کچھ نئی کچھ پرانی باتیں

کچھ نئی کچھ پرانی باتیں

  

*۔۔۔ عریانی اور فحاشی کا نام فلم والوں نے ’’بولڈ اداکاری‘‘ رکھ کر اداکاراؤں کو ایسے ایسے لباس پہنانے شروع کر رکھے ہیں کہ ان کو دیکھ کر انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر اس لباس کو کیا نام دیا جائے۔ ایسے ملبوسات پہن کر جو اداکاری کی جاتی ہے تو اسے بولڈ اداکاری کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ سرے سے اداکاری ہوتی ہی نہیں ہے، لیکن بالی وڈ سینما نے چونکہ ہالی وڈ سے بھی آگے نکلنے کا شوق پال رکھا ہے اس لئے بے چاری اداکاراؤں کو فلم سازوں اور ہدایتکاروں کے اشاروں پر جو کچھ کرنا پڑتا ہے وہ انہی کا حوصلہ ہے لیکن شاید انہوں نے اپنے آپ کو یہ کہہ کر دِلاسہ دے رکھا ہے کہ

’’کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی‘‘

ایسی لاجواب اداکاری کرنے والی اداکاراؤں میں اب تو کترینہ کیف اور کرینہ کپور کے علاوہ ہر وہ اداکارہ شامل ہے جو خود کو بالی وڈ کی فلمی صنعت میں زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ پہلے زمانے میں اداکاراؤں کی تعریف اُن کے فن کے حوالے سے کی جاتی ہے، مگر آج کل ان کی تعریف عریانی اور فحاشی کے حوالے سے کی جاتی ہے اور جو اداکارہ مختصر لباس میں بے باک اداکاری کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی وہی نمبر ون ہے۔

*۔۔۔ گزشتہ دِنوں فلم ’’راجہ نٹور لال‘‘ میں کام کرنے والی پاکستانی اداکارہ عمائمہ ملک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’راجہ نٹور لال‘‘ کی ریلیز کے بعد اسے بہت سی بھارتی فلموں میں اداکاری کی آفرز ہوئی ہیں،لیکن اس نے اس لئے انکار کر دیا کہ یہ تمام فلمساز ان سے اپنی فلموں میں ’’بولڈ اداکاری‘‘ کے متقاضی تھے، حالانکہ اس اداکارہ نے ’’راجہ نٹور لال‘‘ میں بھی کچھ کم ’’صلاحیتوں‘‘ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہی صورت حال کافی عرصہ پہلے بھارتی فلم میں کام کرنے والی پاکستانی اداکارہ ’’میرا‘‘ کو پیش آئی تھی اس نے بھی وہاں کی فلم میں ’’عمدہ صلاحیتوں‘‘ کا مظاہرہ کیا تھا اور فلم کی ریلیز سے قبل اس نے پاکستانی میڈیا کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا تھا کہ اس نے فلم میں کوئی ایک بھی ایسا منظر قلمبند نہیں کروایا، جس سے اپنے مُلک کی یا خود اس کی عزت پر حرف آتا ہو، لیکن فلم ریلیز ہوئی تو اس کے اپنے تئیں ’’نیک پروین‘‘ بننے کے سارے دعوے غلط ہو گئے۔ صاف ظاہر ہے جو لوگ اپنے ہاں کی اداکاراؤں کو کپڑوں سے بے نیاز کرنے میں حد سے گزر چکے ہیں وہ غیر ممالک سے آنے والی اداکاراؤں کو کیسے ’’معاف‘‘ کر سکتے ہیں۔ اکثر اوقات مختلف نئی اداکاراؤں کے حوالے سے یہ خبریں نظر سے گزرتی ہیں کہ ان کو بالی وڈ فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی طرف سے فلموں کی آفر ہو رہی ہیں لیکن وہ ’’بولڈ اداکاری‘‘ سے گریزاں ہونے کی وجہ سے یہ آفر قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ اس نے نوٹوں کی چمک سے متاثر ہو کر فلاں فلمساز سے بولڈ اداکاری کا معاہدہ کر لیا ہے۔

*۔۔۔ یہی صورت حال اداکارہ سارہ لورین کی ہے کہ اس نے2010ء میں فلمساز پوجا بھٹ کی فلم ’’کجرارے‘‘ میں بولڈ اداکاری کر کے ملکی میڈیا کو اسی قسم کے بیان دیئے تھے، لیکن فلم کی ریلیز کے بعد سارے پول کھل گئے، ان دنوں یہی اداکارہ ’’عشق کِلک‘‘ نامی فلم میں پہلے سے بھی زیادہ بولڈ اداکاری کر رہی ہے اور جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو اس نے فلم سازوں کو کھلی چھٹی دے دی ہے اور اس کے لباس اور بولڈ اداکاری کے حوالے سے ایسی تصاویر سامنے آ رہی ہیں کہ سارہ لورین کی کوئی بھی وضاحت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ سارہ لورین فلموں میں جلوہ گر ہونے سے پہلے ڈراموں اور کمرشلز میں ’’مونا لیزا‘‘ کے نام سے متعارف ہوئی تھیں، لیکن بھارتی فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے اس کی پہلی شناخت ختم کر کے نیا نام اور نئی شناخت دے دی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سارہ لورین بھارتی فلمسازوں کی خواہشات کے سیلاب کے آگے کہاں تک ٹھہرتی ہیں کیونکہ بالی وڈ کی ہر آنے والی فلم میں اداکاراؤں کے لباس اور بولڈ اداکاری میں جو ’’ترقی‘‘ نظر آئی ہے اس کا اختتام قدرتی لباس پر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستانی اداکارہ وینا ملک جس کے گزشتہ برسوں بڑے چرچے رہے ہیں، اس کی بھارت میں تیار کردہ فلم ’’ممبئی125 کلو میٹر‘‘ ماہ رواں کی 27تاریخ سے پاکستان میں بھی ریلیز ہو رہی ہے اس لئے اس کی تمام دروغ گوئیوں کا پردہ بھی فاش ہونے کو ہے۔ کچھ بھی ہو وینا ملک تو پردہ سکرین سے غائب ہو چکی ہیں ان پر تنقید ہو گی بھی تو وہ سامنا نہیں کریں گی کیونکہ وہ فلمی اداکاری کا باب بند کر کے اپنی ازدواجی زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں، لیکن اس بات کو بھی زیر بحث لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میرا وینا ملک اور عمائمہ ملک کے بعد درجنوں لڑکیاں بھارتی فلموں میں کام کرنے کی امیدوں پر جی رہی ہیں اس لئے بھی کہ اب پاکستان میں تو فلمی صنعت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اس کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔

***

مزید :

کلچر -