’مذہب کے ذریعے ہمیں مردوں کی جنسی خواہشات پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ انکار کیا تو ہم سیدھی جہنم میں جائیں گی‘

’مذہب کے ذریعے ہمیں مردوں کی جنسی خواہشات پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا ...
’مذہب کے ذریعے ہمیں مردوں کی جنسی خواہشات پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ انکار کیا تو ہم سیدھی جہنم میں جائیں گی‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ میں نیوائیل کوپر نامی اس شخص کی گزشتہ روز موت واقع ہو گئی ہے جس نے ایک ایسے شرمناک مسیحی فرقے کی بنیاد رکھی تھی کہ تفصیلات جان کر ہر کوئی شرم سے لال ہو جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق نیوائیل کوپر آسٹریلوی شہری تھا جو اپنی اہلیہ گلوریا کے ہمراہ نیوزی لینڈ منتقل ہوا اور 1996ءمیں ”گلوریاویل کرسچین کمیونٹی“ نامی فرقے کی بنیاد رکھی، اس کے بعد اس کے پیروکاروں نے اسے ’ہوپ فُل کرسچین‘کا لقب دے دیا اور یہ اس نام سے پکارا جانے لگا۔ اس فرقے میں خواتین کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور گھروں میں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور رکھا جاتا تھا۔یہ فرقہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے اور نیوزی لینڈ کے ساﺅتھ آئی لینڈ کا مغربی ساحل اس کا گڑھ ہے۔

نیوائیل کوپر پر کئی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور ان کے جسم میں لکڑی اور دیگر چیزیں داخل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جو ثابت ہونے پر اسے 1995ءمیں 11ماہ جیل میں بھی گزارنے پڑے۔ اس پر الزام عائد کرنے والی خواتین میں سے ایک کا نام یوویٹ اولسن تھا، جس نے عدالت میں بتایا کہ ”میری عمر 19سال کی تھی جب مجھے اس شخص نے تین بار زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ مجھے ’طوائف‘ کہہ کر بلاتا تھا کیونکہ مجھے16سال کی عمر میں ایک 14سالہ لڑکے کے ساتھ محبت ہو گئی تھی اور ہم اکثر ملتے بھی تھے۔“

اولسن نے گلوریاویل فرقے کی قلعی کھولتے ہوئے بتایا کہ ”اس فرقے میں خواتین کو کوئی حیثیت نہیں دی جاتی، انہیں مرد کی کنیز سمجھا جاتا ہے اور مردوں کو ان کے ساتھ کیسا بھی برا سلوک کرنے کی اجازت ہوتی ہے، حتیٰ کہ جنسی زیادتی کی بھی۔“رپورٹ کے مطابق نیوائیل کوپر کا انتقال 90سال کی عمر میں ہوا۔ نیوائیل کی 26سالہ پوتی للیا تراوا نے اسی فرقے میں جنم لیا لیکن جوان ہونے پر وہ فرار ہو گئی اور اب فرقے کے باہر آزادانہ زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ ”میرے دادا کے اس فرقے میں خواتین کی حیثیت ایک جنسی غلام کی سی ہوتی ہے۔وہاں خواتین کو مذہب کے ذریعے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انہیں خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلق سے انکار کریں گی تو سیدھی جہنم میں جائیں گی۔ جب مجھے سکول سے بہترین قائدانہ صلاحیتوں کی حامل طالبہ کا سرٹیفکیٹ ملا تو اس پر وہ بہت برہم ہو گئے اور میرا تمسخر اڑایا اور کہا کہ قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والی لڑکی اس فرقے میں نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ مجھے بھی کسی مرد کی باندی بن کر ایک گھر میں مقید رہنا ہو گا اور اپنے شوہر کا ہر حکم ماننا ہو گا۔ میں فرقے کی دیگر خواتین کی انتہائی تکلیف دہ زندگیاں بچپن سے دیکھتی آ رہی تھی لہٰذا میں نے وہاں سے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی