹس لینا چاہیئے تاکہ عوام کو بلا امتیاز یکساں ریٹ پر پٹرول فروخت ہو سکے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -