ڈاکٹر مختار عزمی کی ’’کتابِ دل‘‘!

ڈاکٹر مختار عزمی کی ’’کتابِ دل‘‘!
ڈاکٹر مختار عزمی کی ’’کتابِ دل‘‘!

  


ڈاکٹر مختار عزمی کتاب کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں، وہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ کتاب میں شامل سادہ ورق بھی کس قدر و قیمت کا حامل ہوتا ہے۔ تبھی تو انہیں میری ایک بہت پرانی غزل کا یہ مطلع ازبر ہے:

مثالِ سادہ وَرق تھا، مگر کتاب میں تھا

وہ دن بھی تھے، مَیں تِرے عشق کے نصاب میں تھا

ڈاکٹر مختار عزمی کو ہم مُدّتِ مدید سے ایک اہلِ قلم، مُعلّم، محقق، نقاّد اور خوشگوار دانشور کے طور پر جانتے پہنچانتے ہیں۔ ان کی عطا کردہ کتب میں ’’پہچان کے زاویے‘‘ ان کے تنقیدی و تحقیقی شعور کو واضح کرنے کے لئے کافی و شافی ہے۔ اس پہ مستزاد ’’سلیم احمد۔ شخصیت اور فن‘‘ ان کا ایم فل کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو کتابی صورت میں اکادمی ادبیاتِ پاکستان اسلام آباد نے ’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے سلسلہِ اشاعت کے تحت شائع کیا۔ ’’مشرق و مغرب کے تحقیقی اصول‘‘ زیرِ طبع کتاب ہے جس کی افادیت کتاب کے عنوان سے ہی ظاہر ہے۔ نصابی کتاب ’’گلزار اردو‘‘ اور ایک انگریزی زبان کی کتاب بھی ان کے شجرۂ قلم کا حصہ ہے۔

ان سب سے قطعِ نظر اس وقت میرے ہاتھ میں ان کا اولین شعری مجموعہ ’’کتابِ دل‘‘ کے عنوان سے توجہ کا طالب ہے، جس کے ذریعے اقلیم سخن میں ان کی آمد آمد ہے اور کس آن بان سے کہ’’ نیا سفر ہے پرانے چراغ گُل کر دو‘۔ اس مجموعے میں بلاشبہ انہوں نے کچھ باتیں اپنے انداز میں اپنے اسلوبِ سخن میں کہنے کی کوشش کی ہے اور نثر کے مفتوحہ میدان سے ہٹ کر شاعری کے میدان میں بھی اترنے کے لئے لنگرلنگوٹ کسا ہے۔ پذیرائی یا عدم توجہی قارئین کے ہاتھ ہے۔

ہاتھوں کی بات یونہی نہیں کر رہا ہوں مَیں

یہ ہاتھ وہ ہیں جو ہیں کسی دل رُبا کے ہاتھ

ناصِر زیدی

سچی بات ہے ہم تو ڈاکٹر مختار عزمی کی صلح کُل، دھیمی اور دل رُبا شخصیت کے اسیر ہیں۔ ایک بھلے مانس، شریف النفس، پڑھے لکھے شاعر کو محققینِ ادب ڈاکٹر وحید قریشی، مشفق خواجہ، ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر گوہر نوشاہی اور ڈاکٹر تحسین فراقی کی قبیل کے شعراء میں ڈاکٹر مختار عزمی کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیئے خوش آمدید کہتا ہوں، مگر یہاں برسبیلِ تذکرہ، یونہی بلاوجہ بِلا مشابہت و مماثلت ایک واقعہ قارئین کے تفننِ طبع کے لئے درج کرتا چلوں!

اپنے عہد کے مشہور و مقبول ناول نگار، میاں ایم اسلم حضرت علامہ اقبالؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ’’میری شعری و نثری دو تخلیقات سُن کر مشورہ دیجئے، میں شاعری جاری رکھوں یا نثر لکھا کروں‘‘۔ میاں ایم اسلم سے محض غزل سن کر نثری کاوش پڑھے سنے بغیر علامہ نے مشورہ دیا کہ ’’آپ نثر ہی لکھا کریں‘‘۔۔۔ مَیں ڈاکٹر مختار عزمی کی ’’نثر و نظم‘‘ دونوں سے واقف ہو گیا ہوں تو کوئی ایک صنف چھوڑنے کا نہیں کہہ سکتا۔ یوں بھی مَیں علامہ نہیں کہ کہوں ’’آپ نثر ہی لکھا کریں‘‘۔۔۔ ڈاکٹر مختار عزمی ایک وضعدار شخص و شاعر ہیں۔ انہوں نے عزمی تخلص اختیار کرکے اپنے استادِ محترم عبدالخالق عزمی مرحوم سے تعلقِ خاطر کی یاد کو برقرار رکھا ہے۔ بلاشبہ:

نامِ نیکِ رفتگاں ضائع مکن

تابہ ماند نامِ نیکت برقرار

پروفیسر ڈاکٹر مختار عزمی، منہاج یونیورسٹی لاہور میں صدر شعبہ ء اردو ہیں۔ یونیورسٹی میگزین کے بھی نگران ہیں، ادبی مباحثے، مذاکرے، مشاعرے، سیمینار وغیرہ بھی منعقد کراتے رہتے ہیں۔ یوں ایک اچھے منتظم و مہتمم اور میزبان بھی ہیں، ہمیں ان کی میزبانی میں لذتِ کام و دہن سے مستفیض ہونے کا موقع ملا ہے، ان کی ادب دوستی اور ادیبوں، شاعروں کی عملی دل جوئی بھی ان کی دلبرشخصیت کا گہنا ہے۔ شاعری کے نمونے ’’کتاب دل‘‘ سے زیادہ نقل نہیں کر رہا۔ ایک نظم ’’لکّی سَیون‘‘ اچانک سامنے آ گئی ہے:

تیرا میرا لکّی نمبر سات

رات دنوں کا چکر ایسا

آئے کبھی نہ رات

جو ہو شب برات

سات کے ہندسے کے حوالے سے یہ ایک نظم ہی بڑی اہم ہے کہ اس لکّی نمبریعنی 7کے ہندسے کے کرشمے 43کی تعداد میں گنوائے جا سکتے ہیں:

1۔ دُبِ اکبر یا بِنات النعش: نظامِ کائنات چلانے والے سات ستارے۔

2۔سات براعظم: ایشیا، یورپ، افریقہ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، آسٹریلیا، انٹارکٹیکا۔

3۔سات آسمان: سبع سٰموات۔

4۔سات سمندر / دریا: بحرِ اوقیانوس، بحرالکاہل، بحرِ ہند، بحرِ روم، بحرِ قلزم، بحرِ منجمد شمالی، بحرِ منجمد جنوبی۔

5۔ہفتے کے سات دن: اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ، ہفتہ۔

6۔سات عجائباتِ عالم (قدیم): بابل کے معلق باغات۔

7۔زمین کے سات طبق۔

8۔موسیقی کے سات سُر: سا، رے، گا، ما، پادھا، نیسا۔

9۔سات جنم بمطابق ہندی آواگون۔

10۔سات گناہ: تکبر، غصہ، حسد ، فریب، پیٹوپن۔

11۔سات دھاتیں: ہفت جوش

12۔سات مجلہِ نور: (آنکھ کے سات پردے)

13۔سات سہاگنیں

14۔سات پھیرے۔ ہندی رسم و رواج کے مطابق۔

15۔سات اعضائے جسمانی: دل، دماغ، جگر، تلی، پھیپھڑا،پتہ، گردے۔

16۔ہفت پہلو: کسی بات کے سات پہلو یعنی غیرواضح بات۔(ہفت گانہ)

17۔سات کہانیاں۔

18۔قوس و قزح کے سات رنگ: VIBGYOR بنفشی، آسمانی، نیلا، سبز ،پیلا، نارنجی، سرخ

19۔مصوری کے سات عناصر: خط، سمت، شکل، جسامت، بناوٹ، قدر رنگ

20۔سات اقلیم: سات دنیائیں

21۔ہفت ایوان: وہ رنگ برنگ کے کھانے جو حضرت عیسیٰ ؑ کے لئے اُترے۔

22۔ہفت خوانِ ستم

23۔سات ظاہری و باطنی خواص

24۔جانوروں کی سات اقسام

25۔تخلیقِ کائنات کا عرصہ سات دن

26۔اصحابِ کہف۔

27۔اعضائے سجدہ، سات، پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پنجے۔

28۔دوزخ کے سات درجے۔

29۔ ہفت چشمہ ء بہشت: جنت کی سات نہریں۔

30۔قرآن مجید کی سات منازل۔

31۔قرآن مجید کی سات قرات۔

32۔قرآنِ مجید کے سات مفاہیم۔

33۔رمی الجمارات۔

34۔عہدِ یوسفی میں قحط کے سات سال۔

35۔عہدِ یوسفی میں شادابی و خوشحالی کے سات سال۔

36۔ہفت قرآں درمیاں (محاورہ) جس کا مفہوم ہے اللہ سات بلاؤں سے محفوظ رکھے!

37۔قیدِ یوسفی۔ سات سال۔

38۔اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسمائے حسنیٰ کی تعداد 99 اور حضور اکرمؐ کے اسم مبارک کے اعداد 92کا فرق:

39۔قومِ عاد پر تباہ کن آندھی لگاتار سات دن۔

40۔خانہ کعبہ کے گرد طواف۔ سات چکر

41۔صفا اور مروا کے درمیان سعی 7مرتبہ

42۔بادشاہِ مصر نے خواب دیکھا تھاکہ 7موٹی گائیں، سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔

43۔گندم کے خوشے میں سات بالیاں ہوتی ہیں۔

7نمبر کی 43کرشماتی باتوں کے بعد چوالیسواں نکتہ میری طرف سے یہ ہے کہ کھل جا سم سم کہہ کے ’’کتابِ دل‘‘ کو کہیں سے بھی کھولئے، کچھ نہ کچھ ضرور ملے، پڑھیئے اور سر دھنیے:

کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جاایں جاست!

مزید : رائے /کالم


loading...