مسجد نبوی ؐکے امام الشیخ قاری محمد ایوب برمی ؒ

آہ ۔۔۔۔عالم اسلام کے مشہور قاری اور مسجد نبوی شریف کے امام، منفرد مسحور کن اور روح پرور آواز کے مالک فضیلۃ الشیخ قاری محمد ایوب برمیؒ بھی گذشتہ دنوں 9 رجب 1437ھ 17 اپریل 2016 ء کو نماز فجر کے بعد اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے 64 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔۔۔ انتقال سے ایک روز قبل مسجد نبوی شریف میں عشاء کی نماز فضیلۃ الشیخ قاری محمد ایوبؒ برمی نے خود پڑھائی تھی آپ کی نماز جنازہ مسجد نبوی شریف کے سب سے بڑے امام فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن علی الحذیفی حفظہ اللہ نے پڑھائی، جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی یوں تو مسجد نبوی شریف میں روزانہ کئی خوش قسمت لوگوں کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے ،لیکن قاری شیخ محمد ایوب برمی ؒ کی نمازہ جنازہ میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا لوگ آپ کے جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے عقیدت و محبت سے پروانہ وار آگے بڑھتے ہوئے نظر آئے۔۔۔ بعد میں آپ کو قبرستان جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا ۔
آپ کی وفات کی خبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی گئی آپ کے عقیدت مند اور قرآن کی تلاوت کی وجہ سے آپ سے محبت کرنے والے غم کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ قاری محمد ایوب برمی ؒ مسجد نبوی شریف کے امام اور مدینہ یونیورسٹی کے فاضل اور استاذ تھے۔ خداد اد صلاحیت اور ذہانت کی وجہ سے آپ نے صرف 12 سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اور پھر مدینہ منورہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1408 ھ میں مدینہ یونیورسٹی سے تفسیر قرآن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مدینہ یونیورسٹی میں استاذ مقرر ہوئے۔۔۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو محبوبیت و مقبولیت سے خوب نوازا اصلاً برمی ہونے کے باوجود اہل عرب آپ کی مسحور کن اور روح پرور آواز میں قرآن سنتے تو فرط محبت و عقیدت میں رونے لگتے آپ کے پیچھے مسجد نبوی شریف میں نماز تراویح پڑھنے والے دور دراز سے سفر کر کے بہت ہی شوق و اہتمام سے شرکت کرتے خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد مرحوم کی خواہش پر آپ نے قرآن کریم کی مکمل ریکارڈنگ کروائی جو آج بھی ریڈیو، ٹی وی پر سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں عقیدت و محبت سے مسلسل سنی جارہی ہے۔
مسجد الحرام بیت اللہ کے امام فضیلۃ الشیخ قاری سعود الشریم حفظہ اللہ قرآن کی خدمت اور اشاعت دین کے لئے الشیخ قاری محمد ایوب برمیؒ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یوں تحریر فرماتے ہیں:1952 ء کو بلد حرام مکۃ المکرمہ میں ایک بچے نے جنم لیا جسے بچپن ہی سے قرآن کریم سے بے حد محبت اور لگاؤ تھا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ 12 سال کی مختصر عمر میں قرآن کریم کو مکمل حفظ کیا۔ یہ بچہ غیر معمولی نوعیت اور صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اس نے اپنی محنت اور لگن سے اپنا نام اور مقام پیدا کیا۔ دنیا اسے امام المسجد النبوی الشریف شیخ محمد ایوب رحمہ اللہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپ کا شمار صرف سعودی عرب کے معروف خوش الحان قراء میں ہی نہیں ،بلکہ عالم اسلام کے مشہور قراء میں ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1408ھ میں مدینہ یونیورسٹی سے تفسیر قرآن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ انتہا درجہ کے ذہین ، محنتی اور باادب تھے۔ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مدینہ یونیورسٹی میں آپ کو بطور معلم مقرر کیا گیا۔اس زمانے میں آپ وقتا فوقتا مدینہ منورہ کی مختلف مساجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔جن میں مسجد نبوی شریف اور مسجد قباء بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد آپ 1410 ھ سے 1417ہجری تک متواترمسجد نبوی میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔یہ آپ کا خاص اعزاز ہے کہ آپ نے 1410 ھ کے رمضان المبارک میں تنہامسجد نبوی میں تراویح کی نماز پڑھائی۔ گزشتہ سال شاہ سلمان کی خواہش پر آپ سے دوبارہ امامت کی درخواست کی گئی تقریبا19 سال کے انقطاع کے بعد آپ دوبارہ مصلی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تشریف لائے اور تراویح کی نماز پڑھائی۔
شیخ محمد ایوب انداز قرآن اور خوش الحانی میں یکتا اور منفرد حیثیت کے مالک تھے۔اہل مدینہ آپ کی آواز سن کر دھاڑیں مار کر رونے لگتے تھے۔ گزشتہ برس آپ کو مسجد نبوی میں تراویح کے لئے امام مقررکیا گیا تو دور دراز سے لوگ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے لئے جوق در جوق تشریف لائے۔ شیخ محمدایوب اصلاً برمی تھے،لیکن قرآن کریم سے محبت اور لگن کی وجہ سے اللہ نے انہیں دیگرہزاروں عربوں پر فضیلت بخشی اور مصلی نبوی پرامامت کی سعادت سے سرفراز فرمایا۔شیخ مرحوم فرماتے تھے کہ میری دو خواہشیں ہیں،ایک یہ کہ مرنے سے پہلے پہلے مجھے محراب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں امامت کی سعادت مل جائے اور دوسری یہ کہ میری چھوٹی بیٹی بھی قرآن حفظ کرلے۔اللہ کی شان آپ کی یہ دونوں خواہشیں مکمل ہوئیں۔چنانچہ پچھلے سال آپ کو محراب نبوی میں امامت کی سعادت بھی ملی اور اپنی وفات سے ایک دن قبل آپ نے اپنی بیٹی کی حفظِ قرآن کی تقریب میں شرکت بھی فرمائی۔اللہ نے شیخ مرحوم کو دو بیویوں،5 بیٹوں اور دوبیٹیوں سے نوازا تھا۔ الحمدللہ ساری اولاد قرآن کریم کے حافظ ہیں۔اس کے علاوہ ہزاروں تلامذہ ہیں جنہوں نے مسجد نبوی اور مدینہ یونیورسٹی میں آپ سے پڑھا۔اور آگے دین کو پھیلا رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب مسلمان تارک قرآن ہو کر خط ذلت کے نیچے زندگی گزارنے میں مصروف ہیں ایسے حالات میں شیخ ایوب نے قرآن کریم کو سینے سے لگایا اور قرآن کی محبت نے آپ کو ایسی بلندی نصیب فرمائی کہ مسجد نبوی شریف میں آپ کی تلاوت کی آواز گنبد خضریٰ میں صاف سنائی دیتی تھی۔ گویا آپ اپنے نبیؐ کو وہ قرآن سناتے رہے جو قرآن آج سے 14 صدیاں قبل نبیؐ کے قلب اطہر پر نازل ہوا تھا۔ آخر کار 9 رجب 1437ھ کو فجرکے بعد 64 سال کی عمر میں آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ ظہر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں مسجد نبوی کے قدیم امام شیخ علی الحذیفی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔اور جنت البقیع ایسے مبارک قبرستان میں دفن ہونے کی سعادت ملی۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را