’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 16

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 16
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 16

  



وارث اور اکرم کی ہوشربا پوسٹ مارٹم رپورٹ ٹیبل پر پڑی تھی۔

رات کے بارہ بجنے والے تھے اور تھانیدار احسان اللہ اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وارث اور اکرم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان دونوں کی گردنیں کسی انتہائی بھاری اور تیزدھار آلے سے ایک ہی وار میں کاٹی گئی تھیں جس نے انہیں دوسرا سانس لینے کی مہلت ہی نہیں دی تھی۔ رپورٹ میں ایک اور چونکا دینے والی بات بھی درج تھی جس نے تھانیدار احسان اللہ کے ہوش اڑا دیے تھے اور وہ یہ کہ دونوں مرنے سے پہلے انتہائی خوف کے عالم میں تھے۔ ان کے اردگرد کا ماحول کچھ ایسا تھا کہ جس نے ان کے اعصاب پر بہت برا اثر ڈالا تھا۔ خوف کی اس شدید حالت نے ان کی رگوں میں خون کی روانی روک دی اور دل کی دھڑکن تھم گئی۔ اس کے فوراً بعد ان کی گردنیں انتہائی تیز دھار آلے سے ایک ہی وار میں تن سے جدا کر دی گئیں۔

رپورٹ کی تمام جزئیات کو تفصیل سے اور باربار پڑھنے کے بعد تھانیدار احسان اللہ نے اپنی پیشانی پر ابھرنے والے پسینے کے قطروں کو صاف کیا۔

”کیا نیلی حویلی واقعی آسیب زدہ ہے اور ان دونوں کو بدروحوں نے قتل کیا ہے؟“

اس کے ذہن میں باربار یہی سوال گردش کر رہا تھا۔

”میرا خیال ہے مجھے ایک بار اکیلے وہاں جا کر دیکھنا چاہیے۔“

اس نے خودکلامی کرتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالی۔ رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ اس نے سر پر ٹوپی سجائی اور تھانے کے صحن میں کھڑی موٹرسائیکل سٹارٹ کر کے چوکی کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں تعینات گارڈ اونگھ رہا تھا۔ اس نے اسے جگا کر اپنی موٹرسائیکل چوکی میں کھڑی کی اور نیلی حویلی کی جانب جانے والی پگڈنڈی پر قدم جما دیے۔

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 15 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

تھانیدار احسان اللہ چلتے چلتے بالآخر نیلی حویلی کے پاس پہنچ گیا۔ وہ یہاں تک بڑی احتیاط سے چھپتا چھپاتا آیا تھا تاکہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔ اس وقت بھی اس نے خود کو ایک بڑے درخت کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ اس نے حویلی کی جانب دیکھا۔ ہیبت ناک نیلی حویلی چاندنی رات میں گہری نیند سو رہی تھی لیکن تھانیدار احسان اللہ کو نہیں معلوم تھا کہ اس کی نحوست کچھ ہی دیر میں جاگ جائے گی۔ اس نے اپنے اردگرد ماحول کا جائزہ لیا اور پھر نیلی حویلی کی جانب دیکھا جیسے وہ یہ سوچ رہا ہو کہ اپنے اگلے اقدام کے طور پر اس کو اب کیا کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچتا اس کے کانوں میں کسی کی گھٹی گھٹی آواز داخل ہوئی۔ اس نے ایک بار پھر آس پاس کا جائزہ لیا لیکن ہر چیز ساکت تھی۔ اسے وقفے وقفے سے کسی کے کراہنے کی گھٹی گھٹی آواز آ رہی تھی۔ اس نے آواز کی سمت کا تعین کیا تو وہ نیلی حویلی کی بائیں جانب سے آ رہی تھی۔

تھانیدار احسان اللہ درختوں کی آڑ لیتا، بنا شور کیے، نہایت ہی غیرمحسوس طریقے سے آواز کا تعاقب کر رہا تھا۔ آواز کا منبع نیلی حویلی کے دائیں جانب موجود درختوں کا جھنڈ ہی تھا اس لیے وہ اسی سمت بڑھتا رہا۔ جب وہ درخت کے پیچھے چھپ چکا تو اب اسے آواز زیادہ واضح آنے لگی تھی۔ اس نے ہمت جمع کی اور درخت کی آڑ سے اپنا چہرہ آہستہ آہستہ باہر نکال کر دیکھا۔ سامنے کے منظر نے ایک لمحے کے لیے تو اس کی جان ہی نکال کر رکھ دی۔

ادھر ریاست بھی نیلی حویلی کی جانب جانے والے راستے پر پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا تو عنصر اور اُس کی جان بھی جا سکتی ہے۔ وہ کھیتوں میں ہوتا ہوا پگڈنڈی پر آ گیا۔ اس نے ٹارچ روشن کی اور خراماں خراماں چلنا شروع کر دیا۔ اگرچہ وہ بڑے اطمینان سے چل رہا تھا لیکن جوں جوں وہ نیلی حویلی کے قریب ہوتا جا رہا تھا توں توں اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔

”سوال خود سوچتا ہے اور امتحان کے لیے مجھے آگے کر دیتا ہے۔ عنصر تجھے خدا پوچھے۔ تیری یاری نے ہر بار برا پھنسایا۔ پہلے تو بدروحوں نے چھوڑ دیا تھا آج پکڑ لیا تو حال برا ہو گا۔“

ریاست منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا نیلی حویلی کی جانب گامزن تھا۔ نیلی حویلی کے باہر واقع چوکی پر پہنچا تو وہاں اسے چوہدری عمردراز کا کوئی بھی ملازم دکھائی نہ دیا۔

”حیرت ہے چوکی آج بھی خالی ہے۔ یہاں لوگ مر رہے ہیں اور اس کے ملازم ڈیوٹی ہی نہیں دیتے۔ کل جا کے چوہدری عمردراز کو ان کی شکایت لگاو¿ں گا۔“

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور آگے بڑھ گیا۔ نیلی حویلی کے قریب پہنچ کر اس نے ٹارچ بند کر کے جیب میں ڈال لی۔ ڈر کے مارے وہ نیلی حویلی کی جانب دیکھ نہیں رہا تھا۔ پھر اچانک اسے خیال آیا کہ عنصر نے عقبی سمت سے نیلی حویلی میں داخل ہونا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ پہنچ گیا ہو۔ یہ خیال آتے ہی اس نے نیلی حویلی کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ کانپ اُٹھا۔ نیلی حویلی رات کے وقت بذات خود بہت بڑے بھوت کی مانند لگ رہی تھی۔ اسے نیلی حویلی میں کوئی نظر نہ آیا۔ ہر طرف گہرا سکوت طاری تھا۔

”چلو میرا کام تو ختم ہوا۔ اب عنصر جانے اور بدروحیں۔“

ریاست اپنے آپ سے مخاطب ہوا اور نہایت اطمینان سے آگے بڑھ گیا۔ عنصر نے اس کے ذمے یہی کام لگایا تھا کہ وہ نیلی حویلی کے سامنے سے گزرے تاکہ چوکی میں موجود ملازموں کا دھیان بٹ جائے اور وہ آرام سے عقبی سمت سے نیلی حویلی میں داخل ہو سکے لیکن چوکی تو خالی تھی اس لیے اس کا کام ختم ہو چکا تھا۔ اس نے سوچا اس سے پہلے کہ کسی بدروح سے ٹکر ہو جائے اس سے پہلے ہی یہاں سے رفوچکر ہو جانے میں ہی عافیت ہے۔ اس نے ابھی چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ اس کے کانوں میں گھٹی گھٹی سی آواز پڑی جس نے اس کے پیر منجمد کر دیے۔ گھٹی گھٹی آواز سے لگ رہا تھا جیسے کسی کے منہ پر کپڑا باندھا گیا ہو اور وہ چیخنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ ڈر کے مارے اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے فوری طور پر اپنے آپ کو ایک درخت کے پیچھے چھپا لیا۔ گھٹی گھٹی سی آواز فضا میں وقفے وقفے سے تحلیل ہو رہی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ یونہی چھپا رہا۔ اسے اب یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ منصوبے کے مطابق آگے کے طرف بھاگے یا پیچھے کی طرف جائے اور عنصر کو اس صورتحال بارے آگاہ کرے۔ اس نے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو اسے عنصر کی تنبیہ یاد آ گئی۔ اس نے کہا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے پیچھے واپس نہیں آنا۔ اور ویسے بھی منصوبے کے مطابق ریاست کے پکی سڑک پر پہنچنے کے بعد عنصر نے بھی اسے وہیں ملنے کا کہا تھا۔

