تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ، جوزندگی بدل سکتاہے ۔۔۔قسط نمبر34

تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ، جوزندگی بدل سکتاہے ۔۔۔قسط نمبر34
تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ، جوزندگی بدل سکتاہے ۔۔۔قسط نمبر34

  

ہم آگے بڑھ رہے تھے کہ ایک جگہ پہنچ کر صالح نے مجھ سے کہا:

’’چلو اب کوثر کے VVIP لاؤنج میں چلتے ہیں۔‘‘

میں نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، مگر مجھے اندازہ تھا کہ صالح کیا کہہ رہا ہے۔ تاہم اس نے اپنی بات کی وضاحت خود ہی کردی:

’’آخرت کی کامیابی حاصل کرنے والوں کے دو درجات ہیں۔ ایک وہ جنھوں نے دین کو فرائض و واجبات کے درجے میں اختیار کیا۔ بندوں اور خالق کے حقوق ادا کیے اور خدا کے ہر ہر حکم کی پابندی کی۔ یہی لوگ جنت کی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ تھے جنھوں نے فرائض سے بڑھ کر قربانی کے مقام پر دین کو اختیار کیا۔ بدترین حالات اور مشکل ترین مواقع پر صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ نیکی اور خیر کے ہر کام میں سبقت اختیار کی۔ ہر حال میں حق کو اختیار کیا اور اس کے لیے ہر قیمت دی۔ خدا کے دین کی نصرت، اس کی نفل عبادت، اس کے بندوں پر خرچ اور ان کی خدمت کو اپنی زندگی بنالیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آج آخرت کے دن VIPs میں شامل کیے جائیں گے۔ ان کی نعمتیں، ان کے درجات، خدا سے ان کا قرب اور ان کا مقام و مرتبہ ہر چیز عام جنتیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/01-Jun-2020/1139283

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول، قسط نمبر 33 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ ایسا ہی ہے جیسا دنیا میں ہر معاشرے میں ایک عوام الناس کی کلاس ہوتی ہے اور ایک اشرافیہ یعنی elite اور ہائی جینٹری ہوا کرتی تھی۔ آج قیامت کے دن یہی ہورہا ہے۔ کامیاب عوام الناس کو میدان حشر کی سختی سے بچاکر حوض کوثر کے پرفضا علاقے میں ٹھہرایا گیا ہے اور جنت میں بھی انھیں اچھی جگہ ملے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ مگر اس سے بھی بلند ایک درجہ خدا کے مقربین کے لیے ہے۔ یہ اہل جنت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اس کی حقیقت تو جنت میں داخلے کے بعد ہی سامنے آئے گی، لیکن کوثر کے پاس بھی یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اعلیٰ درجے کے اہل جنت کی اقامت گاہ الگ بنائی جائے۔ ہم وہیں جارہے ہیں۔‘‘

وہ لمحہ بھر کے لیے ٹھہرا اور میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا:

’’کیوں کہ ہمارا عبد اللہ عام اہل جنت میں سے نہیں بلکہ ایک سردار اور ہر اعلیٰ مقام کا حقدار ہے۔‘‘

میں نے اس کی بات سن کر اپنا سر جھکادیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ایک ایسی جگہ داخل ہوئے جہاں کا حسن شاید الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتا تھا۔ جھیل کا برف کی مانند سفید اور بے آمیز پانی زمین کے فرش پر چاندنی کی طرح بچھا ہوا تھا۔ جھیل کی سطح پرسکون اور ہموار تھی اور اس کے دیکھنے سے ہی نگاہوں کو عجب طرح کی تسکین مل رہی تھی۔ جھیل کے کنارے ایسے چمک دار موتیوں کے بنے ہوئے تھے جو اندر سے خالی تھے۔ کنارے کے پاس انتہائی دبیز اور ملائم قالین بچھے ہوئے تھے جن پر چلتے ہوئے تلووں کو ناقابل بیان راحت مل رہی تھی۔ ان پر شاہانہ اور آرام دہ نشستیں موجود تھیں۔ شیشے سے زیادہ شفاف میزوں پر سونے اور چاندی کے گلاس ستاروں کی مانند جگمگا رہے تھے۔ جھیل سے ایسی مہک اٹھ رہی تھی جس سے مشام جان معطر ہوکر رہ گئے۔

میں نے ایک نشست سنبھالتے ہوئے صالح سے پوچھا:

’’یہ اتنی اچھی خوشبو کہاں سے آرہی ہے؟‘‘

’’حوض کی تہہ میں جو مٹی ہے وہ دنیا کی کسی بھی خوشبو سے زیادہ معطر ہے۔ اسی کا یہ اثر ہے۔‘‘

صالح نے جھیل سے ایک گلاس بھرا اور میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا:

’’مزے کرو۔‘‘

میں نے ایک گھونٹ لیا۔ دنیا میں میں نے اس کی صرف تشبیہات سنی تھیں، دودھ، شہد وغیرہ۔ مگر یہ ان سب سے کہیں زیادہ بہتر مشروب تھا۔ گرچہ میں پہلے بھی جامِ کوثر پی چکا تھا، مگر اس ماحول میں پینے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ باہر محشر میں سخت اور چلچلاتی دھوپ تھی مگر یہاں شام کے جھٹپٹے کا منظر تھا۔ ٹھنڈی، خنک اور سبک ہوا چل رہی تھی۔ بالکل سورج ڈوبنے سے پہلے کا سماں محسوس ہوتا تھا۔ سفید آسمان پر شفق کی سی لالی چھائی ہوئی تھی۔ یہ شفق کہیں گہری سرخ تھی، کہیں نارنجی اور کہیں زرد۔ آسمان کے یہ رنگ جھیل کے سفید پانی پر اپنا عکس یوں پھیلائے ہوئے تھے کہ گویا کوئی گوری چٹی دوشیزہ سر پر رنگ برنگا دوپٹہ پھیلائے ہوئے ہو۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی دلکش اور خوبصورت منظر تھا۔

میں نے اپنے اردگرد نظر ڈالی۔ مجھے یہ بالکل کسی پکنک پوائنٹ کا منظر لگ رہا تھا۔ لوگ ٹولیوں میں، تنہا تنہا اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اس جھیل یا حوض کے کنارے کھڑے اور بیٹھے اور آپس میں خوش گپیاں کررہے تھے۔ سب لوگ بے حد خوش اور مسرور نظر آتے تھے۔ ان کے چہروں پر پھیلا سکون و اطمینان یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ ان لوگوں نے پالا مار لیا ہے۔ یہ موت، دکھ، بیماری، غم اور تکلیف کے ہر امکان سے دامن چھڑا کر ابدی اور سچی خوشی کے بحر ناپیدا کنار کے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں۔

ختم نہ ہونے والی کامیابی، ماند نہ پڑنے والی خوشی، کم نہ ہونے والی لذتیں، فنا نہ ہونے والی زندگی اور واپس نہ لی جانے والی آسائشیں آج ان کے قدموں میں تھیں۔ کتنی کم محنت کرکے کتنا زیادہ صلہ ان لوگوں نے پالیا تھا۔ اس کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ان کے قہقہوں کی آوازیں دور دور تک سنی جارہی تھیں۔ ان کے چہروں کی مسکراہٹیں ہر طرف بہار بن کر چھارہی تھیں۔

انہیں دیکھ کر مجھے اپنے بیوی بچوں کا خیال آیا۔

صالح نے میرا خیال میرے چہرے پر پڑھ لیا۔ وہ بولا:

’’آؤ چلو لگے ہاتھوں تمھیں تمھارے گھر والوں سے بھی ملوادیتے ہیں۔ انھیں بھی یہیں بلوالیا گیا ہے۔‘‘

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -