شمالی کوریا کی دھمکیوں کے تناظر میں امنِ عالم

شمالی کوریا کی دھمکیوں کے تناظر میں امنِ عالم

شمالی کوریا نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ بحیرۂ شمالی چین میں پیش قدمی سے باز نہ آیا تو شمالی کوریا اس پر ’’جوابی ایٹمی حملہ‘‘ کر دے گا۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ایسا میزائل بنا لیا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کو خدشہ ہے کہ شمالی کوریا اِس وقت یا تو ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے یا پھر اتنی صلاحیت ضرور حاصل کر چکا ہے کہ کسی بھی وقت ایٹمی ہتھیار بنا سکے۔ شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ کی105ویں سالگرہ کے موقع پر شمالی کوریا نے اپنی مرعوب کن فوجی قوت کے جو مظاہرے کئے ان میں پہلی بار ’’پوکک سونگ‘‘ بیلسٹک میزائل دُنیا کے سامنے پیش کیا گیا جسے آبدوز سے لانچ کیا جاتا ہے اور جو ایک ہزار کلو میٹر دور اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اِس فوجی پریڈ میں نئی قسم کے دو اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بھی لانچروں پر دکھائی دیئے،لیکن یہ معلوم نہیں کہ اُنہیں آزمائشی طور پر فائر کیا جا چکا ہے یا نہیں، جنوبی کوریا نے کہا کہ شمالی کوریا کی فوجی پریڈ میں جن میزائلوں کی نمائش کی گئی ہے ان میں بین البراعظمی میزائل(آئی سی بی ایم) کی نئی قسم بھی شامل ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے امریکہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے، جب امریکہ نے اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ جزیرہ نما کوریا کی طرف روانہ کر دیا ہے۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تنازعہ، کوریا کی جنگ کے وقت سے چلا آ رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا امریکہ کا حلیف ہے اور وہاں سرمایہ دارانہ نظام کی ’’برکتوں‘‘ کی وجہ سے خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جنوبی کوریا نے حیران کن معاشی ترقی کی ہے اور تیزی کے ساتھ خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہوا ہے۔ اس کے برعکس شمالی کوریا کا سارا زور فوجی قوت کے حصول پر ہے اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے، نتیجے کے طور پر امریکہ اُسے اِس راستے پر بگٹٹ دوڑتے چلے جانے سے روکنے کی پالیسی پر گامزن ہے،لیکن ابھی تک اُسے اِس سلسلے میں زیادہ کامیابی نہیں ملی، شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی وجہ سے اِردگرد کے دوسرے خوشحال مُلک جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان، ہانگ کانگ وغیرہ بھی اس سے خائف رہتے ہیں، چین نہ صرف خطے کی بڑی اقتصادی قوت ہے،بلکہ عالمی طاقت بننے کے راستے پر بھی تیزی سے گامزن ہے، چین واحد قوت ہے جسے شمالی کوریا سے کوئی خوف نہیں، بلکہ شمالی کوریا کے دُنیا میں جو بہت کم دوست ممالک ہیں اُن میں چین بھی شامل ہے، اِسی لئے امریکہ چاہتا ہے کہ چین شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے، چین اِس سلسلے میں روس کو اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کے لئے کہتا رہتا ہے۔

شمالی کوریا اگر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو اسی طرح آگے بڑھاتا رہا تو علاقے کے جاپان جیسے خوشحال ممالک اپنی آگے بڑھتی ہوئی معیشت کی حفاظت کے لئے کوئی پالیسی بنانے پر مجبور ہوں گے،جاپان دُنیا کا واحد مُلک ہے جو دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کے ایٹمی حملے کا شکار بن چکا ہے اور دو جاپانی شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر امریکہ نے جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا، اس کے نتیجے میں جاپان پر ایسی پابندیاں لگ گئیں کہ جاپان اپنی فوجی قوت سے مُنہ موڑ کر اقتصادی میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے لگا، اِس وقت جاپان دُنیا کی بڑی اقتصادی قوت ہے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہے، جاپانی ہائی ٹیک مصنوعات دُنیا کی منڈی میں چھائی ہوئی ہیں یہ سب اِس لئے ممکن ہو سکا، کیونکہ جاپان کے دفاع کی ذمے داری اُس امریکہ نے سنبھال رکھی تھی، جس نے اس پر دُنیا کا واحد ایٹمی حملہ کیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد دُنیا میں طاقت کا کھیل اب بدل رہا ہے، اب جاپان کی بھی خواہش ہے کہ وہ اپنی خوشحالی کی حفاظت بھی اپنی فوجی قوت کے ذریعے خود کرے اور اِس ضمن میں دوسروں کا دستِ نگر نہ ہو۔ جنوبی کوریا اپنے دفاع کے لئے امریکہ پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، شمالی کوریا اگر امریکہ کو ’’ایٹمی حملے‘‘ کی دھمکیاں دیتا ہے تو اِس سے اُس کے پڑوس میں واقع جنوبی کوریا پر بھی خوف اور دہشت طاری ہوتی ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کا مقصد بھی امریکہ سے زیادہ اپنے اُن پڑوسیوں کو ڈرانا ہے،جنہوں نے اِس تمام عرصے میں اپنے عوام کو خوشحالی کا راستہ دکھایا ہے،جبکہ شمالی کوریا کے عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور مُلک پر ایک خاندان کی آمریت نے اُن پر ہر قسم کی بنیادی سہولتوں کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور صرف فوجی قوت بڑھاتے چلے جانے کے راستے پرگامزن ہے۔

شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دُنیا کے لئے مشکلات میں اضافہ کر دے گی، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔ ابھی حال ہی میں چینی صدر شی چن پنگ نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اُنہیں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا، چین دُنیا بھر میں امن کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس کی ساری توجہ اقتصادی قوت میں اضافے پر ہے۔اگرچہ وہ دُنیا کے کسی بھی مُلک کے ساتھ محاذ آرائی سے گریزکے راستے پر گامزن ہے، یہاں تک بھارت کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو بھول کر بھارت میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، چین کی قیادت کا وژن یہ ہے کہ اگر اُس نے تنازعات میں الجھنے کی پالیسی اختیار کر لی تو اقتصادی ترقی سے اس کی توجہ ہٹ جائے گی۔حال ہی میں چین نے برطانیہ تک ایک فریٹ ٹرین سروس شروع کی ہے جو پندرہ دن میں روس اور کئی یورپی ممالک میں سے گزر کر برطانیہ پہنچتی ہے، اس فریٹ سروس کے ذریعے جانے والا تجارتی سامان ہوائی فریٹ کی نسبت بہت سستا پڑتا ہے اور سمندری جہازوں کی نسبت بہت تیز رفتار ہے اور جلد منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے، اس دو طرفہ تجارت کا فائدہ برطانیہ کو بھی پہنچے گا، کیونکہ برطانیہ اب یورپی یونین سے نکل رہا ہے اور یورپ کی نسبت چین کے ساتھ تجارت پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ اِن سب سرگرمیوں کے لئے امن بنیادی شرط ہے اِس لئے چین نہ صرف خطے، بلکہ دُنیا بھر میں امن کا داعی ہے۔

اِس وقت مشرقِ وسطیٰ جل رہا ہے، افغانستان میں امریکہ نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اب تک دُنیا کا سب سے بڑا بم افغانستان پر پھینکا ہے، جسے ’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بم گرا کر امریکہ نے بالواسطہ طور پر اُن ممالک کو پیغام بھیجا ہے جو اس کے ساتھ تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کیا اس بم کا مقصد شمالی کوریا کو بھی کوئی پیغام دینا تھا، جو جنوبی کوریا میں امریکی اڈوں کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے اور براہِ راست امریکی شہروں پر ایٹمی حملے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے۔ اِن حالات میں دُنیا کا خرمن امن خطرے میں ہے اور اسے بچانے کے لئے روس اور چین جیسے ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ شمالی کوریا پر ایٹمی تجربات کا جو بھوت سوار ہے اِس کا صرف اُسے نہیں، بلکہ پورے خطے کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مزید : اداریہ