شاہدآفریدی پر غداری کا مقدمہ بنتا ہے ؟

شاہدآفریدی پر غداری کا مقدمہ بنتا ہے ؟
شاہدآفریدی پر غداری کا مقدمہ بنتا ہے ؟

  

فوجی ،سیاست دان اور کھلاڑی کی کامیابی اور فتح دراصل اسکی اعصابی قوت کا بڑا امتحان ہوتی ہے ۔میدان میں نکلنے کے بعد ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بدترین حالات اور دشمن کی پچ پر کھڑے ہوکر کھیلنے اور لڑنے والے مشکل فیصلے کیسے کرتے ہیں ۔

شاہد آفریدی   منجھے ہوئے کرکٹرضرور ہیں مگر اعصابی طور پر بڑے کمزور آدمی ہیں،جھنجلایا ہوا،برہم برہم سا رہنے والا یہ کرکٹر ذاتی حیثیت میں ہوا کے بلبلے کی طرح پھٹ پڑتا ہے ،ذرا سا زچ کیا جائے تو ان کے اعصاب جواب دے دیتے اور پھٹ پڑتے ہیں ۔میں ذاتی طور پر اسکا مشاہدہ کرچکا ہوں کہ وہ مغلوب الغضب شخص   ہیں اور ایسی حالت میں وہ کچھ بھی بول دیتے ہیں ۔اسکے باوجود  قوم نے انہیں سر آنکھوں پر بیٹھایا ہے ،گلیمرکی خُوبو نے اب انکاوقار گرانا شروع کردیا ہے۔اپنامقام قائم رکھنا انسان کے لئے ا سے پانے سے کئی گنازیادہ مشکل ہوتا ہے ،یہ رموزپیشہ جانتے ہوئے بھی شاہد آفریدی کا ”پاکستان کو کشمیر نہیں چاہئے“ کاغیر ذمہ دارانہ بیان  دیناانکی بچگانہ یا مجرمانہ فکری اور اعصابی کمزوری کی دلیل ہے۔وہ بھول گئے کہ بھارتی بہت زیادہ قوم پرست ہیں ،وہ اپنے ریاستی موقف کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے،سدھو بھی ایک کرکٹر ہے جسے وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں بلایا گیا تو بھارت کے انتہا پسند میڈیا نے اسکی واٹ لگا دی،  پاکستان  کے سپہ سالار سے اس نے جپھی کیا ڈالی ،بھارتیوں  کے سینے تنگ ہوگئے اورسانسیں ہی اکھڑ گئیں۔کتنے بھارتی کرکٹر ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کے مظالم پر زباں کھولتے ہیں ؟اور ریاستی مظالم پر بھارت کو ناکام ریاست کہتے ہیں ؟

شاہد آفریدی کو خاص طور پر کشمیر پر بات کرتے ہوئے اور پھر پاکستان کی ریاست کو ایک غیر ذمہ دار ناکام ریاست کے طور پر اسکی تصویر کشی کرنے سے پہلے اپنے مقام اور رتبہ کا احساس کرنا چاہئے تھا۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نائن الیون سے بھی پہلے سے بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کازور لگا رہاہے  تاکہ پاکستان کا کشمیر پر مقدمہ کمزور ہوجائے اور ساتھ پابندیاں بھی لگ جائیں۔سوشل میڈیا پر اب جبکہ شاہد آفریدی  کی واٹ لگ رہی ہے تو خود انہیں اس سنگین غلطی کااندازہ ہوجانا چاہئے کہ قوم ان کے مجرمانہ بیان پر سیخ پا کیوں ہورہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر لوگ کہہ رہے  ہیں کہ چیف جسٹس کو انکے بیان پر سخت ایکشن لینا چاہئے۔اپنے ملک کو ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بننا چاہئے ،انہوں نے ایک طرح سے پاکستان کو گالی دی ہے کہ یہ ملک تو پہلے ہی چار صوبے نہیں سنبھال پارہا تو کشمیر لیکر کیا کرے گا ۔ انہیں شاید معلوم نہیں آزاد بلوچستان ،پختونستان اور سندھو دیش کا نعرہ ہائے فتنہ لگانے والے بھی کچھ ایسا ہی موقف اپنایا کرتے تھے اور قوم نے انہیں ناکام بنا دیا ۔کیونکہ پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو بھی سنبھالنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور قوم کو اس بارے  کچھ شک نہیں۔ 

 بندہ  آفریدی سے پوچھے لالہ تمہیں کیا پڑی ہے سیاست کرنے کی ؟  ٹھیک ہے یہ ان کا ذاتی خیال ہوگا  کہ  کشمیر کو خود مختار ریاست ہونا چاہئے،مگر انہٰیں اپنی کریڈیبلٹی تو دیکھنی چاہئے کہ وہ درجنوں اداروں کے  ایمبیسیڈر ہیں ،قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور ابھی بھی کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں رہتے ہیں لہذا انہٰیں   کشمیر پر بیان بازی کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچنا چاہئے تھا کہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی   موقف کے برعکس  بات کریں گے تو  بھارتی میڈیا دنیا بھر میں اس بیانئے کوکیش کرائے گا کہ دیکھو پاکستان کا یہ ہیرو بھی   کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہیں تسلیم کر تا۔شاہد آفریدی کو اس پہلو پر ایک لاکھ مرتبہ سوچنا چاہئے تھا ۔اگر چہ   کشمیر پر ہونے والے بھارتی مظالم سے رنجیدہ ہوکر انہوں نے یہ بات کہی ہے ،اس سے پہلے وہ بار بار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر ٹویٹ کرتے رہے ہیں لیکن دیکھنا ہوگا کہ   چند ٹویٹ کرنے کے بعد انکاپیمانہ کیوں چھلک پڑا ۔وہ عاجز کیوں آگئے؟ کیا وہ پاکستان کے لئے  عملا قربانیاں دینے والے کشمیریوں سے زیادہ حساس ہیں ؟ ہیروز اور لیڈرز کے مضبوط اعصاب ہی انہیں اصولی موقف پر قائم رہنے دیتے  ہیں تو وہ اپنے حق کی جنگ جیت پاتے ہیں ۔  کشمیر پر ان کی ذاتی رائے ہر گز پاکستانی ریاست اور قوم کی رائے نہیں ہوسکتی تاہم انہوں نے جس طنزیہ انداز میں یہ کہا ہے کہ پاکستان سے تو پہلے ہی چار صوبے نہیں سنبھالے جارہے تو یہ اس سے بھی سنگین تر اور فتنہ انگیز بات ہے جس کے مضمرات سے وہ آگاہ نہیں ہیں۔گویا انہوں نے اس غیر ذمہ دارانہ بیان میں یہ کہا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے جو اپنے صوبوں پر کنٹرول نہٰیں کرپارہی لہذا مقبوضہ کشمیر پر اسکا مقدمہ تسلیم نہ کیا جائے ۔شاہد آفریدی کا اینٹی سٹیٹ بیانہ نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں ہے ۔یہ بیانیہ پوری ریاست اور قوم کے خلاف ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے ۔وہ قوم کے ساتھ سا تھ ریاست  کے بھی گناہ گار ہوئے  ہیں ۔وہ معافی بھلے سے مانگ لیں کہ ان سے سہوا ایسی بات منہ سے نکل گئی لیکن انہیں یہ سوچنا چاہئے وہ ہیں کون؟ وہ شاہد آفریدی ہیں کہ جسے قوم کا بچہ بچہ بھی جانتا اور بھارت میں انکا ڈنکا بجتا رہاہے۔وہی بھارتی میڈیا جو ان کے ٹویٹس سے عاجز آکر ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا اور انکی رائے کو جھٹکاکرتا تھا آج اسے شاہد آفریدی ایک ” حق گو“ نظر آنے لگ پڑا ہے ۔شاہد آفریدی نے بھارت کے خلاف درجنوں میچ کھیلے اور  اسکوللکارا ہے لہذا دشمن کے عزائم سے وہ کیسے بے خبر رہ سکتے ہیں کہ وہ اس کی کمزوری سے بے پناہ فائدہ نہیں اٹھائے گا ۔ اس سے قبل کہ یہ بیانیہ ان کے لئے بڑی مصیبت کھڑی  کرڈالے،انہیں فوری قوم اور ریاست سے معافی مانگ لینی چاہئے۔

۔۔۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید : بلاگ