پیغام  قرآن امت مسلمہ

  پیغام  قرآن امت مسلمہ
  پیغام  قرآن امت مسلمہ

  

جیسا کہ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ  قرآن مجید کے ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں،اس میں شبہ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔یعنی اگر  الف  پڑھا تو دس نیکیاں مل جاتی ہیں ، لام کے بدلے بھی دس نیکیاں اور میم کے بدلے بھی دس نیکیاں تو ایک لفظ  "الم" میں تیس نیکیاں  حاصل ہو جاتی ہیں ۔اتنی عظیم کتاب کو سیکھنے اور سکھانے سے بڑا کام دنیا میں اور کوئی نہیں در حقیقت مسلمانوں کی غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ جو کتاب انہیں دنیا پہ حکمرانی کے اصول سکھانے آئی،حکمت کے خزانے ساتھ لائی،جو کتاب مسلمانوں کو ماڈرن سائنس سے متعارف کرانے آئی  ،جس کتاب کے پڑھنے سے عالم ارواح کا پتہ چلتا ہو ،جس کتاب کو پڑھنے سے عالم فانی کا پتہ چلتا ہو،جس کتاب کو پڑھنے سے عالم برزخ کا پتہ چلتا ہو ،جس کتاب کو پڑھنے سے عالم آخرت کا پتہ چلتا ہو ،جس کتاب کو پڑھنے سے عالم دوزخ کا پتہ چلتا ہو ،جس کتاب کو پڑھنے سےعالم جنت کا پتہ چلتا ہو،جس کتاب کو پڑھنے سےعالم جن،انس کا پتہ چلتا ہو،جس کتاب کو پڑھنے سےعالم  ملائکہ کا پتہ چلتا ہو الغرض دنیا جہاں اور آخرت کے تمام علوم کا پتہ قر آن مجید کو پڑ ھنے سے پتہ چلتا ہے لیکن پیارے دوستو! افسوس صد افسوس ہم قرآن مجید کی  صرف اس  وجہ سے تلاوت کرتے ہیں کہ  ہماری بخشش ہو جائے  اور ہمارے والدین کی بخشش ہو جائے، ہمارے عزیز و اقارب کی بخشش ہو جائے اس میں  کوئی شک نہیں کہ بخشش کے لیےحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور  قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی عظیم نسخہ ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن  ہم نا صرف قرآن مجید کو اس وجہ سے پڑھیں کہ ہم بخشے جائیں بلکہ قرآن مجید کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہت بہتر کر سکتے ہیں۔قرآن مجید کے ذریعے ہم اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر سکتے ہیں۔

بقول اقبال

 وہ معزز ہوئے زمانے میں مسلماں ہوکر

 اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو    کر

اوائل دور کے مسلمانوں میں جذبہ تھا  ،جنون تھا انہوں نے اپنا تن ،من،دھن سب اللہ کے دین پہ وار دیا اور وہ کامیاب ہوئے  مگر افسوس کہ آج کے مسلمانوں نے ذاتی خواہشات کو مقدم رکھا اور جہاں قرآن کے احکام ہیں کہ مظلوم کی مدد کرو  وہ تمام مسلمان بھولے بیٹھے ہیں آج برما میں ہزاروں مسلمانوں کو بے گھر کر دیا گیاہے اور بچیوں کی آبرو ریزی کی جارہی ہے  ساٹھ اسلامی ممالک ہیں سب کی زبانوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں،کیونکہ ان میں کوئی صلاح الدین ایوبی کی طرح قرآن پڑھنے والا نہیں ہے ،ان میں کوئی محمد بن قاسم کی طرح قرآن پڑھنے والا نہیں ہے،ان میں کوئی محمود غزنوی  کی طرح قرآن پڑھنے والا نہیں ہے،ان میں کوئی ٹیپو سلطان کی طرح قرآن پڑھنے والا نہیں ہے۔اگر آج کے دور میں  ہم میں سے  کوئی اس طرح قرآن کریم کا مطالعہ کرتا جس طرح جوان بہادروں نے کیا تو آج برما  ،فلسطین اورکشمیر کے لوگ بے یارو مددگار نہ ہوتے۔

آج  مسلمانوں کی کثرت ہے ، لیکن برما  پر  ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کر رہا اگر اس پر کسی نے آواز بلند نہ کی تو ان مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں گی سوائے ترکی کے کسی اور اسلامی ملک نے انہیں سہارا دینے کی کوشش نہیں کی ،برما میں بدھ مت کے پیروکاروں نے 2600  مسلمانوں کی بستیاں انسانوں سمیت جلا ڈالی ہیں اب کو ئی اللہ کا شیر آئے اور انہیں ظلم سے نجات دلائے  اگر قرآن مجید پڑھ کر قلبی سکون میسر نہیں  تو کوئی فائدہ نہیں،اگر قرآن مجید پڑھ کرآخرت کی فکر نہیں  ہوتی  تو کوئی فائدہ نہیں،اور جسے اللہ اور قیامت پر ایمان ہوتا ہے وہ جان کی پروا کیے بغیر  مظلومین کی آواز بنتا ہے ،اگر قرآن مجید پڑھ کرظالم سے نفرت پیدا نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں،اگر قرآن مجید پڑھ کر دل میں خوف خدا پیدا نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں،اگر قرآن مجید پڑھ کر مظلوم کا ساتھ دینے کا جذبہ پیدا نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں،قرآن مجید کو ہم اس لیے ہی نہ پڑھا کریں کہ اس سے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی بلکہ ،غرباء کی مدد کرنے کے لیے بھی قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کریں  اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -