سینٹرل جیل ہری پور میں ڈاکٹر قیدی کی موجودگی کا انکشاف

سینٹرل جیل ہری پور میں ڈاکٹر قیدی کی موجودگی کا انکشاف

پشاور(نیوزرپورٹر)سینٹرل جیل ہری پورمیں ایک ایسے قیدی ڈاکٹر کی موجودگی کاانکشاف ہواہے جس کی سزائے موت تو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے تاہم گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے وہ اپنی رہائی کامنتظرہے اوراس کے اہل خانہ اس کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں تاہم جیل انتظامیہ نے کاغذی کارروائی کے نام پرڈیڑھ ماہ کاعرصہ گذاردیاہے قیدی کے اہل خانہ جیل اورعدالت کے مابین چکرلگالگاکرعاجزآچکے ہیں تاہم ایک اعلی تعلیم یافتہ قیدی کی عدالت سے بریت کے باوجود رہائی ایک بہت بڑے مسئلے کی صورت اختیارکرگئی ہے نوشہرہ کے رہائشی ڈاکٹرسجاداحمد جو ملازمت کے سلسلے میں اسلام آباد میں مقیم تھے اوران پر اگست2002ء میں تھانہ آئی نائن کی حدود میں جنیدنامی شخص کے قتل کی دعویداری کی گئی اورایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے اسے سزائے موت اورایک لاکھ روپے جرمانہ کاحکم سنایا ہائی کورٹ سے اپیل خارج ہونے پر سپریم کورٹ میں لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے اپیل نمبر479/2015 دائرکی گئی اور16جنوری2018ء کوعدالت عظمی کے جسٹس آصف سعیدکھوسہ اورجسٹس دوست محمدخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے 16جنوری2018ء کواپیل کی سماعت اوردونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر اپیل منظورکرکے ماتحت عدالت کے فیصلے کوکالعدم قرار دے دیااورڈاکٹرسجاد احمدکی بریت کے احکامات جاری کئے تاہم ڈیڑھ ماہ کاعرصہ گذرنے کے باوجودسجاداحمد کے اہل خانہ کوجیل اورعدالت کے مابین فٹ بال بنادیاگیاہے اورکاغذی کارروائی کے نام پرڈاکٹرسجاد اوران کے اہل خانہ کو ذہنی مریض بنادیاگیاہے جیل انتظامیہ ہرروزڈاکٹرسجاد کونئی کہانی سناکراگلے روزرہائی کی نویدسنادیتی ہے تاہم نئی صبح پرنئی کہانی تیاہوتی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس اور آئی جی جیلخانہ جات خیبرپختونخواسے ا ن ا قدامات کانوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...