وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 19

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 19
وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 19

  

وہ اکھاڑے میں اترتا اور چھا جاتا۔۔۔اس کا اکھاڑے میں اترنا ایک دلکش منظر سے کم نہ ہوتا۔ اس نے چوڑے چکلے سینے پر سیندور کی مالش کی ہوتی اور جب ڈھولچی اپنے ڈھولوں کو پیٹنے لگتے تو وہ میدان میں سلامی دینے آجاتا اور دل لبھانے کے سے انداز میں دھمال ڈالتا۔ تماشائی اس کے نام کے نعرے لگاتے۔

’’واہ پہلوان جی دل خوش کر دیا۔‘‘

’’پہلوان جی سلامت رہو۔‘‘

تماشائی دل و جان سے اس کے فن کی پذیرائی کرتے اور قندمکرر کے طور پر سلامی پیش کرنے کے لئے کہتے۔

’’پہلوان جی ایک بار پھر سلامی دینے آؤ۔‘‘

وہ اپنے چاہنے والوں کی خواہش سے منہ نہ موڑتا اور سلامی کے لئے دوبارہ سوسو رقص کرتا، نعرے لگاتا واپس اپنی جگہ پر چلا جاتا۔

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 18  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کا نام رحیم بخش سلطانی والا گوجرانوالیہ تھا۔ ریاست جوناگڑھ کے دربار سے منسلک تھا اور نواب محمد رسول خاں کی پہلوانوں کی فوج ظفر موج کا سالار تھا۔ لوگ اسے رحیم سیندوریہ بھی کہتے تھے کیونکہ اکھاڑے میں اترنے سے قبل اکثر اپنے جسم پر سیندور کی مالش کیا کرتا تھا۔

جوناگڑھ نامی گرامی پہلوانوں کا گڑھ تھا۔ دربار سے رحیم بخش سلطانی والا گوجرانوالیہ کے علاوہ غلام پہلوان رستم دوراں کے دو بھائی کلو ستارہ ہند ور رحمانی (بھولو کا نانا)خلیفہ معراج دین لاہوریہ اور60دوسرے پہلوان منسلک تھے۔ ان سب میں رحیم بخش عجیب طرز کا پہلوان تھا۔ اس کے اظہار سجاعت کے طریقے بھی جوامنمردی سے بھرپور تھے۔

جوناگڑھ میں عظیم الشان مقابلوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ یہ ایک طرح سے پندرہ روزہ جشن پہلوانی تھا جس میں مختلف ریاستوں کے چھوٹے بڑے نامی گرامی پہلوان اپنے اپنے فن کا مظاہرہ دکھانے کی خواہش لے کر آتے تھے۔۔۔ اور ان میں نوخیز مگر فولادی ارادوں والا ایک پہلوان ایسا بھی تھا جسے ان مقابلوں میں اپنا حریف تلاش کرنا تھا۔ ویسے تو یہ معمولی بات تھی مگر حریف تلاش کرنا ہی دراصل اس کی حیات پہلوانی کا پہلا زینہ ثابت ہونا تھا۔

یہ گاماں ہی تھا جو اپنے پندرہ سالہ بھائی امام بخش کے ساتھ اکھاڑے میں اترنے والے ہرپہلوان کا گہرا مشاہدہ کرتا تھا اور پھر پہلے ہی روز جب رحیم سیندوریہ اپنے روایتی انداز میں اکھاڑے میں سلامی پیش کرنے آیا اور جب اس کا ایک پہلوان سے مقابلہ ہوا تو سیندوریہ یہ کا حریف دوسرے ہی لمحہ چت پڑا تھا۔ گاماں رحیم بخش کی دھاک سے واقف تھا لیکن اسے اپنے فیصلے کے اظہار میں تامل تھا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ رحیم بخش جوناگڑھ اور دوسری ریاستوں کا ایک مہان پہلوان ہے مگر جب تک وہ خود اس عظیم پہلوان کے نظارے نہ کرلیتا اسے یقین نہ آتا۔

رحیم بخش کے مقابلے دیکھتے ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا مگرگاماں کا مشاہدہ ختم نہ ہوا۔ ایک دن جب وہ واپس رات بسر کرنے سرائے لوٹے جہاں ان کا قیام تھا۔ امام بخش نے راستے میں پوچھا۔

’’بھا، کیا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ہفتہ تو گزر چکا ہے تو نے اکھاڑے میں قدم نہیں رکھا۔‘‘

گاماں نے بھائی کو دیکھا اورنرمی سے کہا۔’’چھوٹے ویر! تو نہیں جانتا میں کیا کرنے والا ہوں۔‘‘

امام بخش کم گو اور نہایت تابعدار قسم کا بھائی تھا۔ اس نے کوئی استفسار نہ کیا کہ بڑا بھائی ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد کیا کرنے والا ہے۔

دن پر دن گزرتے رہے، مقابلے جاری رہے۔ رحیم بخش اپنے حریفوں کو رسوا کن انداز میں پچھاڑتا رہا اور گاماں خاموش تماشائی بنا اس کا مشاہدہ کرتا رہا۔ اس نے ابھی تک کسی کو بھی اپنے ارادوں کی خبر نہ ہونے دی اور پھر مقابلہ کا آخری روز آپہنچا۔نتیجہ رحیم بخش کے حق میں تھا۔ وہ اس پندرہ روز جشن پہلوانی میں سب سے نمایاں تھا۔ کوئی پہلوان بھی اس کے مقابلے میں ٹھہرنہ سکا۔

رحیم بخش سلطانی والا گوجرانولیہ آخری روز کے آخری مقابلے کے لئے اکھاڑے میں قدم رکھ رہا تھا جب گاماں نے اپنا حریف تلاش کرلیا۔ وہ اپنے فیصلے سے نہال ہو گیا اس نے امام بخش کو نہ بتایامگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہواؤں کے دوش پر ماموں عیدا کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرا رہی ہے اور تنبیہ کررہی ہے۔

’’گامے ہوش کرو، تو کیا کرنے والا ہے۔ جانتا ہے رحیم بخش کون ہے۔پاگل لڑکے وہ رستم ہند ہی نہیں پہلوانوں کی آن بھی ہے۔ کیوں اپنی جگ ہنسائی کا ارادہ کررہا ہے۔ باز آجا کہیں مجھے رسوا نہ کر دینا۔‘‘

گاماں نے دل ہی دل میں کہا۔’’ماما تو فکر نہ کر، آج۔’’آریا پار‘‘ ہونے دے۔شکست اور فتح تو میرے مولا کے ہاتھ میں ہے۔ میری زندگی کا آغاز اسی پہلوان سے ہونا ٹھہرا ہے تو اسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔‘‘

میراں بخش بھکی والا کا دلاسہ بھی گاماں کے ذہن میں تازہ ہو گیا۔’’گامے جوڈر گیا وہ مر گیا پہلوان تو وہی ہے جو اپنے سے بڑے کو للکارے۔ مزا اسی میں ہے۔ یہ کیا کہ بالکوں سے لڑ لیا اور رستمی لے لی۔‘‘

گاماں کا فیصلہ اٹل تھا ادھر رحیم بخش نے اپنے آخری حریف کو چشم زدن میں اکھاڑے کی مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیا اور ادھر گاماں تماشائیوں کی بھیڑ چیر کر بھرے میدان میں آگیا اور رحیم بخش کو چیلنج کر دیا۔

یہ ایک دھماکہ تھا۔ اساتذہ ہی نہیں تماشائی بھی دنگ رہ گئے۔ حیرانی کا سبب گاماں ہی تھا۔19برس کا بالکا۔ اپنے سے دس برس بڑے اور جشن کے فاتح پہلوان کو للکار رہا تھا۔

گاماں میدان میں کھڑا اساتذہ فن کی چہ میگوئیوں اورتماشائیوں کی حیرانیوں کا نظارہ کررہا تھا۔اسے اپنے اوپر کامل یقین تھا جویوں چیلنج دے بیٹھا تھا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں