’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 6

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 6
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 6

  



وارث اور اکرم کی تجہیز و تکفین کے اگلے روز صبح سویرے سارا گاﺅں چوہدری عمردراز کی حویلی میں اُمڈ آیا اور وہاں پنچایت بیٹھ گئی جس میں روشن نگر گاو¿ں کے بزرگوں اور جوانوں سمیت تمام لوگ اکٹھے تھے لیکن ان سب کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ سب گزشتہ روز کے واقعے کے سحر میں ابھی تک مبتلا تھے۔ دلوں میں ٹھہرا خوف اور آنکھوں میں اُترا ڈر ان کی ظاہری اور باطنی کیفیت بخوبی بیان کر رہا تھا۔ اسی کا اثر تھا کہ پنچایت پر خاموشی کی گھٹائیں چھائی تھیں۔

بالآخر ایک بزرگ نے سکوت توڑتے ہوئے کہا:

”چوہدری صاحب ! گاﺅں میں زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ گاﺅں چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ نیلی حویلی کے خوف نے سب کا جینا حرام کر دیا ہے۔آپ ہی بتائیں اس صورتحال میں ہم کیا کریں؟“

بوڑھے کی بات سن کر چوہدری عمردراز گہری سوچ سے باہر نکل آیا۔

”میرے ہوتے ہوئے تم لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تم لوگوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے اور میں یہ ذمہ داری ہر صورت پورا کروں گا۔“

چوہدری عمردراز کی بات سن کر پنچایت پر چند لمحے کے لیے دوبارہ خاموشی چھا گئی۔

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 5 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

”وہ تو ٹھیک ہے چوہدری صاحب! مگر گاﺅں کے دو جوانوں کی موت سے سب ڈر گئے ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں گاﺅں والوں کی زیادہ تر زمینیں نیلی حویلی کے اردگرد ہیں۔ انہی زمینوں سے ان کا گزراوقات ہوتا ہے۔ پہلے سب رات کو نیلی حویلی کے قریب گزرنے سے خوف کھاتے تھے لیکن اب تو دن کو بھی ڈر لگتا ہے۔ لوگ کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟“

اس بار ایک اور بوڑھے نے لب کشائی کی۔

”دیکھ چاچا! میں نے آپ سب لوگوں کو پہلے کبھی اکیلا چھوڑا ہے جو اب چھوڑوں گا۔ اس مسئلے کا حل بھی ہے میرے پاس۔“

چوہدری عمردراز نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

”اور وہ یہ کہ میں نیلی حویلی کی طرف جانے والے راستے پر چوکی بنوا دیتا ہوں جہاں میرے دو ملازم مستقل بیٹھیں گے اور جو کوئی جانے یا انجانے میں ادھر جانے کی کوشش کرے گا اسے روک دیا کریں گے۔ اس سے کم از کم یہ تو فائدہ ہو گا کہ اس طرح کا وحشت ناک واقعہ دوبارہ نہیں ہو گا۔“

پنچایت پر چند لمحوں کے لیے پھر سکوت چھا گیا۔ تمام لوگوں کی نگاہوں کا مرکز چوہدری عمردراز کی ذات تھی۔

”ہم نیلی حویلی کی بدروحوں سے لڑ نہیں سکتے لیکن اس طریقے سے ہم اپنے جوانوں اور لوگوں کی زندگیاں بچا سکتے ہیں۔“

چوہدری عمردراز کی بات سن کر لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ اچانک مجمعے سے آواز بلند ہوئی :

”چوہدری عمر دراز....!“

اور سب لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے ”زندہ باد“ کہہ کر نعرے کا جواب دیا۔ تحسین و آفرین پر مشتمل نعروں کا سلسلہ کچھ دیر جاری رہا۔

”میری بات پوری نہیں ہوئی۔“

چوہدری عمردراز نے ہاتھ بلند کیے تو مجمع خاموش ہو گیا۔

”جب تک۔“ اس کی آواز گونجی۔

”وارث اور اکرم کے خاندانوں کے روزگار کا مستقل انتظام نہیں ہو جاتا تب تک ان کی کفالت میری ذمہ داری ہے۔“