پھر اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ ہو سکتا ہے عنصر نیلی حویلی میں داخل ہو چکا ہو اس لیے مجھے ہر صورت آگے ہی جانا چاہیے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے ہر خطرے کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ درختوں کی آڑ لے کر وہ نہایت ہی غیر محسوس طریقے سے وہ نیلی حویلی کے بائیں جانب موجود درختوں کے جھنڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا توں توں آواز واضح ہوتی جا رہی تھی۔ اس نے درخت کی آڑ لے کر سانس درست کی اور ہمت کر کے باہر جھانکا تو اسے اپنے پیروں تلے زمین نکلتی محسوس ہوئی۔

سامنے والے درخت کے ساتھ کسی کو رسیوں کی مدد سے کس کر باندھا گیا تھا۔ اس شخص کے بالکل سامنے چار بدروحیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔ دو اس شخص کے دائیں جانب کھڑی تھیں جبکہ دو اس کی بائیں جانب لیکن انہوں نے اپنے سر جھکا رکھے تھے۔ انہوں نے کالا سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا اور سر پر ہڈ نما بڑی سے ٹوپی نے ان کے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ان کا لباس اتنا ڈھیلا ڈھالا تھا کہ ہاتھ پاو¿ں حتی کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔

ریاست کے جسم میں خوف کی لہر سرایت کر گئی۔ حبس کے موسم میں بھی اس کا جسم سرد پڑنے لگا تھا۔ اس نے پھر ہمت جمع کر کے سامنے کا منظر دیکھنے کی کوشش کی۔ چاندنی رات میں اگرچہ تمام مناظر واضح تھے لیکن پھر بھی وہ درخت کے ساتھ بندھے شخص کو پہچاننے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ اس کے منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا۔ اس لیے جب بھی وہ چیخنے چلانے کی کوشش کرتا تو اس کے گلے سے گھٹی گھٹی آواز ہی نکل رہی تھی۔

دوسری جانب تھانیدار احسان اللہ بھی درخت کی آڑ لے کر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعی بدروحوں کا بھی کوئی وجود ہوتا ہے۔ اس شخص کے دائیں بائیں بدروحیں سروں کو جھکائے ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے انہیں کسی کے آنے کا انتظار ہو۔ تھانیدار احسان اللہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اچانک فضا میں گھنگھرو¿ں کی آواز ابھری۔

”چھن چھن....چھن چھن....چھن چھن چھن۔“

گھنگھرو¿ں کی آواز حویلی کے اندر سے آ رہی تھی لیکن اس کے ساتھ ایک اور آواز بھی تھی جیسے کوئی لوہے کی بھاری چیز گھسیٹ رہا ہو۔ آواز دم بدم نیلی حویلی کے گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ تھانیدار احسان اللہ اور عنصر دونوں ایک دوسرے کی موجودگی سے بالکل بے خبر سہمے سہمے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ نیلی حویلی کا بھاری بھرکم آہنی گیٹ یکدم کھلا اور اگلے منظر نے ان کے اوسان مزید خطا کر دیے۔ ایک بدروح بہت بڑے کلہاڑے کو زمین پر گھسیٹتی ہوئی درخت پر بندھے شخص کی جانب بڑھ رہی تھی۔ گھنگھرو بھی اس نے باندھ رکھے تھے۔ اسے دیکھ کر درخت کے ساتھ بندھا شخص زور زور سے ہلنے لگا۔ اسے اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔

بدروح بھاری بھرکم کلہاڑے کو گھسیٹتی ہوئی اس کے قریب پہنچ گئی تو پہلی سے کھڑی بدروحوں میں سے کسی نے اس سے کوئی بات کی جسے سن کر بعد میں آنے والی بدروح نے خوفناک قہقہہ لگایا۔ اس کے بعد سب بدروحیں شیطانی قہقہے لگانی لگیں۔ ان کے مکروہ شیطانی قہقہوں کی بدولت ماحول پر چھائی خاموشی ٹوٹ گئی۔ اچانک بڑی بدروح خاموش ہوئی تو دوسریوں کے قہقہے بھی بند ہو گئے۔ ایک بدروح نے آگے بڑھ کر بندھے ہوئے شخص کے منہ سے کپڑا اتار دیا۔ بڑی بدروح نے بھاری بھرکم کلہاڑا اپنے سر سے بلند کیا تو بندھا ہوا شخص دلدوز چیخیں مارنے لگا۔ ریاست نے اسے پہچان لیا وہ گاو¿ں کا ہی ایک لاوارث پاگل شخص تھا جو پتہ نہیں کس طرح ان کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ اس کی بلند آہنگ چیخیں سن کر نیلی حویلی کے پیپل کے درخت اور آس پاس موجود درختوں پر بیٹھی سیکڑوں چمگادڑیں چیختی چنگھاڑتی فضا میں چکر کاٹنے لگیں۔ جیسے وہ بھی اس شخص کی موت کے منظر سے خوب لطف اندوز ہو رہی ہوں۔

بڑی بدروح نے کلہاڑا اپنے سر سے بھی بلند کر لیا پھر ایک جھٹکے سے اس نے اسے گھمایا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی گردن اڑ کر دور جا گری اور اس کا تیزدھار کلہاڑا درخت کو چیرتا ہوا اس میں دھنس گیا۔ ریاست نے یہ منظر دیکھ کر بمشکل اپنی چیخ ضبط کی۔ تھانیدار احسان اللہ بھی یہ روح فرسا منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنا پستول نکالنے کے لیے بیلٹ پر ہاتھ رکھا تو معلوم ہوا کہ وہ جلدی جلدی میں پستول تھانے ہی بھول آیا ہے۔ تھانیدار احسان اللہ مزید کارروائی کے لیے سوچ ہی تھا کہ ایک بڑی سی چمگادڑ نے اس پر حملہ کر دیا۔ تھانیدار احسان اللہ اس کے وار سے بچنے کے لیے نیچے جھکا تو توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پیچھے کی جانب ہی لڑھک گیا۔ چمگادڑ نے اس کے چہرے پر بری طرح پنجے مارے تھے۔ چمگادڑوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ انسانوں کی آنکھوں پر حملہ کرتی ہیں۔ بہرحال اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ چمگادڑ کے حملے میں اس کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ اسی وقت بادل گرجنے لگا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ جب تک اس کے اوسان بحال ہوئے تب تک بدروحیں غائب ہو چکی تھیں۔ نیلی حویلی کا دروازہ بھی بند ہو چکا تھا۔ اتنے خوفناک مشن کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اب واپس جانے میں ہی بہتری ہے۔ صبح آ کر مزید کارروائی کروں گا۔ درختوں کی آڑ لے کر اس نے واپسی کی راہ لی۔

ادھر درخت کے پیچھے چھپے ریاست کی حالت بھی بہت ہی خراب تھی۔ جب ہرطرف خاموشی چھا گئی تو اس نے ڈرتے ڈرتے تھوڑی سی گردن باہر نکال کر دیکھا۔ درخت کے ساتھ اس شخص کی بنا سر کے لاش بندھی تھی۔ البتہ بدروحیں غائب ہو چکی تھیں۔ تیز بارش کی وجہ سے چمگادڑیں بھی اپنی اپنی کمین گاہوں میںجا چھپی تھیں۔ اس نے اللہ کا نام لیا اور پکی سڑک پر جانے کے لیے پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا اور دوڑ لگا دی۔ جتنی تیز وہ بھاگ سکتا تھا وہ بھاگتا رہا۔ اسے بس اتنا پتا تھا کہ اس نے اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لینا ہے۔ اندھادھند بھاگتے ہوئے اچانک اس کے سامنے بازو پھیلا کر ایک شخص کھڑا ہو گیا۔ ریاست اس نئی نازل ہونے والی مصیبت سے گھبرا گیا۔ لیکن وہ اتنی تیزی سے بھاگ رہا تھا کہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ایک دھماکے سے اس سے جا ٹکرایا۔ اس شخص کی چیخ بلند ہوئی اور وہ پگڈنڈی سے شڑاپ کی آواز کے ساتھ دھان کے کھیت میں جا گرا۔ ریاست نے اپنے حواس بحال کیے اور کی جانب دیکھا۔ وہ شخص بڑی مشکل سے کھڑا ہوا لیکن پائوں پھسلنے سے پھر نیچے گر گیا۔ ریاست نے اسے وہیں چھوڑا اور پھر دوڑ لگا دی۔(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 17 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /نیلی حویلی