پاکستان میں غربت اور بے روزگاری؟

پاکستان میں غربت اور بے روزگاری؟
پاکستان میں غربت اور بے روزگاری؟

  

پاکستان میں غربت اور بے روزگاری  سب سے بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں تین قسم کے طبقے آباد ہیں ایک امیر جن کے پاس ہر قسم کی سہولت موجود ہے جس سے وہ بہتر زندگی بسر کرتے ہیں ان کو ہر سہولت میسر ہے۔دوسرا درمیانی طبقہ ہے جو کہ غربت کی لکیر سے تھوڑا اوپر ہے اور تیسرا طبقہ غربت جو محض دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھاسکتا ، بے روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہے پاکستان بھی اس مجبوری کی زد میں ہے ۔معاشرے میں بے  روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں اس سے فاقہ طاری ہونا ، بیماری پھیلتی ہے جو موت کے منہ میں لے جاتی ہے یہ معاشی زہر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے اور ملک کی سیاسی صورت حال بھی متاثر ہوتی ہے ،بے روزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو بھی مجرم اور ڈاکو بنا دیتی ہے اس سے بدعنوانی پھیلتی ہے جھوٹ بڑھنا ، برائیاں پھیلنا اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آجاتا ہے ، بے روزگار آدمی سے شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہوجاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی  میسر نہیں کرسکتا تو اس سے اچھے امور توقع کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔

اسکے لیے عزت کی زندگی جینا محال ہوجاتا ہے غربت اور بے روزگاری ایک ریاست کی بڑی کمزوری اور نا اہلی مانی جاتی ہے بے روزگاری سے بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے اور بے اطمینانی سے سیاسی معاشی اور معاشرتی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں اور پھر سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے اور بغاوت انقلاب کی صورت میں نمودارہوجاتی ہے ، حکومت پاکستان غربت کے خاتمے کو پوری طرح ختم کرنے میں ناکام ہے آخر کیوں ؟

اسکی بھی بہت سی وجوہات ہیں ۔جسکی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے اور ساتھ ساتھ تعلیم کی شرح کا کم ہونا  جو افراد تعلیم یافتہ ہیں ان کو بھی سفارش اور رشوت کے سہارے لینے پڑتے ہیں اور جن کے پاس سفارش اور رشوت بھی نہ ہوتو پھر نوکریاں ملنا مشکل اس وجہ سے بعض جگہ غربت سے تنگ آکر نوجوان خود کشی بھی کررہے ہیں۔

اور بعض نشے کے عادی بن جاتے ہیں اور اپنی زندگی تباہ وبرباد کردیتے ہیں مگر دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے وزیر مشیر اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں انہیں عام عوام سے کوئی غرض نہیں کون جی رہا ہے کون مر رہا ہے انہیں صرف وقت پر اپنے ووٹ چاہیے ہوتے ہیں ، اس سے زیادہ حکمرانوں کو عوام سے کوئی لگائو ، کوئی غرض نہیں ہوتی  ۔ ہمارے معاشرے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور غربت کا سب سے بڑا طبقہ مزید نچلی سطح عبور کررہا ہے اور یہی حقیقت ہے ، آئے دن سننے میں آتا ہے کہ فلاں جگہ  دو وقت کی روٹی میسر نہ آنے پر ماں اپنے بچوں سمیت خود سوزی کردیتی ہے ، باپ اپنے بیوی بچوں سمیت دریا برد ہوجاتا ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران خواب غفلت میں ڈوبے سب یہ تماشہ ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے یہ کوئی ڈرامہ یا فلم کا سین چل رہا  ہو ، اگر غربت کم کرنے پر سچے دل سے کام کیا جائے اور غریب طبقے کو ہنر مندی سکھا کر روزگار دیا جائے تو بے روزگاری میں آہستہ آہستہ کمی آسکتی ہے ۔ پھرسوالات آتے ہیں کہ غربت کیسے مٹ سکتی ہے ، اگر حکمران منصوبہ سازی سے کام لیں کہ ملک کو غریب سے نہیں غربت سے مٹانا ہے تو کچھ منصوبہ بندی کرنی ہوگی ملک میں تعمیر نو ہو ، بے روزگار اور بغیر گھروں کے ہر کنبہ کو ایک بہترین گھر بناکر دیے جائیں  اور ساتھ ہی ہنر مندی کا کام سکھایا جائے ، مرد و خواتین کو ہنر مند بنایا جائے ، خواتین گھریلو سطح پر کام کرکے اپنی غربت میں کمی لاسکتی ہے  اور ہنر مند افراد کو ایک چھوٹے پیمانے پر روزگار دیا جائے ۔ اسکے علاوہ تعلیم اور علاج مفت دیا جائے ، حکومت اور نجی شعبہ کے ملازمین کے لیے مفت رہائش اور زمیندار طبقہ کو گزارہ لائق اراضی دی جائے،  کاروبار کے لیے لوگوں کو اسان اقساط پر بلا سود قرضے دئیے جائیں، غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ موجودہ معاشی اور سیاسی نظام بھی یکسر تبدیل ہوتے جائیں گے وہ بھی پوری طرح آئین و قانون کے تحت جمہوریت وسیع ترین شکل میں آئے گی جس میں بنیادی فصیلے عوام خود کیا کریں گے،حکمران جب ووٹ مانگنے آتے ہیں توبڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگرجب عوام کے ووٹ سے جیت کر ایوان بالا تک پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے یہی اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو بھول جاتے ہیں اور کام کروانے پر مد ہوش ہوجاتے ہیں اور یہی سچ ہے کہ عوام کو صرف ووٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اقتدار تک پہنچ کر عوام کو بھول جاتے ہیں ۔ امیر کے پڑوس میں بھوک رقص کرتی ہوگی مگر امیر کبھی غریب کے گھر دیکھنا پسند نہیں کرے گا ، کیا ہمارے معاشرے میں صرف گوشت پوست انسان رہ گے ہیں ، انسانیت مر گئی ہے ، ہم اتنے بے حس کیسے ہوگئے ، ہم تو مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان پھر اتنی بے حسی کیوں ہے ، اپنے سوا دوسرا کیوں نظر نہیں آتا ، جاگو اے اہل وطن کے باسیو جاگو ۔ دعا ہے کہ ہمارے ملک سے ایک بار غربت کا خاتمہ ہوجائے اور پھر کوئی بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیاں نہ کرے ۔ اللہ پاک ہمارے ملک سے غربت کو ختم کرنے اور ہمارے مسلمان بہن بھائی بزرگ بچے سکون و راحت کی زندگی بسر کریں اور ان کی آنکھوں میں سجے سب خواب پورے ہوسکیں۔۔آمین

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -