الپوری‘ تندور سیل کرنے کے بعد مالکان سراپا احتجاج

        الپوری‘ تندور سیل کرنے کے بعد مالکان سراپا احتجاج

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ کے صدر مقام الپوری میں اسسٹنٹ کمشنر کی تندور سیل کرنے کے بعد تندوروں کا احتجاج تندور بند بیشتر ہوٹلز کو روٹیوں کی سپلائی معطل مسافروں اور علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژنل مجسٹریٹ واجد علی کا عوامی شکایات پر شانگلہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری میں بازار کے چیکنگ کے دوران تندوروں میں روٹی کی کم وزن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں الپوری بازار میں دو تندوروں کو سیل کیا گیا جبکہ دیگر کو وارننگ جاری کردی گئی۔تندوریں سیل کرنے پر تندور مالکان نے انتظامیہ کی کاروائی کو بے جا قرار دیتے ہوئے احتجاج پر اتر آئے اور اپنے تندوریں بند کردیئے جس کے نتیجے میں عوام،مسافروں اور علاقہ مکینوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوٹلوں اور کیفیوں میں روٹی نایاب ہوگئی متعدد ہوٹلز،ریسٹورنٹ اور کیفیوں والوں نے دیگر بازاروں سے روٹیاں منگوائی اور مہنگے داموں فروخت کرتے رہے شانگلہ میں اکثر انتظامیہ افیسران کاروائی کرکے عوام کو مشکلات میں ڈال لیتے ہیں اور ان افیسران کے پاس انجمن تاجران اور متعلقہ بازاروں کی مشران کی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔نانبائیوں کا کہنا تھا کہ مقامی فلور ملوں سے فائن آٹا صیح نہیں مل رہا اور پنجاب کا ا ٹا مہنگا ہے تو پھر کیسے مہنگا اٹا خرید کر سستی روٹی کیسے دیں،ہم مزدوری کرتے ہیں انتظامیہ کاروائی کرنے سے پہلے انجمن تاجران سے مذاکرات ضرور کریں اور ان کا بھی موقف سنے آج کی مہنگائی کے اس دور میں سوختہ لکڑی کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے تندور والوں کو اکثر اوقات نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔دریں اثناء انجمن تاجران اور تندور مالکان نے اسسٹنٹ کمشنر سے مذاکرت کرتے ہوئے روٹی کا وزن کم کرکے 120 گرام کردیا جس کے بعد تندور والوں نے احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب بھی تندور مالکان 90 اور 100 گرام روٹیاں فروخت کرے گی مستقل بنیادوں پر گراں فروشوں کے خلاف اقدامات ہونے چاہیئے۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -