’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 15

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 15
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 15

  



رات تیزی سے بھاگ رہی تھی لیکن عنصر کو نیند نہیں آ رہی تھی۔

بستر پر کروٹیں بدل بدل کر وہ تنگ آ چکا تو لائٹ آن کر کے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اس کی پرتجسس عادت نے اسے بہت بے چین کر رکھا تھا۔ اس کے ذہن میں مختلف سوال گردش کر رہے تھے۔

حویلی خالی تھی تو چوہدری عمردراز کہاں سے ٹپکا؟

اس کی ٹارچ کھیتوں سے چودھری عمردراز کی حویلی میں کیسے پہنچی ؟

جس بدروح کو دیکھ کر وہ بیہوش ہوا تھا اگر وہ چوہدرانی نیک بخت تھی تو اس نے اسے نقصان کیوں نہ پہنچایا؟

کیا بدروحیں اتنی سمجھدار ہوتی ہیں کہ اپنے اور پرائے میں پہچان کر سکیں ؟

بازار میں تلخ کلامی کے بعد کیا واقعی چوہدری عمردراز نے ہمیں ڈرانے کے لیے ہمارے گھر میں چوری کرائی؟

کیا چوہدری عمردراز سچ مچ چاچے فرمان کی بیٹی کے اغوا میں ملوث ہے؟

چوہدرانی نیک بخت کی بدروح بہت ڈیل ڈول والی تھی۔ عمردین نے جس بدروح کو دیکھا وہ جوان تھی۔ کیا بدروحیں کئی کئی شکلیں بدل سکتی ہیں ؟

آخر نیلی حویلی کے آسیب کا راز کیا ہے ؟

چاچے فرمان کی بیٹی اور دیگر بچے گائوں سے کیسے غائب ہوئے اور کہاں گئے ؟

گاﺅں میں آخر ہو کیا رہا ہے ؟

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 14 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

عنصر کے دماغ میں بہت سے سوالات ہوا کے بگولوں کی طرح تیزی سے گردش کر رہے تھے۔ مضطرب انسان کو نیند کہاں آتی ہے اس لیے وہ کمرے میں چکر پہ چکر کاٹ رہا تھا۔ جوابات کی تشنہ طلبی کے بعد پیاس نے آن گھیرا تو کچن کا رخ کیا۔

پانی پی کر واپس آ کر بستر پر بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پر ہلکی دستک نے اس کو منتشر خیالوں کی دلدل سے باہر نکال دیا۔ اس نے جلدی سے کتاب ہاتھ میں پکڑ لی۔ اگلے ہی لمحے ماسٹر حمید کمرے میں داخل ہوگئے۔ وہ کمرے میں لائٹ روشن دیکھ کر آ گئے تھے۔ عنصر نے انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ کتاب پڑھ رہا ہے۔

”خیر تو ہے بیٹا۔ رات کے اس وقت تک جاگ رہے ہو۔“

”جی ابا! سب خیر ہے۔ “

اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

”رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کے بہت سے روحانی اور طبی فائدے ہیں عنصر بیٹا۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز پڑھنے سے انسان کو بہت ذہنی سکون ملتا ہے۔ نماز پڑھنے سے انسان کا تعلق اپنے خالق سے بہت مضبوط ہوتا ہے۔ “

”جی ابا۔“

ماسٹرحمید کی باتیں سن کر عنصر نے ادب سے کہا۔

”وہ .... ابا ! آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔“

”جو مرضی پوچھو میرے بیٹے۔“

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”ایک انسان کے سامنے اگرظلم ہو رہا ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ اسے یہ بھی پتا ہو کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے وہ خود بھی مشکلات میں پھنس سکتا ہے۔ “

”بیٹا !ہمارا دین ہمیں مایوس ہونا نہیں سکھاتا۔ جو ظلم کرتے ہیں اللہ ان سے بہت بڑا ہے۔ جب کسی ظالم کے ظلم کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے تو وہ ذات اس کے ظلموں کا پردہ چاک کرنے کا ایسا بندوست کرتی ہے کہ اسے کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔“

ماسٹرحمید نے عنصر کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔

”حالات چاہے جتنے بھی گمبھیر ہوں، ایک مسلمان کی صلاحیتیوں کا امتحان مشکلات میں ہی ہوتا ہے۔ وہ کبھی بھی مشکلات کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتا۔ انسان اپنے مضبوط عزم اور ہمت سے کچھ بھی کر سکتا ہے تو یہ مشکلات کیا چیز ہیں۔“

”جی ابا!“

عنصرنے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”بیٹا ! برائی کبھی مستقل نہیں رہتی۔ وہ اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہے۔ زندہ صرف اچھائی رہتی ہے اور اچھے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا قائم ہے۔ ظالم چاہے کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالی نے مظلوموں اور اچھے لوگوں کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔“

ماسٹرحمید نے کچھ توقف کیا۔

”بیٹا! جہاں برائی ہوتی ہے اچھائی کی ابتدا بھی وہیں سے ہوتی ہے۔ وہ اپنے اچھے بندوں کو آزماتا ضرور ہے مگر آخر میں فتح انہی کی جھولی میں ڈالتا ہے۔ یہ فیصلہ لوگوں نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ ظالم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔“

ماسٹرحمید خاموش ہو گئے۔

”جی ابا!“

عنصر نے مودبانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”اب سو جاو¿۔ صبح نماز کے لیے بھی اٹھنا ہے۔“

ماسٹرحمید نے مسکرا کر عنصر کے کندھے تھپتھپائے اور سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ابا کی باتوں نے عنصر میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو عزم کی سب سے بلند چوٹی پر کھڑا محسوس کر رہا تھا جیسے اس کے سارے خدشے دور ہو چکے ہوں۔ وہ ارادہ کر چکا تھا کہ وہ گاو¿ں میں ہونے والی پراسرار وارداتوں کے پیچھے چھپے عناصر کو بے نقاب کرے گا اور اس کے لیے ایک جگہ کا تفصیلی معائنہ کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کا دل مطمئن تھا کہ جس اچھے کام کی ابتدا وہ کرنے جا رہا تھا اس میں اسکی معاون وہ ذات ہے جو سب سے طاقتور ہے۔

عنصر نے ماسٹرحمید کو اپنی ذہنی کیفیت سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر وہ یہ باتیں اپنے والدین کو بتائے گا تو یقینا وہ پریشان ہو جائیں گے۔ اس نے آج ریاست سے بھی یہ بات چھپائی تھی کہ وہ چوہدری عمردراز کی حویلی کیوں گیا تھا۔ دراصل اس کے ذہن میں ایک خیال کلبلا رہا تھا۔ چوہدری عمردراز کی حویلی میں جانے کا بہانہ بنا تو اس نے وہاں جانے میں دیر نہ لگائی۔ البتہ وہاں اس کی ٹارچ کی موجودگی نے اس کے خیال کو تقویت دی تھی۔ عنصر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی۔ اس نے ایک بار پھر نیلی حویلی جانے کا فیصلہ کر لیا۔

عنصر نے ریاست کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تو وہ تھرتھر کانپنے لگا۔

”تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ نیلی حویلی میں تمہارے تمام سوالوں کا جواب موجود ہے؟“

”مجھے یقین ہے۔ وہاں کچھ نہ کچھ ایسا ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔“

”کیا مطلب؟“

ریاست نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔

”مطلب یہ کہ نیلی حویلی کی ایک بدروح کو شاید میں جانتا ہوں۔“

”کیا کہہ رہے ہو؟“

ریاست حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔

”وہی جو تم سن رہے ہو۔ اور میرے دل میں بڑی خواہش ہے کہ میں اسے ایک بار پھر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھوں۔“

عنصر نے آنکھیں بند کرتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا۔

”تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ تم چھوٹی چوہدرانی کے بھوت سے ملنا چاہتے ہو۔“

ریاست ابھی تک حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔

”نہیں وہ کوئی اور ہے۔“

عنصر کی آنکھوں میں غیرمعمولی چمک ابھر آئی۔

”کک.... کون ہے وہ؟“

ریاست نے بوکھلائی آواز میں پوچھا۔

”میں جو کہنے جا رہا ہوں اسے نہایت غور سے سنو۔ شاید تم میری بات کا یقین نہ کرو۔ مجھے بھی اس کی صداقت کا محض گمان ہی ہے۔ اسی لیے اس کی سچائی جاننے کے لیے میں نے نیلی حویلی میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔“

عنصر گہری سانس لے کر خاموش ہو گیا۔

”بب.... بات تو بتائو۔“

ریاست نے جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر پینے لگا۔ اس کے ذہن میں یہی کشمکش چل رہی تھی کہ آخر عنصر کون سی بات کرنے والا ہے۔ ادھر عنصر بھی اپنے ہی خیالات میں گم تھا کہ بات کا سرا کہاں سے ڈھونڈے۔

”تمہیں وہ بدروح یاد ہے جسے دیکھ کر ہم بے ہوش ہوئے تھے؟“

ریاست نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

”مجھے لگتا ہے وہ کوئی بدروح نہیں بلکہ چوہدری عمردراز کا ملازم تھا۔“

عنصر کی بات سن کر ریاست کو ایسے لگا جیسے کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر انگلیاں سوئچ بورڈ میں گھسیڑ دی ہیں۔ پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ فرش سے ٹکرایا، چھناکے کی آواز ابھری اور اس کی کرچیاں بکھر گئیں۔

عنصر نے اس کا ردعمل نظرانداز کرکے اپنی بات جاری رکھی۔

”یقینا اب تمہارے ذہن میں یہ سوال ہو گا کہ یہ سب میں کس بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ اس بدروح کو دیکھ کر میرے بھی اوسان خطا ہو گئے تھے لیکن بیہوش ہونے سے پہلے میں نے ایک ایسی بات نوٹ کی تھی جو مجھے ابھی تک چین نہیں لینے دے رہی۔ اس بدروح کے سر سے خون کے سرخ سرخ قطرے ٹپک رہے تھے جس کی وجہ سے اس کے بال جلد کے ساتھ چپک گئے تھے۔ ہوش کھونے سے پہلے مجھے اچھی طرح یاد ہے میری نظر اس کے بائیں کان پر پڑی تھی۔ اس بدروح کا کان ہوبہو چوہدری عمردراز کے ملازم کے کان جیسا تھا جسے لوگوں کے بقول کسی بدروح نے چبایا ہے اور کل میں چوہدری عمردراز کی حویلی اس ملازم کو ہی دیکھنے گیا تھا لیکن وہاں ٹارچ کی موجودگی نے میرے خیال کو تقویت دی ہے۔“

عنصر نے کچھ دیر توقف کیا اور ریاست کی جانب دیکھا جو ابھی تک اسے کھوئی کھوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

”کیا بدروحیں ایک دوسرے کا کان نہیں چبا سکتیں۔ یہاں پر انسان انسان کے کان کھانے سے باز نہیں آتے اور بدروحیں تو زیادہ بدتمیز ہوتی ہوں گی وہ کانوں کے ساتھ پتا نہیں کیا کیا کھا جاتی ہوں گی۔“

عنصر ریاست کے معصومانہ ردعمل پر بے ساختہ ہنس پڑا۔

”میں اتنی سنجیدہ بات کر رہا ہوں اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے۔“

”بھائی تم بھی تو میرے ساتھ مذاق ہی کر رہے ہو۔ اچھے بھلے انسان تھے یونان جا کر آئن سٹائن بن گئے۔ سراغ رسانی کا اتنا ہی شوق ہے تو محکمہ پولیس میں بھرتی کیوں نہیں ہو جاتے۔“

ریاست نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا۔

”یار میں مذاق نہیں کر رہا۔ مجھے گمان ہے کہ وہ بدروح چوہدری عمردراز کا ملازم ماکھا تھا اور اس زاویے سے سوچنے کی میری پاس ایک معقول وجہ یہ بھی ہے کہ میری ٹارچ چوہدری عمردراز کی حویلی سے ملی تھی۔ کیا تم یہ بات بھول گئے ہو؟ دوسری بات یہ کہ مجھے لگتا ہے کہ میرے گھر چوری بھی چوہدری عمردراز ہی نے کرائی ہے۔ ایک دن پہلے میری اس سے بحث ہوئی اور اگلے ہی دن میرے گھر چور آ دھمکے۔ اور چاچے فرمان کی بیٹی پروین کو بھول گئے۔ تم نے ہی مجھے بتایا تھا کہ چوہدری عمردراز نے رشتہ نہ دینے پر چاچے فرمان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس بے چاری کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ابھی تک پتا نہیں چل سکا۔ ان حقائق کی بنیاد پر میرا دل کہتا ہے کہ چوہدری عمردراز اپنے چیلوں کے ساتھ کوئی بہت بڑا کھیل کھیل رہا ہے اور اس سب کا نیلی حویلی سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے جسے وہ دنیا والوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔“

عنصر نے سنجیدگی سے کہا۔

”میں نہیں جانتا تیرے دماغ میں کیا ہے۔ بدروحوں سے ملنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اکیلا جا لیکن مجھے اس معاملے سے دُور رکھ۔ تجھے شاید اندازہ نہیں نیلی حویلی جانے کا مطلب کیا ہے؟“

ریاست نے گھبرا کر کہا۔

”یار ریاست ! جب تک میں ان باتوں کی تہہ نہیں پہنچتا مجھے چین نہیں ملے گا۔ تم میری فطرت سے واقف ہو۔ چوہدری عمردراز نے میری غیرموجودگی میں میرے گھر والوں کا جینا محال کیے رکھا اور پھر چوری بھی کرائی اور ابا کو زخمی بھی کیا۔ اس لیے میں نے چوہدری عمردراز کی اصلیت جاننے اور اسے زمانے کے سامنے لانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ جہاں تک زندگی اور موت کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ موت تو ہر وقت منہ کھولے انسان کے پیچھے رہتی ہے۔ اسے بس موقعے کی تلاش ہوتی ہے اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ابھی میں اتنی جلدی نہیں مروں گا۔ ابھی تو تم نے اپنے بھائی کی بارات کے آگے ناچنا بھی ہے۔“

عنصر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”بھائی کی بارات ؟ مگر میرا تو کوئی بھائی نہیں ہے؟“

ریاست نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔

”بیوقوف !کیا میں تمہارا دشمن ہوں؟میں اپنی بات کر رہا ہوں۔“

عنصر نے غصے سے کہا۔

”کیوں مجھے پاگل بنا رہے ہو۔ نہ تم نے دلہن دیکھی ہے نہ تمہاری منگنی ہوئی ہے تو بارات کہاں سے آ گئی؟“

ریاست نے پوائنٹ مارا۔

”اسی لیے تو نیلی حویلی جا رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے وہاں کوئی خوبصورت بدروح پسند آ گئی تو اسی سے شادی کر لوں گا۔“

عنصر بھی مذاق پر اتر آیا۔

”بدروح بھی اور خوبصورت بھی۔ واہ مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟“

ریاست نے اپنا ہاتھ گھماتے ہوئے کہا۔

”عمردین کی بات یاد نہیں ہے تجھے۔ اس نے کہا تھا جس لڑکی کو اس نے نیلی حویلی کے گیٹ پر دیکھا تھا وہ بہت خوبصورت تھی۔“

عنصر نے اسے یاد دلایا۔

”ہار یار یہ بات تو میں بھول ہی گیا تھا۔“

ریاست نے پھر سر کھجاتے ہوئے کہا۔

”لیکن نیلی حویلی کے اندر تم جاﺅ گے کیونکہ مجھے تو بدروح مل چکی ہے۔“

اس نے بے دھیانی میں بھابی کو بدروح کہہ دیا۔

”اچھا تو بھابی بدروح ہے۔ بتاتا ہوں ابھی بھابی کو۔“

عنصر نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”یار میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔ اپنی بھابی کو مت بتانا کہ میں نے اُسے بدروح کہا ہے۔“

ریاست نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں کہا۔

”ابھی تو میں ڈریکولا والی بات بھی نہیں بھولا اور تم نے آج بھابی کو بدروح بنا دیا۔ آج میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ بھابی کو آنے دو ذرا۔“

عنصر نے مصنوعی غصے میں کہا۔

”اپنی بھابی کو مت بتانا یار۔ اس کے بدلے میں تمہارے ساتھ نیلی حویلی جانے کو تیار ہوں۔“

ریاست نے گھبراہٹ میں ہامی بھر لی اور اس سے جان چھڑانے میں ہی عافیت جانی۔

”نہیں اب تو میں بھابی کو بتا کر رہوں گا۔ بھابی....!“

عنصر نے اونچی آواز لگائی تو بھابی سچ مچ کمرے میں آ کھڑی ہوئیں۔ وہ کسی کام کے سلسلے میں اِدھر ہی آ رہی تھیں۔

انہیں دیکھ کر ریاست گھبرا گیا۔

”جی عنصر بھائی ! آپ بلا رہے تھے۔ آپ کب آئے ؟گھر میں سب کیسے ہیں؟ اوہ آپ نے آج پھر گلاس توڑ دیا۔“

بھابی شاید کسی چیز کی تلاش میں ادھر ہی آ رہی تھیں اور عنصر کے بعد ان کی نظر ریاست کے قدموں میں بکھرے شیشے کے ٹکڑوں پر پڑ گئی تھی۔

”مت پوچھو بیگم کن حالات میں یہ گلاس ٹوٹا ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں .... کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ روپے۔ “

”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔“

عنصر نے تصحیح کی۔

”اس محاورے پر تمہیں میری تصحیح نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آنوں کا استعمال بند ہوئے عرصہ بیت چکا ہے اور اب روپوں کا زمانہ ہے۔“

ریاست نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔

”کیوں تصحیح نہ کروں۔ جب غلطی کرو گے تو درست کرنا میرا فرض ہے۔“

عنصر نے کہا تو بھابی نے اس کی بات کی تائید کی۔

”ان کی باتیں تو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ آپ سنائیں عنصر بھائی۔ ماسٹر صاحب اور خالہ جی کیسے ہیں۔“

”اللہ کا شکر ہے بھابی! سب ٹھیک ہیں۔ وہ میں کہنا چاہتا تھا کہ ہم دونوں آج رات کا کھانا باہر کھانے جائیں گے اس لیے کچھ دیر ہو جائے گی۔ آپ پریشان نہ ہونا۔“

عنصر نے بات پلٹی تو ریاست کی جان میں جان آ گئی۔

”اچھا ! بس اتنی بات ہے ۔ عنصر بھائی کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری آپ کی ہے اور ہاں آتے ہوئے میرے لیے دہی بھلے لیتے آیئے گا۔“

بھابی نے مسکرا کر ریاست کو کہا۔

”جی بیگم صاحبہ ٹھیک ہے۔ کوئی اور حکم؟“

ریاست نے مودبانہ لہجے میں کہا تو بھابی ہنستی ہوئی باہر چلی گئیں۔ ریاست کا انداز دیکھ کر عنصر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔

”بیگم کی خدمت کرنا چاہیے یار۔ ویسے بھی سیانے کہتے ہیں خدمت میں عظمت ہے۔ “

عنصر کے بولنے سے پہلے ہی ریاست نے بیگم کے سامنے مودبانہ انداز اختیار کرنے کی وضاحت کر دی۔

”جی جی! سیانے کہتے ہیں محنت میں عظمت ہے۔ تمہاری بات سن کر وہ بھی اپنا سر پیٹ رہے ہوں گے۔ ویسے اس موقع پر ایک ہی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے اور وہ ہے جورو کا غلام۔“

عنصر نے زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

”اچھا زیادہ باتیں نہ کرو۔ اپنا پلان بتائو۔“

ریاست نے منہ بنا کر کہا تو عنصر نے اسے اپنے منصوبے کی تفصیلات بتانا شروع کر دیں۔ ریاست کا کام کچھ خطرناک تھا مگر اسے صرف وہی کر سکتا تھا۔ عنصر سارا منصوبہ سمجھا کر گھر واپس آگیا۔دونوں دوستوں کو اب بس آدھی رات ہونے کا انتظار تھا کیونکہ ان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا وہی سب سے مناسب وقت تھا۔ ریاست اپنی دکان پر چلا گیا جبکہ عنصر نے گھر جا کر باقی تمام وقت اماں کے ساتھ گزارا۔ بالآخر دن ڈھل گیا اور رات نے کالی چادر تان لی۔

ریاست عنصر کی طرف آیا تو دونوں دوست کمرے میں جا بیٹھے۔ رات تیزی سے کٹتی جا رہی تھی۔ ان کی نظریں گھڑیال پر ہی ٹکی تھیں جیسے ہی اس نے اپنی مدھر ٹیون بجا کر انہیں بارہ بجنے کی اطلاع دی، دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔ عنصر نے اپنے کمرے کے ساتھ ملحقہ کمرے میں جا کر دیکھا اماں اور ابا گہری نیند سو رہے تھے۔ وہ دبے پائوں اندر گیا اور اماں کی پیشانی پر پیار سے بوسہ دیا اور دروازہ بند کر کے باہر نکل آیا۔

منصوبے کے مطابق ریاست نے کھیتوں میں سے ہو کر نیلی حویلی کے سامنے پگڈنڈی پر جانا تھا جبکہ عنصر نے حویلی میں عقبی سمت سے داخل ہونا تھا۔ ریاست نے عنصر سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور چل پڑا۔ عنصر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

عنصر دل ہی دل میں ریاست کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگا۔ وہ کسی صورت یہ گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ریاست کو کوئی نقصان پہنچے۔ اسے یقین تھا کہ ریاست اپنا کام اچھے طریقے سے کر لے گا۔ وہ کچھ ڈرپوک ضرور تھا لیکن عنصر جانتا تھا وہ اس پر جان چھڑکنے والا دوست ہے۔ اس لیے عنصر کو ہمیشہ سے اس کی دوستی پر فخر رہا ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے ریاست کے ساتھ بسر کیے لمحات کسی فلم کی مانند گزرنے لگے۔ عنصر خلوص دل سے دُعا مانگنے لگا۔

”یااللہ ! ریاست کی حفاظت فرما۔ وہ میرا سب سے اچھا دوست ہے۔ آج کے معرکے میں اسے سرخرو فرما۔ بری قوتوں سے اُسے اپنی امان میں رکھ۔“(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 16 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /نیلی حویلی