اسلام کی بنیاد …… نیت

اسلام کی بنیاد …… نیت
اسلام کی بنیاد …… نیت

  

غورکیا جائے تو اِنسان کے ہر فعل کے پیچھے اُس کی نیت کا ر فرما ہوتی ہے۔ ہم اپنی معاشرتی زندگی کو دیکھ لیں۔ ہمارا معاشرہ ریا کاری کا شکار سمجھا جاتاہے،جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے۔ ہمارے عوام جب اپنے لیڈروں کی خوشامدانہ تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہوتے ہیں توعوام کی نیت تعریف کرنے کی نہیں ہوتی،بلکہ اُن لیڈروں سے وقتی فائدہ اُٹھانے کی ہوتی ہے۔ ہمارے لیڈر بھی ریا کاری کا جواب ریا کاری سے دے رہے ہوتے ہیں۔ حکومتی افسران جب کسی نئے عہدے پر آتے ہیں یا اُس عہدے سے فارغ ہو کر کسی دوسری پوسٹ پر تقرری کے لئے جارہے ہوں تو اُن کو سپاسنامے پیش کئے جاتے ہیں۔ اُن سپاسناموں میں جھوٹ اور خوشامد کا عنصر زیادہ ہوتا ہے، حالانکہ تعریف نامہ پیش کرنے والوں کی نیت میں کھوٹ ہوتا ہے اور اگر یہ افسر ریٹائر ہو کر بالکل ہی فارغ ہو رہا ہو تو سپاسنامے کے الفاظ میں خوشامد کا عنصر کم ہو جائے گا۔ نیت یہاں بھی منافقت پر مبنی ہو گی۔ 

پہلے تو ہم یہ سمجھ لیں کہ ہمارا اسلام سے تعارف قرآنِ مجید کے ذریعے ہوا ہے۔ قرآنِ مجید دراصل کتابِ ہدائت ہے۔  "ھد ی للمتقین الزین َ "کا حکم تمام اِنسانوں کے لئے ہے۔ قرآنِ مجید کا پیغام خالصتاً اس دُنیا میں رہنے والوں کے لئے ہے۔  قرآنِ مجید میں روحانی تسکین کے لئے کوئی منتر  نہیں بتائے گئے۔ مختلف دعائیں ہیں،جو ہمارے پیغمبروں نے اپنے لئے یا اپنی قوم کے لئے مانگی ہیں، لیکن قرآن مجید کا زیادہ حصہ ہماری دنیاوی زندگی کو توازن اور امن میں رکھنے کی ہدا یات پر مشتمل ہے۔ قرآنِ مجید میں جن عبادات کا حکم دیا گیا ہے یا دنیاوی زندگی کو احسن طریقے سے گذارنے کی ہدایات دی گئی ہیں اُن سب پر عمل کرنے کی بنیاد ہماری نیت ہے۔ اگر میں نماز ظاہری طور پر بڑے ہی خشوع و خصوع سے پڑھتا ہوں،بلکہ مسجد میں جا کر پڑھتا ہوں اور میری نیت یہ ہے کہ میَں اپنے اِردگرد رہنے والوں کی نظر میں ایک نیک اور متقی اِنسان جانا جاؤں، تو میری نماز شائد اللہ تعالیٰ قبول بھی نہ کریں، کیونکہ میری نیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر نا نہیں ہے، بلکہ اپنے حلقے کے لوگوں میں نیک نامی حاصل کرنا ہے۔ خواہ درحقیقت میَں ایک ریاکار، بے ایمان، گراں فروش اور ٹیکس چور تاجر ہی کیوں نہ ہوں۔ 

اسلام واحد دین ہے جو اِنسانی نیت کو اہمیت دیتا ہے۔ اِنسانوں کے ظاہری فعل کے پیچھے کیا مقصد ہے وہ اہم ہے۔ دوسرے مذہبوں کی طرح اسلام اِنسانوں سے یہ توقع نہیں کرتا کہ مسلمان ہونے کے لئے کوئی بیعت کی جائے یا Baptisation ہو یا کوئی خاص قسم کا عمل کر کے  کلمہ شہادت پڑھا جائے، جس انسان نے اپنے منہ سے کلمہ شہادت اس نیت سے ادا کر دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدت پر اور حضرت محمد ؐ کی رسالت اور اُس کی خاتمیت پر ایمان لاتا ہے، وہ انسان ہماری نظروں میں مسلمان ہو گیا، کیونکہ اُس کی نیت ایمان لانے کی تھی۔ ہم نہ اُس سے کوئی فارم بھرواتے ہیں اور نہ ہی اُس پر اپنا Original نام تبدیل کرنے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ 

کاش ہمارے مسلمان اکابر اور مذہبی سکالرز نے " اسلام با لنیت" کو اہمیت دی ہوتی تو مسلمان نہ اتنے فرقوں میں تقسیم ہوتے اور نہ ہی ایک دوسرے پر شرِک اور کفر کا الزام لگاتے۔

