بَس، ”اپنی ذات سے عشق ہے سچا؟؟؟“

بَس، ”اپنی ذات سے عشق ہے سچا؟؟؟“
بَس، ”اپنی ذات سے عشق ہے سچا؟؟؟“

  

تو کیا جینئس اَسرار احمد المعروف اِبنِ صفی کی طرح، اِس زمین و کائنات میں، بالآخر، تھک ہار کے، یہی تسلیم کر لیا جائے کہ اپنی ذات سے عشق ہے سچا، باقی سب افسانے ہیں؟؟؟ یا باقی سب افسانوں میں کچھ ہیں کہ جن میں کچھ حقیقت بھی ہے؟ ؟؟ اچھا! پھر، ایک اپنی ذات کے علاوہ انسان اور کسی سے محبت کرتا ہے، واقعی؟ اِتنی محبت کہ جس کی خاطر بے ساختہ وہ قربان بھی ہو سکتا ہے؟؟؟ایسا کوئی ہے؟ ہاں، ہے تو سہی! ایک تو پھر ماں ہے۔

اور ، دُنیا کی سب ماﺅں پر یہ امتحان آن پڑے کہ یا خود کو بچا لو یا اپنے بچوں کو۔ بولو! پھر تمہیں مار دیا جائے یا تمہارے سارے بچوں کو؟ مگر، ماں سے اِس سوال کو خواہ گھما کر بھی کر لیا جائے کہ تمہارے سب بچوں کو مار دیا جائے یا ایک تمہیں؟؟؟ تو پھر، یہ بھی طے ہے، اُن ماﺅں کی تعداد کم نہیں ہو گی جو اپنے بچوں پرقربان ہو کر بھی اُن کی جان بچا لیں گی۔۔۔ ہاں، یہ پھر کیا ہے؟ اگر ایک اپنی ہی ذات سے عشق، انسانی ساخت کا اُصول ہے۔ تو پھر ماں کی اولاد سے بے پناہ محبت کا معاملہ کیا ہے؟؟؟

ایک اور بھی واقعہ ہے۔ آپ کسی بھی مذہب سے کوئی ایسا بندہ چن لیجئے ،جسے اپنی جان بے حدوحساب پیاری ہو۔ پھر، اُس کے سامنے دو راستے رکھ دیں، یا تو وہ اپنے خدا اور اپنے ہادی کی توہین کرے اور کرتا جائے، اور یا پھر وہ مر جائے۔۔۔ اور، آپ کی دہشت کی بھی حد نہ ہو۔ وہ بندہ جانتا ہو کہ اب اُسے کوئی ایک راہ تو بہرصورت پکڑنی ہے۔ اور، اُس بے کس بندہ کا پورا قبیلہ ، بے بس ہی کھڑا، یہ سارا ماجرا دیکھتا ہو۔۔۔ تو فرض کر لیجئے کہ آپ نے اُس قبیلہ کو فتح کر لیا ہے، اور مفتوح قبیلہ کے سردار کے سامنے مذکورہ دو شرائط رکھ چھوڑی ہیں۔ تو ، اَلمختصر، وہ سردار چُپ چاپ مر جائے گا۔ اِس اَمر کے امکانات پھر کہیں زیادہ ہیں۔۔۔ تو، یہ پھر کیا ہے؟

ٹھیک ہے، یہ بھی مان لیا کہ اِس میں ایک بڑا عنصر اپنے قبیلہ کا خوف ہے۔ یعنی، یہی شرائط آپ مفتوح سردار کے سامنے تنہائی میں رکھیں، تو پھر اُس کا رویہ کچھ اور ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ لیکن، کچھ ہو جائے۔ وہ تو اُس مفتوح سردار کی محض چال ہو گی۔ اپنی جان ایک خبطی وحشی سے بچا لینے کی ایک ترکیب ہی، بس۔ ورنہ اپنے خدا کو زبان سے برا بھلا کہتے ہوئے ، اُس کا دل تو اپنے خدا کی محبت سے اور بھی بھرتا جاتا ہو گا۔۔۔ ہاں، پھر خدا سے عشق بھی تو اَرب ہا انسانوں کو ہے، اور شدت سے ہے۔۔۔

