رہائشی علاقوں میں غیرقانونی فیکٹریوں کے خلاف آپریشن شروع ، تین کو سیل کر دیا گیا

رہائشی علاقوں میں غیرقانونی فیکٹریوں کے خلاف آپریشن شروع ، تین کو سیل کر دیا ...

لاہور(جنرل رپورٹر) ضلعی انتظامیہ نے رہائشی آبادیوں میں غیر قانونی طورپر قائم کی گئی فیکٹریوں کی شہر بدری کیلئے کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔گزشتہ روز سمن آباد ٹاؤن کی حدود میں مختلف رہائشی آبادیوں میں قائم 3فیکٹریاں سیل کر دی گئیںیہ فیکٹریاں شبلی ٹاؤن ،شمع اوراچھرہ میں قائم تھیں ،جنہیں سیل کر دیا گیا ۔واضح رہے کہ یہ کریک ڈاؤن شروع کرنے سے قبل ابتدائی طورپر شہر کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طورپر قائم 2200میں سے 17انتہائی خطر ناک ترین فیکٹریوں کو نوٹسز جاری کیے گئے جن میں کہا گیا کہ 2دن کے اندر اندر اپنی فیکٹریاں شہری آبادی سے منتقل کرلیں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔عملدرآمد نہ کرنے والے فیکٹری مالکان کے خلاف گزشتہ روز کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ۔بتا یا گیا ہے کہ صبح سویرے ڈی سی اولاہور کے سکواڈ نے سمن آباد ٹاؤن کے ٹی ایم اوامتیاز اعوان کی قیادت میں کاروائی کی ۔اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی ان کے ہمراہ تھی۔اس دوران کاروائی کا آغاز شبلی ٹاؤن سے کیا گیا جہاں ایکسرے بنانے والی فیکٹری کو سیل کر دیا گیا ۔بعد ازاں شمع اوراچھرہ میں بھی فیکٹریاں سیل کر دی گئیں ۔اس حوالے سے ٹی ایم او امتیاز اعوان نے کہا کہ ڈی سی اوکے حکم پر آغاز کر دیا گیا ہے۔قانون سے کوئی فیکٹری مالک بالا تر نہیں ہے سب سے کہا گیا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی فیکٹریاں رہائشی علاقوں سے نکال لیں کیونکہ ان کیلئے سندر کے قریب سمال انڈسٹریل ایریا بنا یا گیا ہے چونکہ عوام کی صحت اورزندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے جو لوگ نوٹسز ملنے کے باوجود فیکٹریاں شہری آبادی سے باہر منتقل نہیں کر رہے ان کی فیکٹریاں سیل کر دی جائیں گی ۔واضح رہے کہ کارروائی روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی خبر پر شروع کی گئی ہے جس میں بتایاگیا تھا کہ رہائشی آبادیوں سے فیکٹریوں کو شہر بدر کرنے کیلئے عملی اقدامات لٹک گئے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1