لاہورہائی کورٹ بار کے انتخابات کے طریقہ کار پر وکلاءگروپوں میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

لاہورہائی کورٹ بار کے انتخابات کے طریقہ کار پر وکلاءگروپوں میں اختلافات شدت ...
لاہورہائی کورٹ بار کے انتخابات کے طریقہ کار پر وکلاءگروپوں میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار کے 25فروری کو ہونے والے انتخابات کی ووٹنگ بائیومیٹرک یا مینوئل طریقے سے کرانے پر عاصمہ جہانگیر گروپ، حامد خان گروپ اور آزاد امیداروں میں اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں جبکہ ایک صدارتی امیدوار سردار خرم لطیف کھوسہ نے مینول طریقہ سے انتخابات کرانے کا دوسرا حکم نامہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ۔

ہائی کورٹ نے بلاتحقیق قبرکشائی کے احکامات جاری کرنے پرپابندی عائد کردی،راہنما اصول جاری

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 25فروری کو ہو رہے ہیں جس میں مجموعی طور پر چودہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں، انتخابات میں صدارتی امیدواروں کے لئے عاصمہ جہانگیر گروپ نے رمضان چودھری اور حامد خان گروپ نے چودھری ذوالقفار علی کو نامزد کر رکھا ہے جبکہ دو آزاد صدارتی امیدوار خرم لطیف کھوسہ اور آذر لطیف خان بھی میدان میں ہیں، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون نے رمضان چودھری کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات بائیومیٹرک کی بجائے مینوئل طریقے سے کرانے کا دوبارہ حکم نامہ جاری کیا ہے، صدارتی امیدوار رمضان چودھری کا موقف ہے کہ مینوئل ووٹنگ سے دھاندلی کا خدشہ کم ہوجاتا ہے، حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار چودھری ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا بائیومیٹرک نظام کی طرف جا رہی ہے لیکن عاصمہ گروپ مینوئل طریقے کا حامی ہے، پاکستان بار کونسل نے مینوئل ووٹنگ کا حکم غیرقانونی طور پر جاری کیا، آزاد صدارتی امیدوار خرم لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل حقیقت میں عاصمہ جہانگیر کونسل بن گئی، رمضان چودھری کو جتوانے کے لئے عاصمہ جہانگیر گروپ کے ہی وائس چیئرمین احسن بھون پاکستان بار کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔دریں اثناءلاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات مینوئل طریقے سے کرانے کا دوسرا حکم نامہ سردار خرم لطیف کھوسہ نے عدالت عالیہ میں دوبارہ چیلنج کر دیا گیاہے۔صدارتی امیدوار سردار خرم لطیف کھوسہ کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون ایک مرتبہ پھر لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات بائیومیٹرک کی بجائے مینوئل طریقے سے کرانے کا دوسرا حکم نامہ جاری کیا ہے جو اختیارات سے تجاوز ہے، اس سے قبل پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری پہلا حکم نامہ لاہور ہائیکورٹ نے معطل کرتے ہوئے معاملہ پاکستان بار کونسل کو واپس بھجوایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ تمام امیدواروں کو سن کر دوبارہ فیصلہ کیا جائے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کی بھی فریق کو شنوائی کا موقع دیئے بغیر ہی دوبارہ پھر ووٹنگ مینوئل طریقے سے ہی کرانے کا حکم جاری کیا ہے، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار کو ریگولیٹ کرنا یا کوئی مداخلت کرنا پنجاب بار کونسل کا اختیار ہے، پاکستان بار کونسل لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتی، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات مینوئل طریقے سے کرانے کا اقدام کالعدم کیا جائے اور پچھلی روایت کے مطابق انتخابات بائیومیٹرک طریقے سے ہی کرانے کی اجازت دی جائے۔

مزید : لاہور


loading...