ایک اور عشق ہے، جس کی شدت وحِدت اپنی جگہ کمال ہے گویا۔ نر ، مادہ کا عشق! یہ دُنیا بہرحال عشاقِ کرام سے خالی بھی کبھی نہیں۔ اور سچے عشق میں مبتلا نر مادہ ایک دوسرے کی خاطر بخوشی قربان تک ہو سکتے ہیں، بالخصوص نوجوانی میں۔۔۔بہرطور یہ تمام اَمور اِتنا تو سمجھا دیتے ہیں کہ انسان وہ عظیم جاندار ہے جو اپنی اولاد، اپنے محبوب اور اپنے نظریہِ حیات سے عشق میں حتیٰ کہ خود کو بھی یکسر نظرانداز کر سکتا ہے۔پھر، یہ عشق ، اِس کائنات میں انسان کی تمام رِفعت وعظمت کا ایک بڑا باعث ہے۔ عشق انسان کی ذات کو وسعت و عمق عطا کرتا ہے۔ ۔۔

سونے پر سہاگہ، ایک اور عشق ہے جو غالباً سب سے سچا ہے۔ انسان کا اپنی نوع سے عشق۔ اور ہر فرد پر یہ امتحان آ جائے کہ چاہے تو ایک خود کو بچالے یا کُل نسلِ انسانی کو بچا لے؟ اور سامنے دو ہی بٹن ہوں۔ سرخ بٹن دبایا جائے تو زمین وخلا میں موجود ہر ہر انسان ہلاک ہو جائے۔ اور صرف بٹن دبانے والا بچ جائے، اکیلا، عمر بھر، تمام تنہا۔ اور یا پھر نیلا بٹن دبادیا جائے کہ جس کے دبتے ہی ، دبانے والا مر جائے۔ باقی سب نسلِ انسانی بچ جائے۔۔۔ تو پھر اُن دیوانوں کی کمی بھی کہاں ہو گی، آ جا کر، جو نیلگوں بٹن ہی دباچھوڑیں گے۔ اور اگر امتحان میں یہ شِق بھی شامل کر دی جائے کہ نیلا بٹن دبانے پر باقی بچ رہنے والی تمام نسلِ انسانی کو اِس عظیم قربانی کی مکمل اور مفصل خبر بھی فراہم کر دی جائے گی، پھر دیوانوں کی صَف میں کتنے ہی فرزانے بھی تو آ کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر، یہ پھر کیا ہے؟؟؟ اگر ایک اپنی ہی ذات سے عشق سچا ہے، باقی سب افسانے ہیں ، تو پھر صرف اور صرف لال بٹن ہی دبنا چاہئے نا! نیلے بٹن کو تو کسی کو دیکھنا تک نہیں چاہئے۔ مگر، ایسا تو ہر گز نہیں۔ ہاں، انسان سب سے زیادہ عشق انسانوں ہی سے کرتا ہے۔۔۔ ہر جاندار ہی سب سے زیادہ محبت اپنی ہی نوع سے کرتا ہے۔ ۔۔ یہ حیات کا سادہ اُصول ہے!

خیر، خود پرستی ہی واحد حقیقت نہیں۔ پھر، اپنے بچوں کی خاطر قربان ہو جانے والی ماﺅں کی تعداد کہیں زیادہ ہو جاتی ہے اگر اُس امتحان میں تمام جانداروں کی ماﺅں کو بھی رکھ لیا جائے۔۔۔ گو باقی جانداروں میں ماں کی اپنے بچوں سے محبت کے علاوہ اور کسی عشق کا عنصر کم ہی نظر آتا ہے۔ مگر، انسان!!! انسان تو ماں بھی ہے۔ اور محب بھی۔ اور، فنا فی الرب ہو جانے والا بھی۔ اور پھر اپنے کاز کو اپنی ذات سے کہیں بڑا جاننے والا جینئس بھی۔۔۔ پھر، لاریب، جس میں کسی کی خاطر قربان ہو جانے کا اِمکان بھی خوب موجود ہو، اُس پر خودپرستی کی تہمت مگر اُس کی ذات کا سو فیصد صحیح تجزیہ کہاں ہے! قصہ مختصر، انسان بہت گہرا ہے۔

پھر، خود زندگی کی گہرائیاں تو اور بھی کہیں سِوا ہیں۔۔۔ گویا ہمیں ابھی، اور بہت کچھ ہی جاننا ، سمجھنا ہے، حیات بارے، خود اپنے بارے۔ابھی ، خاص اپنے متعلق، کسی بڑی مایوسی کی کوئی حتمی جا نہیں۔ ہاں، یہ طے ہے!

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ، لکھاری سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔(benaamzaurez@gmail.com)

مزید : بلاگ