چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ ساتویں قسط

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ ساتویں قسط
چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ ساتویں قسط

  

ترجمہ :ایم وقاص مہر

علمِ کتبات کے ماہر وانگ یرنگ(wang yirong) کاڈریگن بونز سے واسطہ اس وقت پڑا جب وہ ملیریا کے مرض میں مبتلا تھا .وہ ایک دوا ساز دکان سے دوا لے کر واپس جارہا تھا توجب اس نے اس لفافہ کو دیکھا جس میں دوا پیک تھی تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی ۔کیونکہ ڈریگن بونز پر انسانوں اور جانوروں کی اشکال کی مجسمہ سازی کی گئی تھی۔ کافی مشقت اور محتاط معائنے کے بعد وہ یہ جاننے میں کامیاب ہواکہ یہ پرانے وقتوں کے حروف کی اشکال ہیں۔ان مجسموں پر چونکہ شان سلاطین کے نام لکھے تھے تاہم اسے یوں لگا کہ یہ ہڈیاں شانگ کے زمانے میں فال گیری کے کئے استعمال کی جاتی تھیں۔اس کے ساتھ قدیم رسم الخط کے ماہر لیوزین یو(luo zhenyu)اور مصنف لیو ی(liu E)نے ڈریگن بونز کے مآخذ کا کھوج لگانے کے ساتھ ساتھ ایک پرانے دور کے تاجر کو بھی ڈھونڈ نکالا جو ان کی خرید و فروخت کیا کر تا تھا۔لیکن تاجر نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں بتایا کہ یہ ہڈیاں توصوبہ ہنان سے آتی تھیں۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وانگ یرونگ(wang yirong) نے بہت مہنگے داموں ان ہڈیوں کے ہزاروں ٹکڑے تو خریدلیے لیکن اس کو ان سے کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں ملی تھیں۔

لیوزین یو(luo zhenyu)نے ڈریگن بونز کی لوکیشن کا کھوج لگوالیا اور مزید تحقیق جاری رکھی۔کتبوں اور یوستِ سنگ پشت کی دریافت ماہرِ آثارِ قدیمہ کت کئے بہت بڑی خبر بن گئی تھی اور ین کے کھنڈرات نے دنیا بھر کے توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی ۔

شانگ سلاطین کے بارے میں سما کیان (sima qian ) کی historical recordsمیں درج تفصیل اس بات کی گواہی دیتی ہے ۔کہ اس تحقیق کے ٹھیک ایک سال بعدوانگ یرونگ(wang yirong) آٹھ مغربی ممالک کی افواج کے اتحاد کے خلاف لڑنے کے لئے محاذ پر چلا گیا ۔لیکن بدقسمتی سے اس جنگ مین چین کو شکست ہو گئی اور وانگ یرنگ(wang yirong) نے اپنی بیوی کے ہمراہ خودکشی کر لی تھی۔1928ء سے1937ء تک چین نے ین کے کھنڈرات پر پندرہ کھدائیاں کروائی تھیں ۔لیکن پھر چین اور جاپان کے درمیا ن جنگ پھوٹ پڑی اور جاپانی افواج ین کے کھنڈرات سے سارے آثار اپنے ساتھ ہی لے گئے تھے۔1949ء کے انقلاب کے بعد چینی حکومت نے دوبارہ سے آثارِ قدیمہ کی سرگرمیا ں شروع کروادی تھیں۔اس دورسے ین کھنڈرات کی دریافت سے اب تک ان کی کھدائی کی جاتی رہی ہے اور دوسری طرف ان کے آرکائیو بھی عوام کے لئے کھول دیے گئے ہیں۔

ین کھنڈرات کا ڈھانچہ اور اس کے شماریا ت آہستہ آہستہ ہمارے لئے قابلِ فہم بنے تھے۔ین کے کھنڈرات کا کل رقبہ 30 مربع کلو میڑز ہے۔وہاں پر 50سے زائد جگہوں کے اثار ،مندر اور دوسری عمارتوں کا ہجوم ہیں۔وہاں پر 12 شاہی مقبرے ،کئی ہزار عام اور نوبل لوگوں کی قبریں1ہزارقربانی کے تاپال،1700 کے قریب ٖفصیلیں،5دستکاری کی ورک شاپس، 1.6 ملین الفاظ اور 4500 حروف کے ساتھ160 ہزار ہڈیوں کے ٹکڑے موجود ہیں ،جن میں سے1700کو آج بھی حروف کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

ین کھنڈرات کے کچھوے کے کھول اور ہڈیوں پر ضبط شدہ کتبے شانگ سلاطین کی آثارَقدیمہ کی دریافتوں میں سے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ان کتبوں کی ذخیرہ اندوزی ،تدوین،ڈی کوڈنگ اور مطالعہ سے پچھلی ایک صدی سے بہت سے ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزید : چین کی عظمت رفتہ کا سفر