”چوہدری عمردراز....!“

مجمعے سے پھر نعرہ بلند ہوا اور ”زندہ باد“ کے جواب سے پوری حویلی گونجنے لگی۔

چوہدری عمردراز نے آج پھر گاﺅں والوں کے دل جیت لیے تھے۔ لوگ مطمئن ہو گئے کہ پہریداروں کے ہوتے ہوئے انہیں اب مزید ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی وہاں سے گزرتا ہے تو کم از کم ان کے آس پاس چوہدری عمردراز کے ملازم تو ہوں گے۔ انہیں یقین تھا اس طرح اب کوئی نیلی حویلی کے عذاب کا شکار نہیں ہو گا۔

اُسی روز رات کو چوہدری عمردراز کی حویلی پر کچھ لوگ جمع تھے۔ عموماً گاﺅں کی زیادہ تر بتیاں عشا کی نماز کے بعد بجھ جاتی تھیں لیکن اس کی حویلی پر رونق تھی۔ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کی زمینیں نیلی حویلی کے اردگرد واقع تھیں اور وہ حویلی کے خوف سے اپنی زرخیز زمینیں نہایت کم قیمت پر بھی اسے بیچنے کیلئے آئے تھے۔ اگرچہ چوہدری عمردراز نے انہیں آج تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن پھر بھی لوگ نیلی حویلی کی نحوست سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنی زمینیں اسے بیچنا چاہتے تھے۔

چوہدری عمردراز اس سلسلے میں خاصا سخی واقع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور اِن پریشان حال لوگوں سے اُن کی زمینیں خریدنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا لیکن اس کی کرسی خالی تھی۔ صبح پنچایت کے بعد سے وہ کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا۔ اس کی عدم موجودگی میں لوگ سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ اُن کی گفتگو کا موضوع گزشتہ رات پیش آنے والا خوفناک واقعہ ہی تھا۔

”سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں پاگل نیلی حویلی گئے کیوں؟ “

چوہدری عمردراز کے ایک ملازم نے سرگوشی کی۔

”جب نشے کا بھوت سر پر سوار ہو تو پھر کہاں کی سوچ میرے بھائی۔“

ایک دیہاتی نے اس کی بات کا جواب دیا۔

”موت کا بلاوا آتا ہے تو پھر انسان کے قدم نہیں رکتے۔“ دوسرا ملازم بولا تو سب اس کی بات کی تائید میں سر ہلانے لگے۔

”یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے چوہدری عمر دراز جیسا فرشتہ اس گاﺅں میں رہتا ہے ورنہ نجانے کیا ہوتا۔“

اسی ملازم نے دوبارہ کہا۔

”سولہ آنے ٹھیک کہتے ہو بھائی۔“

ایک دیہاتی اس کی بات کی تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔

”مجھے میری زمین کے پیسے تو پورے ملیں گے ناں۔“

ایک بوڑھے دیہاتی نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

”بابا جی! آپ بے فکر ہو جائیں چوہدری صاحب کبھی کسی کا حق نہیں رکھتے۔ آپ یہ سوچیں آسیب والی جگہ خرید کر کون اپنے پیسے برباد کرتا ہے لیکن چوہدری صاحب پھر بھی آپ کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے بے فکر ہو جائیں آپ کو پیسے پورے ہی ملیں گے۔“

چوہدری عمردراز کے ملازم نے جواب دیا۔

”اللہ اُس کی عمردراز کرے بیٹا۔“

بوڑھے نے کانپتی آواز میں دعا دی۔

اسی دوران چوہدری عمردراز حویلی میں واپس لوٹ آیا۔ اُسے بتایا گیا کہ لوگ اپنی زمینیں بیچنے کے لیے آئے ہیں تو اس نے اپنے خاص ملازم ماکھے کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں سے معاملات طے کر لے اور خود سونے کیلئے چلا گیا۔ غالباً وہ لمبا سفر کر کے آیا اس لیے تھکا ہوا تھا۔ ماکھے نے لوگوں سے ان کی زمینوں کے کاغذات لیے اور اگلے دن صبح انہیں پیسوں کی ادائی کا کہہ دیا۔ معاملات طے ہونے کے بعد لوگ آہستہ آہستہ گھر کی راہ لینے لگے۔

نیلی حویلی گاﺅں والوں کیلئے ڈراﺅنے خواب کی مانند بن چکی تھی۔ اس کے اردگرد واقع اپنی زرخیز زمینیں کم قیمت پر فروخت کرکے انہیں اطمینان تھا کہ اب ان کا واسطہ کبھی نیلی حویلی سے نہیں پڑے گا لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی۔(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 7 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /نیلی حویلی