نیت اِنسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک  قسم کا غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے،جس کو صرف بندہ جانتاہے یا ذاتِ باری تعالیٰ۔ نیت ایک abstract روّیہ ہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی شخص کے بارے میں تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں، لیکن دوسرے سننے والے اس تبصرے کو غیبت کے زمرے میں ڈال دیں گے،حالانکہ تبصرہ کرنے والے کی نیت غیبت کرنا نہیں ہوتی۔ نیت اگرچہ ایک غیر مرئی روّیہ ہے، لیکن ہماری عملی زندگی میں نیت نظر آ سکتی ہے۔ جب میں تجارتی بے ایمانی کروں گا   یا رشوت لوں گا تو میری نیت ہی ناجائز آمدنی حاصل کرنیکی ہوگی۔ جب میں جھوٹ بول کر ٹیکس کی چوری کرتا ہوں تو یہاں بھی میری نیت بالکل عیاں ہوتی ہے۔ نیت ایک پوشیدہ ذہنی روّیہ بھی ہے اور عیاں روّیہ بھی ہے۔فی زمانہ تمام دنیا کے اکثر مسلمان، مذہب کے ظواہِرپر زیادہ زور دیتے نظر آتے ہیں۔ نمازیوں سے بھری مسجدیں، رمضان کا ظاہری احترام (خیر مقدم تو کرتے ہیں منافع خور تاجر)عمروں اور حج کے لئے جوق در جوق تیاریاں، رمضان کی تراویح اور پھر اعتکاف کا   با بانگ دُھل اعلان اِن سب ارکانِ دین کی ادائیگی کے باوجود ہم دنیا کی قوموں میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ اِس لئے کہ ہماری مذہبیت میں اللہ تعالیٰ کی اصل خوشنودی حاصل کرنے کی نیت شامل نہیں ہے بلکہ ہم میں سے اکثر اپنے کالے کر توتوں کی پردہ پوشی کے لئے ارکانِ دین کا ظاہری سہارا لیتے ہیں۔ ہمارے عوام اِتنے سادہ ہیں کہ اکبری منڈی کے حاجیوں کی قسموں پر یقین کرکے ملاوٹی مال کو اصلی سمجھ کر خرید لیتے ہیں، ہم سرکاری اہل کار کے ماتھے پر کثرتِ نماز کا محراب دیکھ کر بھی اُس کو رشوت دینے پر مجبور ہیں، سیاست دانوں کو تو چھوڑیئے وہ تو عید کی نماز بھی اگلی صفحوں میں فوٹو کھچوانے کے لئے پڑھتے ہیں،جس روز ہماری نیتوں کی سمت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طرف ہوگئی ہم ذِلّت کے اندھیروں سے باہر آجائیں گے۔ 

ہم ایسے کم نظر لوگ ہیں کہ نوجوان بچے اور بچیوں کے ظاہری لباس اور اُن کی معصوم سی کھیل تماشے کی حرکتوں کو دیکھ کر اُن پر بے حیائی اور فحاشی کا الزام تھوپ دیتے ہیں، حالانکہ میَں نے خود اِن نوجوانوں کو اِسی کھیل تماشے کے دوران جب نماز کا وقت آگیا تو وہیں اُسی جگہ پر با جماعت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں تو یہ عام ہے کہ مسلمان خاندان اپنے علاقے کے اسلامک سنٹر میں اِتوار کے دِن اکٹھے ہوتے ہیں۔ ظہر کی نماز کے بعد کھیل کود  وہیں اِسلامک سنٹر کے احاطے میں کرتے ہیں اور عصر کی نماز پڑھ کر اپنے اپنے گھر سدھارتے ہیں، اِن کھیل کُود اور موج مستی کرنے والے بچوں کو ایک تنگ نظر ملّا کی آنکھ فحاشی قرار دینے میں ذرا دیر نہیں لگائے گی۔ مُلّا نے اِن بچوں کی اور اُن کے ماں باپ یا لواحقین کی نیت کو نہیں جانچنا۔ یقین جانئے کہ آج کے نوجوان بغیر داڑھی اور لڑکیاں بغیر حجاب کے، اسلام سے زیادہ نسبت رکھتے ہیں۔ یہ نوجوان اپنی نیتوں میں داڑھی والوں سے زیادہ پُر خلوص ہیں۔ میرے اپنے مضامین پاکستانی مسلمانوں کے غیر متمدن اور منافقانہ اطوار کا رونا روتے ہیں، لیکن میری نیت مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کی ہوتی ہے۔ متمدن اور منظّم ہونے کے لئے کسی رقم کی ضرورت نہیں ہے،حکومتی مدد کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ایک بدنیت عوام کا ہجوم بنتے جا رہے ہیں۔ 72 برسوں میں ہم ایک قوم بھی نہ بن سکے، ہم عوام میں دُوریاں ہیں۔ زبان کی بنیاد پر، مسلک کی بنیاد پر صوبے کی بنیاد پر اور طبقاتی بنیاد پر۔ ہمارے لیڈر بدنیت ہمارے عوام بد نیت اور بدنیت لوگوں کی اللہ تعالیٰ بھی مدد نہیں کرتا۔ 

مزید :

رائے -کالم -