اعلیٰ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں

اعلیٰ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں

سپریم کورٹ کے جج، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جھوٹی گواہیوں کی وجہ سے ملزم آسانی سے چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ پکڑے جاتے ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھا جاتا اور عدالتوں پر الزام تراشی شروع کر دی جاتی ہے۔ گواہوں کا حال یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر جھوٹی گواہی دے دی جاتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ ریمارکس قتل کے ایک کیس میں ملزم کی بریت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔

جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں جو کچھ ارشاد فرمایا وہ بدیہی حقیقت ہے عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں اور بسااوقات ججوں کو بھی اپنی قانونی بصیرت کی بنیاد پر معلوم ہو جاتا ہے کہ عدالت میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ مروجہ قانونی طریق کار کے مطابق عدالتیں شہادتوں پر انحصار کرکے فیصلے کرتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹی گواہیاں روکنے کے لئے کوئی طریق کار اختیار کیا گیا ہے؟ یہ بظاہر مقننہ کا کام ہے کہ وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مقننہ کے ارکان کو معاشرے کو درپیش مسائل کے حل سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کی رقوم سے دلچسپی ہوتی ہے اور آئے روز ایسی شکایات منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ فلاں رکن کو ترقیاتی فنڈز نہیں ملے یا فلاں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، حالانکہ شہروں، قصبات اور دیہات کی ترقی بنیادی طور پر بلدیاتی اداروں کا کام ہے لیکن ہمارے ہاں ان اداروں کے انتخابات ہی وقت پر نہیں ہوتے۔ گزشتہ چھ ماہ سے بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک ان اداروں نے کام شروع نہیں کیا اور صوبائی حکومتیں اپنے ارکان اسمبلی کے ذریعے ہی ترقیاتی منصوبے مکمل کر رہی ہیں۔ حکومت کے بہت سے ادارے موجود ہیں جو سیاسی محرکات میں زیادہ الجھے رہتے ہیں، جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی گواہیوں کے جس سلسلے کا ذکر کیا ہے، اسے ختم کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی کوشش بظاہر نظر نہیں آتی بلکہ شاید اسے معاشرے کے چلن کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔ وکلاء بھی اپنے مؤکلین کا مقدمہ قانونی بنیادوں پر لڑنے کی بجائے انہیں ایسے گر بتاتے ہیں، جن میں جھوٹ بول کر عدالت کو گمراہ کیا جاسکے اور اپنے حق میں فیصلہ لیا جاسکے۔ متعلقہ اداروں کو اس جانب توجہ دینی چاہیئے اور اگر ممکن ہو تو اعلیٰ عدالتوں کو بھی کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا چاہئے جس پر چل کر اگر عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں ختم نہیں تو کم کی جاسکیں۔ محض نشاندہی سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مزید : اداریہ